شعور اور نصابی بگاڑ

amir rahdariکسی بھی ملک میں نصاب کی اہمیت شاید اس ملک کے آئین سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہوتی۔ کیونکہ ایک نصاب ہی اس بات کا تعین کرتا ہے کہ اس ملک کی اگلی نسل کس طرح کے نظریات پر عمل پیرا ہوگی۔ نصاب ہی کسی قوم کے شعور و آگہی کا تعین کرتا ہے اور ذہنی آبیاری کے ساتھ ساتھ مستقبل کی عمارت استوار کرتا ہے۔ پندرہویں اور سولہویں صدی میں یورپ میں شعور اور علم کا بہت بڑا انقلاب رونما ہوا۔ اس سے پہلے یورپ کے نصاب کی باگ دوڑ مذہبی اور روایتی حلقوں کے ہاتھ میں تھی لیکن پندرہویں صدی میں دینوی اور دنیاوی علوم کی راہیں جدا ہوئیں۔ فلسفے اور دینوی علوم پر کسی قسم کی بندش نہ رہی، مشاہدے، تجربے اور تحقیق کی نئی راہیں کھلیں اور ہر علم میں بے انتہا تیزی سے ترقی ہونے لگی۔ معاشرتی سائنسوں میں بھی نئے نظریات کی بدولت فرد انسانی کی اہمیت کا تصور پیدا ہوا یہی وہ عوامل تھے جب دراصل ایشیا اور یورپ کی راہیں بھی علم کے معاملے میں جدا ہوئیں۔ ایشیا میں شعور کی وسعت میں ذرا سی بھی گنجائش نہیں تھی اور یورپ شعور کی انتہاوں کو چھو رہا تھا۔ یورپی اقوام جس وقت فلسفہ، طب، ہئیت اور کیمیا کی نئی نئی راہیں کھوج رہی تھیں، بدقسمتی سے ہندوستان اس وقت گائے کھانے اور نہ کھانے کے جھگڑوں میں مگن تھا. اور افسوس تو یہ ہے کہ ہم آج بھی فلسفہ و سائنس کو انہی کے نظریے کے طور پر پڑھ رہے ہیں. جون ایلیا نے کہا تھا، ’فلسفہ و سائنس کو فلسفہ و سائنس کی کتابوں سے پڑھنے والی قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں۔‘
ہم نے پروفیسر تو پیدا کر لئے لیکن محقق اور سائنسدان پیدا نہ کرسکے۔ دوسروں کے بنائے گئے نظریات کو رٹا لگا کر ہم سمجھتے ہیں کہ اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔ ہم نے دوسروں کے تخلیقی نظریات کو حفظ کر لیا اور ان کے مقتدی اور مقلد بن گئے لیکن اپنی طرف سے ایک نظریہ تک نہ پیش کر سکے۔ جنگ آزادی اور پھر تقسیم ہند جیسے واقعات نے بھی ہم پر کوئی گہرا اثر نہ چھوڑا اور جو چند ترقی پسند تحریکیں شروع ہوئیں ان کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ بدقسمتی سے ہم نصاب کے معاملے میں ہمیشہ سے بانجھ رہے ہیں. اب تو بانجھ پن مستقل ہوچکا ہے. ہمارا نصاب ویسے تو اپنے بچپن سے ہی گونگا بہرا رہا ہے لیکن اصل افتاد اس پر 90ء کی دہائی میں ٹوٹی تھی۔ 1990ء تک پاکستان کا نصاب باہر سے درآمد کیا جاتا رہا۔ اسی کی دہائی میں پاکستان کی ایک مشہور تنظیم جو کہ اب پاکستان کے بیشتر انگلش میڈیم سکول چلا رہی ہے، نے ہانگ کانگ سے پرائمری کا نصاب منگوایا۔ اس میں ایک کہانی میں ایک کتے کا نام ’ٹیپو‘ تھا۔ جیسے ہی ملاں اور تشدد پسند عناصر کی نظر اس کہانی پر پڑی تو ملک میں ایک طوفان پربا ہو گیا، کتابیں جلائی گئیں،املاک جلائی گئیں۔ آخر کار درآمدی نصاب کو نہ صرف ترک کرنا پڑا بلکہ یہیں سے ملا اور اسٹیبلشمنٹ نے تعلیمی نصاب بھی اپنی تحویل میں لے لیا۔ اوپر سے ضیاء کی اسلامائزیشن نے پہلے ہی نصاب کو چار چاند لگا رکھے تھے، ہر طرف مدرسوں کی بھرمار تھی جن میں صرف دینی علوم پڑھانا ہی فرض تھا۔ یوں اگر جائزہ لیا جائے تو ستر اسی اور نوے کی دہائی نے ہمارے نصاب کی صحیح معنوں میں کمر توڑی ہے اور آج تک ہمارا نصاب اپنے پاؤں پہ کھڑا نہیں ہو پایا۔
پچھلے ستر برس سے اسلامی آئیڈیالوجی اور نظریہ پاکستان، اسٹیبلشمنٹ کا سب سے بڑا ہتھیار رہا ہے جہاں کہیں کسی نے ان حدود کے باہر قدم رکھنے کی کوشش کی وہیں اس کے سامنے مختلف رکاوٹیں حائل کردی گئیں۔ ہمارے نصاب میں ایک امر یہ بھی توجہ طلب رہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ بچوں کے ذہنوں کی آبیاری جنگی ہیروز کے قصوں سے کی، ہم نے کئی ایسے برآمدی ہیروز کو نصاب کا حصہ بنایا ہوا ہے جن کا کام صرف جنگ و قتال تھا۔ ہم نے بچوں کے ذہنوں میں شروع سے ہی ایسے نظریات ٹھونسے ہیں کہ وہ بچپن ہی سے جنگ و قتال کے دلدادہ بن جاتے ہیں۔ کسی بھی نصاب کی ناکامی کی اس سے بڑی دلیل کیا ہوگی کہ تیسری جماعت کا بچہ بھی جنگ، قتل، خون اور تلوار جیسے الفاظ سے واقف ہو، اوپر سے ہم نے نصاب کے ہر شعبے کو وہ مذہبی چولا پہنایا ہوا ہے جو اب اتارنا ناممکن نظر آتا ہے. اسلامیات، معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان تک تو بات پھر بھی قابل قبول ہے لیکن انگلش، پنجابی، فارسی، عربی اور اردو جو کہ خالص لسانی مضامین ہیں ان میں بھی ہمارا برآمدی ہیرو دندناتا پھر رہا ہے۔ یوں ہم نصاب میں لیڈر بننے کی بجائے غلام بننے کا کلیہ اپنائے ہوئے ہیں اور اگر آج ہم لسانی کتابوں میں بھی تحریکی کہانیاں اور مذہبی قصے پڑھیں تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ ہماری درسی کتب میں اچھوتے، تحقیقی اور تخلیقی خیالات کی عدم موجودگی اور مجاہدانہ خیالات و نظریات کی بھرمار کے سبب، بچے کا ذہن صرف یہی سمجھ پاتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز تو دریافت اور ایجاد ہو چکی ہے اور اب ایسا کچھ بچا ہی نہیں جسے وہ دریافت یا ایجاد کر سکیں اس لئے صرف شعبہ مجاہدین ہی ایک ایسا شعبہ بچتا ہے جس میں وہ شمولیت اختیار کر سکتے ہیں اور یوں ہر سال ہمارے سکولوں سے سائنسدانوں، محققین اور ماہرین کی بجائے مجاہدین کی فوج برآمد ہوتی ہے۔ ماشاء اللہ اب تو ہماری مجاہد فیکٹری کافی خود کفیل ہو چکی ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ سائنسی بنیادوں پہ قائم معاشرہ ہمیشہ متحرک رہتا ہے اور مذہبی معاشرہ ہمیشہ جمود کا شکار رہتا ہے۔نصاب کے جمود نے معاشرے کو بھی جمود کا شکار بنا دیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ نصاب میں تسلیم شدہ ثقافتی اقدار کی بجائے ٹھونسے گئے نظریات کی بھرمار ہے جن کی بدولت آج کی نسل دلائل سے زیادہ فرسودہ روایات و حکایات پر یقین رکھتی ہے۔ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی ہماری دوغلی پالیسی کارفرما ہے۔ یوں تو ہم 712 ء میں محمد بن قاسم کی آمد کی خوشخبری سناتے ہیں لیکن پھر پورا ایک ہزار سال تاریخ سے مکھن سے بال کی طرح نکال باہر کرتے ہیں۔ تاریخ کی یہ خاموشی بھی بہت سے سوالوں کو جنم دیتی ہے. بچوں کو یک طرفہ تاریخ پڑھانے سے شاید بنیادی مقاصد تو حاصل کر لیے جاتے ہوں لیکن جب بھولے سے کوئی نوجوان تصویر کا دوسرا رخ دیکھتا ہے تو اسے پہلے سے پڑھائی گئی تاریخ جھوٹ لگنے لگتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ نصاب میں تاریخ کے دونوں رخ دکھائے جائیں تاکہ ایک بچہ دونوں کا خود موازنہ کر سکے۔ نصابی بگاڑ سے ہمارا ادب بھی نہ بچ سکا۔ آزادی سے پہلے سرسید احمد خان نے تحریک علی گڑھ کا آغاز کیا، جو دراصل ترقی پسند تحریک ہی تھی۔ سرسید نے اپنے نظریات و افکار میں سائنسی تعلیم کو ضروری قرار دیا ہے۔ سرسید کے ہم عصر حالی، مولانا آزاد، شبلی، اور ڈپٹی نذیر احمد بھی اس تحریک کے روح رواں تھے لیکن انگریزی اور سائنس و فلسفہ کی تعلیم کا پرچار کرنے پر اس تحریک پر نقادوں نے دھاوا بول دیا۔ اس کے بعد رومانی تحریک نے ادب میں مذہب کو فوقیت دی۔ یہ بھی ایک المیہ رہا ہے کہ قرۃ العین حیدر جب تاریخی حقائق پہ مبنی ناول ’آگ کا دریا‘ لکھتی ہیں تو انہیں ملک بدر ہونا پڑتا ہے اور نسیم حجازی اساطیر پر مبنی تاریخی ناول لکھتے ہیں تو انہیں پذیرائی سے نوازا جاتا ہے۔ المختصر کسی بھی ملک میں نصاب کی اہمیت ایک بیج کی سی ہوتی ہے جیسا بیج بویا جاتا ہے درخت بھی ویسا اگتا ہے۔ آج جو بیج ہم بو رہے ہیں تو ان بیجوں سے پھل دار پودوں کی امید رکھنا دیوانے کا خواب ہی کہا جاسکتاہے۔

(عامر راہداری ایک صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں اور اظہار کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *