بلوچستان : آٹھ ہزار سے زائد دہشت گرد گرفتار

queta1پشاور آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد بلوچستان میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلے میں اب تک آٹھ ہزار سے زائد مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ بلوچستان اکبر حسین درانی نے کہا کہ گرفتار ہونیوالے دہشت گردوں میں اکثر کا تعلق مختلف کالعدم تنظیموں سے ہے۔سیکریٹری داخلہ بلوچستان اکبر حسین درانی کے مطابق صوبے میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت اٹھارہ سو چوالیس آپریشنز کیے گیے ہیں۔اکبر حسین درانی کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پولیس کے درمیان رابطے بھی بہتر ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ صوبے میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں گزشتہ دس سال کے دوران چھ سو سے زائد ایف سی، پانچ سو پولیس اور سو سے زائد لیویز اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ سیکریٹری داخلہ کے مطابق جب سے عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈالنے شروع کیے ہیں تب سے حالات بہتر ہوئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاک-افغان سرحد پر سکیورٹی کو مزید سخت کردیا گیا ہے تاکہ ہتھیاروں اور منشیات کی ترسیل کو روکا جاسکے۔ واضح رہے کہ 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک قومی ایکشن پلان مرتب کیا ہے جس کے تحت نہ صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ بڑھایا گیا ہے، بلکہ سزائے موت پر پابندی ختم کرکے ملک بھر کی جیلوں میں قید مجرموں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں۔ اس پلان کے تحت حکومت نے فوجی عدالتوں کو قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں 21ویں ترمیم کو بھی منظور کیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *