میں خاموشی پینٹ کرنا چاہتا ہوں!

abid mirایسا کیوں؟۔۔۔ اس کے جواب سے قبل ہم اپنے بزرگوار،گرامی وجاہت مسعود کے مباحثے کی اَور چلتے ہیں، جہاں سے اس بحث کا آغاز ہوا تھا۔
وجاہت صاحب کو میں ’استادِ گرامی‘ بھی کہتا ہوں، حالاں کہ میں خود کو مارکسی طالب علم کہتا ہوں، اور ہمارے ممدوح اس کے شدید ناقد۔ وجہ تسمیہ اس کی ان کی وہ تحریریں ہیں، جن سے ہم ایسے مبتدی سدا کچھ نہ کچھ سیکھتے رہتے ہیں۔ زبان کا رَس، مکالمے کی ادائی،دیوانگی اور فرزانگی کاملاپ، مخالفت سہنے کا یارا۔۔۔ اور بہت کچھ جو اُن کی تحریریں ہمیں سکھاتی رہی ہیں، سکھاتی رہتی ہیں۔ حتیٰ کہ ایک بلوچ دوست کے جواب میں ان کی اپنے ملک سے محبت سے بھری تحریر بھی ہمیں سکھاتی ہے کہ ، ماں کا ’کردار ‘خواہ کیسا ہی کیوں نہ، بچہ اس سے اُسی طرح پیار کرتا ہے، جیسے دنیا کے سبھی بچے اپنی ماؤں سے کرتے ہیں۔
گو کہ ہمارے ایک بزرگ کے بقول اِ ن دنوں انھیں ’جمہوری ڈائریا‘ ہوا ہوا ہے۔ جمہوریت سے ان کی بے پناہ اور غیر مشروط چاہ دیکھ کر اس خیال پر یقین پختہ ہوتا ہے کہ، محبت واقعی اندھی ہوتی ہے ۔
سو‘ استاد سے بحث کیسی۔ ایک مبتدی کا ،اپنے پیش رو سے مباحثہ کیسا۔ چھوٹا منہ اور بڑی بات۔۔۔ میں تو آپ کو صرف یہ بتانے آیا ہوں کہ آپ کے چاند پینٹ کرنے کی خواہش کے جواب میں، میں خاموشی کیوں پینٹ کرنا چاہتا ہوں ۔
آپ نے فرمایا؛’’ مجھے فخر ہے کہ میں اپنے ملک کے کسی بھی بڑے سے بڑے عہدے دار سے اختلاف کر سکتا ہوں، اس پر تنقید کر سکتا ہوں، مطالبہ کر سکتا ہوں۔‘‘
عرض یہ ہے کہ جس شخص کویہ شہری آزادیاں حاصل ہوں، اسے اپنے ملک اور اس ملک کا باعزت شہری ہونے پر فخر کرنے کا بجا طور پر حق حاصل ہے۔ مگر جب اسی ریاست کے ایک خطے کے شہری کے لیے مطالبے کا مطلب غداری، اختلاف کا مطلب گم شدگی، اور تنقید کا مطلب موت ہو تو اس کے لیے ریاست کے معنی کیا رہ جاتے ہیں۔۔۔ کبھی اس پر بھی سوچیے۔
آپ نے کہا، ’’پاکستانی شہری کی حیثیت سے مجھے مزاحمت اور جواب دہی کا اخلاقی جواز میسر ہے۔ میں انگریز وائسرائے سے جواب دہی نہیں کر سکتا تھا، بھٹو اور نواز شریف سے پنجہ آزمائی کر سکتا ہوں۔‘‘ عرض یہ ہے کہ جنھوں نے انگریز وائسرائے سے بھی جواب دہی کی ہو، اور بھٹو اور نوازشریف سے پنجہ آزمائی بھی، ان کے لیے وائسرے اور بھٹو یا نوازشریف میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟
چار آمروں کو سیاسی مرچوں کی دھونی سے اقتدار بدر کرنے کے دعوے کو تعلی کے سوا کیا کہا جائے۔۔۔ سوائے مشرف کے استثنیٰ کے کون سا آمر تھا جو آپ کی جدوجہد یا مرضی کے نتیجے میں اقتدار بدر ہوا۔ ایوب خان تب گھر روانہ ہوا جب مسلسل حکمرانی کے بعد اقتدار اسے گناہِ بے لذت محسوس ہونے لگا، اکہتر کا سانحہ بنگال نہ ہوتا تو کون کہہ سکتا ہے کہ یحییٰ خان نے اتنی ہی شرافت سے کوچہ اقتدار سے روانہ ہونا تھا، ضیا الحق کے جہاز کو آسماں برد کرنے کا فرمان سات سمندر پار سے نہ آتا، تو کس میں جرأت تھی کہ اس کے اقتدار کو ہلا بھی سکتا، حتیٰ کہ مشرف نے بھی اپنے پاؤں پہ خود کلہاڑی مارنے کی غلطی نہ کی ہوتی تو کس ہما و شما کے بس میں تھا، اسے گھر بھجوانا۔ جمہوریت اور پاکستان سے محبت آپ کا انفرادی حق سہی، مگر اس محبت میں سماجی حقائق کو یک رخا تو مت کیجیے صاحب۔
مجھے صدماتی حیرت ہوئی ،جب آپ نے بارہا ’پاکستان آزاد ہوا‘ کا فقرہ استعمال کیا۔ صاحب ،مورخہ14اگست،سن 1947ء سے قبل جس ملک کا کوئی وجود ہی نہ تھا، وہ کس کی قید میں تھا کہ آزاد ہوا؟ غلامی میں تو ہندوستان تھا، برصغیر تھا، بلوچستان تھا۔ پاکستان تو ’قائم ‘ ہوا، جسے ایک جگہ آپ نے شاید سہواً ’تشکیل پانا‘ قرار دیا ہے۔ اصطلاحات کا ایسا سہو، آپ سے متوقع نہیں۔ ہندوستان آزاد ہوا تھا، بلوچستان آزاد ہو اتھا،آپ تو ایک نئی ریاست کے’ قیام‘ کی جدوجہد کر رہے تھے، جو سن سینتالیس میں بالآخر ’قائم‘ ہو گئی۔ ’آزادی‘ اور ’قیام‘ کے مابین فرق کی توجیح میں کروں تو کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔۔۔
تاریخ کی غلطیاں درست کرنے کو آپ بھلے سعی لاحاصل سمجھتے ہوں اور ایک ’مفروضہ انصاف‘ کی سربلندی کے لیے ریاستی سرحدوں کو ازسر نو مرتب کرنے میں بھلے آپ کو کوئی دلچسپی نہ ہو، مگر ریاست کے بعض شہریوں کو اگر اس میں دلچسپی ہے، تو ان سے کیسے پیش آیا جائے گا؟ بعض دیوانے اگر سعی لاحاصل کی جستجو کو ہی اپنا’ حاصل‘ سمجھتے ہیں، تو ان کا علاج کیا ہو گا؟
آپ کی رائے میں قومی آزادیوں کا زمانہ گزر چکا۔ اب معاشی سرگرمیوں کے ذریعے سرحدوں کو غیر اہم بنانے کا عہد ہے۔ نیز یہ کہ ،سرحد کو غیر اہم بنانے کے لیے قانونی مساوات، معاشی انصاف اور سیاسی احترام بنیادی تقاضے ہیں۔
مگر جب ریاست کی سرحدیں ’نظریاتی ‘ بن جائیں، اور ان کی حفاظت کے لیے تمام تر آئینی و قانونی تقاضے بائے طاق رکھ دیے جائیں ، تو بعض ’سرکش شہریوں‘ کے پاس بغاوت کے سوا کیا رستہ رہ جاتا ہے!!
جب ریاست، عوام پر مقدم ہو جائے تو عوام کی حیثیت کیڑے مکوڑوں کی سی رہ جاتی ہے۔ قانونی مساوات،معاشی انصاف اور سیاسی احترام جیسی اصطلاحات لاکھ خوش کن سہی، مگر جب یہ ساری اصطلاحیں محض خواب بن کر رہ جائیں ، تو انھیں ’لینا‘ نہیں، چھیننا پڑتا ہے۔ اور بھوکے اور شکم سیر کی چھینا جھپٹی میں اخلاقیات دھری رہ جاتی ہے۔
تشدد کا جواب تشدد ہو سکتا ہے۔۔۔ مگر جب محض سیاسی اختلاف غداری کے طعنوں، گمشدگی کے عذاب، اور مسخ شدگی جیسی کریہہ صورت اختیار کر لے، تو ایسے وطن کے دفاع میں چاند پینٹ کرنے کی خواہش آپ کے نزدیک حب الوطنی ہو تو ہو، یہاں اسے بزدلی کہتے ہیں۔
آپ لاہور میں بیٹھ کر چے گویرا کی کتابیں پڑھ سکتے ہیں، میرے دیس میں تربت کے طالب علم سے یہی کتاب برآمد ہو تو اسے ملک دشمن مواد سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے لاہور میں کوئی مسخرہ مولوی اٹھ کر انقلاب کی باتیں کرتے ہوئے میڈیا کا پرائم ٹائم لے سکتا ہے، کشمور سے اِدھر اس لفظ کے معنی بدل جاتے ہیں، اور جس منہ میں یہ لفظ ہو، اسے ہمیشہ کے لیے بند کیے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔اس دھرتی کے کتنے جوان محض اس جرم میں پیوندِ خاک ہوئے ہیں کہ وہ ریاستی بیانیے سے مختلف کیوں سوچتے ہیں، مختلف کیوں بولتے ہیں، مختلف کیوں لکھتے ہیں!!
مجھ سے بات اور بحث سے قبل ہی جب میرے متعلق آپ کے رائے طے شدہ اور حتمی ہو، تو مکالمے کے کیا معنی رہ جاتے ہیں۔ سو‘ صاحب قصہ یہ ہے کہ سبھی لکھنے والے خواہ کسی بھی خطے اور زبان سے ہوں، چاند ہی پینٹ کرنا چاہتے ہیں ، جس کی کرنیں اس دھرتی کے ہر گوشے کو منور کریں۔۔۔مگر جب قلم پر قدغن، زبان پر تالے ہوں تو یہ سب بس رومانس ہی رہ جاتا ہے۔ جب آپ کسی بھی لمحے نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں گم شدگی ومسخ شدگی کی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہوں۔ جب آپ اپنے اسلاف کے قصے پڑھتے ہیں کہ جنھیں جمہوری جدوجہد کی پاداش میں الٹا لٹکا یا گیا، برف کی سلوں پر لٹایا گیا، شلواروں میں چوہے چھوڑے گئے، نامرد بنا دیا گیا۔۔۔اورانھی کی راہ پر چلتے ہوئے جب آپ کو اندھیری کوٹھڑی کے حوالے کر دیا جائے، بنا جرم بتائے آپ کی ماں بہن ایک کر دی جائے، ۔۔۔۔۔۔میں مرچیں ڈالی جائیں، فضلہ آپ کی خوراک بنے۔۔۔تب ریاست اور اس کا وجود تو کیا ‘یہ کائنات اپنا تمام تر حسن اور زندگی اپنے معنی کھو دیتی ہے۔
ہم جو بولنا چاہتے ہیں، بول نہیں سکتے، جو کہنا چاہتے ہیں، کہہ نہیں سکتے، جو لکھنا چاہتے ہیں لکھ نہیں سکتے۔۔۔ایک ایسے ملک سے آپ ضرور پیار کیجیے، اور چاند پینٹ کرنے کی کوشش کیجیے، مگر ہم تو ایسے میں محض زندہ رہنے کی سعی میں چپ کی چادر تان لینے پر کتفا کرتے ہیں۔ میری دھرتی کے معصوم بچے،میرے دل دار ساتھی، میرے پیارے میرے عزیز مزید کسی درندگی کا شکار نہ ہوں، اس لیے میں تو خاموشی پینٹ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔بدھا جیسی پُروقار اور متانت بھری خاموشی، جس کے بطن سے ایک متانت بھری نسل کے جنم لینے کی امید کے ساتھ میں اس کی مسلسل تخلیق میں منہمک رہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔ خاموش ہونا چاہتاہوں، اور آپ سے بھی اسی پُروقارخاموشی کے ساتھ ، میری بامعنی خاموشی کو سمجھنے کی خواہش رکھتا ہوں۔
بزرگوں نے کہا ہے، خاموشی بھی زبان رکھتی ہے!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *