نیب کے اہم مقدمات کی دوبارہ تفتیش کا فیصلہ

qamarقومی احتساب بیورو (نیب) نے اہم نوعیت کے کیسز کی نئے سرے سے تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات بھی شامل ہیں، ان میں سے کچھ مقدمات کا عدالت جزوی فیصلہ سنا چکی ہے۔

نیب کی جانب سے یہ فیصلہ گزشتہ روز بدھ کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا، جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ آیا ان مقدمات میں تفتیش کے عمل کو کس طرح سے منصفانہ بنایا جائے جس پر کوئی دباؤ اثر انداز نہ ہوسکے۔

لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف خورشید شاہ کے خلاف کرپشن کے دو مقدمات کی دوبارہ سے تفتیش کی جائے گی۔

قومی احتساب بیورو کے ترجمان رمضان ساجد کا کہنا ہے کہ نیب چیئرمن قمر زمان چوہدری نے ایک مشترکہ تفتیشی ٹیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ان مقدمات کی بھی دوبارہ سے تفتیش کرے گی جن  کا اسلام آباد اور راولپنڈی کی احتساب عدالتوں نے جزوی فیصلہ دے دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ٹیم بھرپور یقین دہانی کرائے گی کہ نئے سرے سے مقدامات کے مختلف کا جائزہ لیا جائے گا۔

رمضان ساجد نے چیئرمن نیب کی بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کی تفتیش کے دوران کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور ہر کیس میریٹ کی بنیاد پر نمٹایا جائے گا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زردای کے خلاف اسلام آباد اور راولپنڈی کی احتساب عدالت میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

اس سے قبل نیب نے گزشتہ تین سال سے بھی زائد عرصے سے زیرالتوا ان مقدمات کی نظرثانی کے لیے ایک اسپیشل کمیٹی تشکیل دی تھی۔

اس کمیٹی کے اراکین کے بارے میں بتاتے ہوئے نیب ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی نیب کے مختلف حکام پر مشتمل ہے۔

نیب ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی کے ان اراکین میں اکثر ایسے افراد ہیں جو اہم نوعیت کے ان مقدمات کی تفتیش میں پہلے سے ملوث نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف کچھ مقدمات میں جزوی طور پر فیصلہ کیا گیا تھا، اور ایک اہم کیس میں انہیں بری کردیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو امید ہے کہ آصف زرداری کو باقی مقدمات میں بھی بری کردیا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف نے منگل کے روز نیب کے چیئرمن قمر زمان چوہدری کی تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈز کو قمر زمان چوہدری کی بطور چیئرمن نیب تقرری کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

اپوزیشن میں مختلف حلقوں نئے نیب سربراہ کو وزیراعظم کا وفادار اور مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے درمیان ایک ڈیل قرار دیا تھا۔

بہت سے حلقوں کا خیال تھا کہ چوہدری قمرزمان کی نیب میں تعیناتی اس لیے کی گئی تاکہ نیب میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف زیرِ التوا مقدمات دوبارہ نہ کھولے جاسکیں۔

شریف برادران کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز، بیان کردہ ذرائع آمدنی سے کہیں زیادہ اثاثے رکھنے اور اتفاق فاؤنڈری کے نام پر لیے گئے قرضے کی عدم ادائیگی سے متعلق مقدمات شامل تھے۔

شریف برادران کے خلاف ان مقدمات کی کارروائی کو ایک احتساب عدالت نے 2001ء میں اس وقت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا تھا، جب شریف فیملی جلاوطن ہوچکی تھی۔

ان کی واپسی کے بعد 2007ء میں ان مقدمات کو دوبارہ کھولنے کی درخواست کو نیب نے منظور کرلیا تھا، لیکن 2010ء میں اس کی کارروائی اس لیے ملتوی کردی گئی تھی کہ عدالت نے ہدایت کی تھی کہ اگر نیب کے چیئرمین اپنے دستخط کے ساتھ ایک درخواست جمع کرائیں تو اس مقدمے کی سماعت شروع کی جاسکتی ہے۔ شریف برادران کے خلاف مقدمات میں حدیبیہ پیپر ملز ، بیان کردہ ذرائع آمدنی سے کہیں زیادہ اثاثے رکھنے اور اتفاق فاؤنڈری کے نام پر لیے گئے قرضے کی عدم ادائیگی سے متعلق مقدمات شامل تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ جمعے کو اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف چھ مقدمات کو ایک مرتبہ پھر کھول دیا تھا، جو اس سے قبل آصف علی زراری کو صدر کے عہدے کی وجہ سے حاصل استثنیٰ کی وجہ سے نیب ان مقدمات کو دوبارہ کھولنے سے قاصر تھا۔

آصف زرداری کو اپنے خلاف ان چھ کیسوں میں ایس جی ایس پی ایس آئی کمپنی سے کک بیکس اور کمیشن لینے، اے آر وائے گولڈ کو لائسنس جاری کر کے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے، عوامی ٹریکٹر سکیم کے تحت آرسس ٹریکٹروں کی خریداری پرغیر قانونی رشوت اور کمیشن کی وصولی، پری شپمنٹ کے لیے کوٹیکنا کو غیر قانونی کانٹریکٹ دینے، پاکستان سٹیل ملز کے سابق چیئرمین سجاد احمد سے کک بیکس وصول کرنے اور حیثیت سے زائد اثاثوں کے الزامات کا سامنا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *