حامد میرکی خدمت میں چند گزارشات

*

*

آپ نے ایک صحافی کے گھر جنم لیا، بھلے وقتوں میں صحافت شروع کی، اللہ تعالی نے آپ کو بے تحاشا صلاحیتوں سے نوازا، محنت اور لگن سے کام کرنے کے نتیجے میں آپ نے پاکستانی صحافت میں ایک نمایاں مقام حاصل کرلیا۔ بہت سے قومی و بین الاقوامی معاملات پہ میرے جیسے طالب علم آپ کے قلم سے نکلے الفاظ، کمان سے نکلے تیر اور کیپٹل ٹاک میں دکھائے جانے والے مناظر سے سیکھتے اور اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں ملٹری اسٹبلشمنٹ کے کردار، ملٹری اسٹبلشمنٹ کے حوالے سے آپ کے موقف، گم شدہ افراد اور بلوچستان ایشو پہ آپ کی جانب سے اٹھائی جانے والی آواز نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ ہمت، حوصلے اور جہدوجہد کا استعارہ ہے۔ مزید برآں مختلف اوقات میں مختلف سیاسی جماعتوں کے حوالے سے آپ نے معیاری تجزیے پیش کیے اور زمینی حقائق کی روشنی میں تنقید بھی کی اور توصیف بھی۔
اپنے کالم بتاریخ 17 ستمبر 2015 کو آپ نے پی کے 93 ضلع دیر میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے نتائج حوالے سے اپنا تجزیہ پیش کیا اور آپ کی تحریر کا خلاصہ یہ تھا کہ صحافتی برادری کے وہ سارے لوگ جو پیپلز پارٹی کے لٹ جانے، برباد ہو جانے اور نیست و نابود ہونے کی پیشن گوئی کر رہے تھے، وہ زمینی حقائق سے لاعلم اور اسلام آباد کی تخیلاتی دنیا میں قید ہیں۔ آپ نے پی کے 93 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار صاحبزادہ ثناء اللہ صاحب کی کامیابی کو پیپلز پارٹی کے دوسرے جنم کے طور پہ پیش کیا اور تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پیپلز پارٹی کے بارے میں ہر دور میں یہ کہا گیا کہ وہ ختم ہو گئی لیکن پییپلز پارٹی کم بیک کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے نظریات اور طرزِ سیاست سے اختلاف کرنے کے باوجود میں پیپلز پارٹی کو اس ملک کی ایک اہم سیاسی قوت مانتا ہوں اور آپ کی طرح میری خواہش بھی یہی ہے کہ سیاسی قوتیں مضبوط ہونی چاہئیں۔ لیکن۔۔۔ حضور۔۔۔ بصد احترام۔۔۔ عرض صرف یہ کرنا تھا کہ جس بنیاد پہ آپ نے پورا مقدمہ باندھا میری دانست میں وہ بنیاد درست نہیں۔
اول، مذکورہ بالا حلقے کی سیاست دو خاندانوں کے گرد گھومتی ہے، صاحبزادہ خاندان اور ملک برادری۔ صاحبزادہ صاحب کے خاندان کے نمایاں افراد میں سے ایک صاحبزادہ طارق اللہ صاحب ہیں جو گزشتہ شب آپ کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں شریک تھے اور دوسرے صاحبزادہ ثنا اللہ صاحب ہیں جو دو روز قبل پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پہ الیکشن جیتے۔ دوسری طرف ملک برادری سے ملک بہرام اور ملک جہانزیب نمایاں ہے۔ ملک بہرام جماعت اسلامی کے ایم پی اے تھے، جن کے نااہل ہونے کے نتیجے میں یہ نشست خالی ہوئی تھی اور ملک جہانزیب مسلم لیگ ن کے مقامی رہنما ہیں، بیٹا جن کا تحریک انصاف میں ہے۔ میرا یقین ہے کہ آپ کے پاس یہ معلومات ہونگی لیکن ریکارڈ کی درستگی کے لیے عرض کروں کہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے الیکشن جیتنے والے صاحبزادہ ثنا اللہ صاحب بھی جماعت اسلامی کے سابقہ رکن ہیں اور دیر کی مقامی سیاست کی وجہ سے علیحدہ ہوئے۔ عرض صرف یہ کرنا تھا کہ جس طرح لاڑکانہ میں امیدوار صرف دو ہوتے ہیں، بھٹو اور اینٹی بھٹو اسی طرح دیر میں بھی صرف دو طرح کا ووٹ پایا جاتا ہے، جماعت اسلامی کے ساتھ اور جماعت اسلامی کے خلاف۔ اب صاحبزادہ ثناءاللہ صاحب نے جماعت اسلامی کے خلاف پڑنے والے ووٹ کو اکٹھا کر لیا تو وہ جیت گئے، اس میں پیپلز پارٹی کی بحالی کہاں سے آ گئی، یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔
دوم، آپ نے دانستہ یا غیر دانستہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پیپلز پارٹی کے الیکشن جیتنے کی وجہ یہ تھی کہ پہلی بار خواتین ووٹ ڈالنے کے لیئے نکلیں اور انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کو خراجِ تحیسن پیش کیا۔ جناب۔۔۔ کس دنیا کی بات کرتے ہیں؟ آپ کے خیال میں جو خواتین پچھلے بیس سال سے ووٹ ڈالنے نہیں آئیں وہ جب پہلی بار نکلیں تو شعور کی اس منزل پہ براجمان تھیں کہ انہوں نے کِسے خراجِ تحسین پیش کرنا ہے اور کِسے نہیں؟ حضور۔۔۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ خواتین ووٹ ڈالنے ضرور آئیں لیکن ننانوے فیصد سے زائد خواتین نے ووٹ وہیں دیے جہاں ان کے گھر کے مردوں نے ووٹ دیے۔ آپ اس کو غلط کہہ سکتے ہیں، میں بھی غلط کہتا ہوں لیکن یہ زمینی حقیقت ہے اور اس کا انکار کرکے اگر کوئی دوسرا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاوے گی تو وہ علمی دیانت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ میں اس حوالے سے مزید کچھ کہے بغیر آپ کو یہ چیلنج کرتا ہوں کہ آپ اپنی ٹیم لیکر دیر جائیں، وہاں کی روایات و ثقافت کو زہن میں رکھتے ہوئے سائنسی بنیادوں پہ ایک سروے منعقد کرائیں اور میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ وہاں کی ستر فیصد سے زائد خواتین کو پاکستانی سیاست میں محترمہ کے کردار کا علم ہی نہیں ہوگا۔
اسی حوالے سے ایک گزارش یہ بھی کہ خراجِ تحسین پیش کیا جاتا اگر پیپلز پارٹی کے امیدوار پیپلز پارٹی کی بنیاد پہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہوتے، ان کی تو ساری کمپین کا حاصل یہ تھا کہ جماعت اسلامی ٹھیک جماعت ہے لیکن ملک بہرام اور ان کا خاندان سیاسی حوالے سے درست نہیں۔ اب اس ساری کمپین کے بعد اگر الیکشن جیتا جائے تو اس میں پیپلز پارٹی کی بحالی اور محترمہ کو خراجِ تحسین پیش کرنا کہاں سے وارد ہو گیا؟
سوم، کوئی بھی حتمی تجزیہ دینے سے پہلے آپ کو 2013 اور 2015 کے انتخابی نتائج کا موازنہ کرنا چاہیئے تھا۔ 2013 کے جنرل الیکشن میں جماعت اسلامی کے ملک بہرام خان نے ساڑھے تیرہ ہزار ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ ا±ن کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے صاحبزادہ ثنا اللہ صاحب نے ساڑھے نو ہزار، عوامی نیشنل پارٹی کے عامر زمان صاحب نے ڈیڑھ ہزار، مسلم لیگ ن کے ملک فخر حیات نے آٹھ ہزار، پاکستان تحریک انصاف نے چھ ہزار اور جمعیت علمائے اسلام نے ساڑھے چھ سو ووٹ لیے۔ اس حساب سے جماعت اسلامی کے ملک بہرام خان کے ساڑھے تیرہ ہزار ووٹ کے مقابلے میں مخالفین نے ک±ل چھبیس ہزار ووٹ حاصل کیے۔ ان ووٹوں میں سے اگر تحریک انصاف کے چھ ہزار ووٹ منہا کر دیے جائیں تو جماعت اسلامی کے مقابلے میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائ اسلام کا ملا کر بیس ہزار ووٹ بچتا ہے اور اگر جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا ووٹ جمع کیا جاوے تو ساڑھے انیس ہزار ووٹ بنتے ہیں، اور یہی اس ضمنی الیکشن کے نتیجے سے ظاہر ہوا۔ بائیں بازو کی پیپلز پارٹی، دائیں بازو کی مسلم لیگ ن، مذہبی تشخص رکھنے والی جمعیت علمائے اسلام اور پختون بنیاد پہ عوام کے پاس جانے والی عوامی نیشنل پارٹی کے اتحاد نے ان چاروں جماعتوں کا ووٹ اکٹھا کر دیا، اِس پہ تڑکا تحریک انصاف کے ا±س مقامی گروپ نے لگایا، لیڈر جس کا مسلم لیگ ن کے مقامی رہنما کا بیٹا ہے۔ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے یقیناً جماعت اسلامی کی حمایت کا اعلان بھی کیا اور جلسوں میں عمران خان صاحب کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا لیکن تحریک انصاف کی تنظیمی کمزوری ا±س وقت ک±ھل کر سامنے آ گئی جب تحریک انصاف دیر کی مقامی قیادت نے نہ صرف پیپلز پارٹی کی حمایت کی بلکہ ا±ن کے حق میں جلسے، جلوس اور ریلیاں بھی منعقد کرائیں۔
چہارم، جس ایک حلقے کے انتخابی نتائج پہ آپ نے پیپلز پارٹی بحال ہونے کی نوید سنائی ہے یہ حلقہ ا±سی ضلع دیر میں ہے جہاں دو ماہ قبل بلدیاتی انتخابات ہوئے اور جماعت اسلامی نے دونوں ضلعوں میں ضلعی حکومت بنائی، ساری تحصیلوں میں تحصیل حکومت بنائی اور پیپلز پارٹی کے وہاں سے ا±تنے ہی کونسلر کامیاب ہوئے جتنے لاڑکانہ یا اندرون سندھ سے جماعت اسلامی کے ہوتے ہیں۔ اب اس ساری صورتحال میں آپ سے میرا صرف ایک سوال ہے کہ آپ جیسا منجھا ہوا صحافی اور غیر جانبدار تجزیہ نگار جو پاکستان کے دیہاتی حلقوں کی سیاست کی باریکیوں کو بھی سمجھتا ہو وہ پی کے 93 کے الیکشن کو پیپلز پارٹی کا دوسرا جنم اور خواتین کے ووٹ دینے کو محترمہ کو خراجِ تحسین کیسے کہہ سکتا ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *