سال2015ء کوگرم ترین سال قرار دے دیا گیا

temratureیو ایس سائنس ایجنسی کے مطابق سال 2015ء موسم گرما میں ریکارڈ ترین درجہ حرات نے اس سال کو گرم ترین سال بنا دیا ہے۔ نیشنل اوشنک اینڈ اٹماسفیئر انڈمنسٹریشن (نوا)کے مطابق سال 2014ء کے مقابلے میں سال2015ء میں موسم 97%گرم ترین رہا۔1880ء کی ریکارڈ گرمی کے20عشروں کے بعد پچھلے ماہ یعنی اگست کے1.58ڈگری فارن ہائیٹ درجہ حرارت نے اس سال کو گرم ترین سال بنا دیا ہے۔اس سال جنوری سے اگست تک ہر ماہ گرمی لمبے ترین وقت کی ریکارڈ سطح 1.51ڈگری فارن ہائیٹ پر رہی۔’’ نوا‘‘کی پچھلی اپ ڈیٹس کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گرمی میں ریکارڈ اضافے کی بڑی وجہ ’’ایل نینو‘‘ موسمی تبدیلیاں اور گلوبل وارمنگ ہے۔ قومی ادارہ برائے موحولیاتی معلومات ’’نوا‘‘ کے مانیٹرنگ برانچ کے سربراہ ڈیک ارنڈکہتے ہیں:’’ طویل المدّتی موسمیاتی تبدیلیاں مرحلہ وار بڑھتی جا رہی ہیں۔ ’’ایل نینو‘‘ ایسی موسمی تبدیلی ہے کہ جسمیں آپ ایک سیڑھی سے دوسری پر چڑھ تو رہے ہیں لیکن اُتر نہیں سکتے۔ ’’ایل نینو‘‘ ہو یا’’ گلوبل وارمنگ‘‘دونوں کا نتیجہ موسمی شدت ہے۔ا س نتیجے کو ہم ریکارڈ کر سکتے ہیں۔ کوئی بھی مرحلہ نزول کی طرف نہیں جا رہا بلکہ عروج کی جانب گامزن ہے۔‘‘
ایجنسی کے مطابق اس بات پر پورا یقین ہے کہ موسم کے شدید ترین گرم ہونے کی بڑی وجہ مغر بی استوائی بحر اوقیانوس کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہے۔ ‘‘ ارنڈ کے مطابق :’’ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ گرمی میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟ سمندر کا سفر جاری رہتا ہے ،وہ اتنی جلدی اپنی جگہ نہیں چھوڑتا۔ سمندری ٹھنڈک میں مسلسل کمی کی بڑی وجہ نسیم بری ہے، دوسری جانب سورج کی ثقل میں کمی بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی بڑی وجہ ہے۔‘‘
Untitled’’بلاگ پوسٹ ‘‘میں سائنسدانوں نے ایک ایجنسی کی پوسٹ میں کہا ہے:’’ پچھلے سال کی نسبت اس سال 97فیصد زیادہ گرمی پڑی ہے۔لہٰذہ یہ سال گرم ترین سال قرار دیا جاتا ہے۔‘‘ارنڈ کے مطابق:’’ ماہ اگست میں گرمی کی شدت اکیسویں صدی کی ریکارڈ ترین سطح ہے۔‘‘نوا کے مطابق:’’اوریگان اور واشنگٹن کی گرمیاں سخت گرم تو ہیں لیکن کیلیفورنیا اور نوادا امریکہ کی دو ایسی ریاستیں ہیں جہاں اب تک سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔الاسکا البتہ دوسری ریاست ہے جو موسم گرما کی زد میں رہی۔امریکن ماہرین موسمیات کا ماننا ہے کہ محکمہ موسمیات برطانیہ نے حال ہی میں جو رپورٹ شائع کی تھی جس میں سال 2016کو گرم ترین سال قرار دیا گیا ہے، اگر گلوبل وارمنگ میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو یہ پیشین گوئی درست ثابت ہو سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *