بائیں بازو کے بارے میں مزیدبات۔۔۔

mujahid Mirza (1)"بائیں بازو والے" کے عنوان سے تحریر ایک مختصر جائزہ تھا جس پر لندن سے صحافی اور تجزیہ نگار دوست ندیم سعید نے اپنی رائے کا اظہار یوں کیا،" پاکستان میں بائیں بازو والے کم ہیں لیکن بائیں بازو کی پارٹیاں کہیں زیادہ۔ مگر اب بائیں بازو کے معانی وسیع تر ہو چکے ہیں،جن میں وہ سب شامل کیے جاتے ہیں جو انسانی حقوق، آزادی اظہار،سیکیولر اقدار اور سماجی انصاف پر یقین رکھتے ہیں"۔
ندیم سعید کی یہ بات پورا سچ نہیں ہے یہ درست ہے کہ تکنیکی طور پر ہر وہ شخص اور گروہ جو سٹیٹس کوو کے خلاف ہوتا ہے اور جو مقتدر حلقوں کی حدود کو توڑنے یا بڑھانے کا خواہشمند ہوتا ہے، اسے آج نہیں بلکہ ہمیشہ سے بائیں بازو کا خیال کیا جاتا ہے۔ دست راست تو وہی ہوتے تھے اور ہوتے ہیں جو مقتدر شخصیات اور مقتدر نظام کو مضبوط کرنے میں معاون ہوں۔ مگر اس اصطلاح یا وصف کا سیاسی پہلو صرف متبادل سیاسی و معاشی نظام کا حامی ہونا اور اسے رائج کرنے کی خاطر کسی منظم تنظیم کے ساتھ وابستہ ہو کر جدوجہد کرنا نہیں بلکہ ایک مخصوص سیاسی و معاشی نظام کو رواج دینے کی خاطر منظم تحریک میں شامل ہونا ہوتا ہے،یہ سب جانتے ہیں سوشلسٹ نظام کی معراج کمیونزم یعنی اشتراکیت پر منتج تصور کی جاتی ہے۔
یہ درست ہے کہ انسانی حقوق، آزادی اظہار، سیکولر اقدار اور سماجی انصاف پر یقین رکھنے والوں کو بائیں بازو والے کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن یہ سب خواہشات سرمایہ دارانہ نظام یا مخلوط نظام میں بھی پوری کی جا سکتی ہیں اور کسی حد تک پوری کی جا رہی ہیں۔
بات چونکہ یقین رکھنے کی ہو رہی ہے چنانچہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کسی بھی معاملے سے متعلق یقین رکھنا "عقیدہ پرستی" کے ضمن میں آتا ہے کیونکہ سائنسی طور پر چیز معروض سے جڑی ہوئی اور متغیّر ہوتی ہے۔ بائیں بازو کا یہ المیہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے کہ انہوں نے مارکسیت کو ایک مذہب کے طور پر اپنایا ہوا ہے۔ بالعموم کسی کٹر مذہبی شخص کی طرح مارکس اور لینن کے اقوال کے حوالے دینا کہ جیسے وہی آخری سچ ہو ، سائنسی طور پر سوچنے والے غیر مارکسی شخص کو چبھنا کوئی اچنبھا نہیں۔
بائیں بازو کے ایک موقّر رہنما ڈاکٹر اعزاز نذیر ہوا کرتے تھے۔ ان کے فرزند حسن ناصر سید جو آج خود بھی بائیں بازو کے ایک دھڑے کے رہنما ہیں لکھتے ہیں،" کل تک جب آپ لوگ بائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے، تو بایاں بازو عملاً موجود تھا۔ آپ لوگوں کی تعظیم بھی تھی، اس زمانے میں بھی بائیں بازو کی متنوع پارٹیاں ہوا کرتی تھیں مگر جب آپ لوگ منظر سے غائب ہوئے ( وجوہات کچھ بھی ہو سکتی ہیں ) تو بایاں بازو ہی غائب ہو گیا، چنانچہ بات کو آگے بڑھائیے"
اس کے برعکس فہد رضوان نام کے کوئی نوجوان حسن ناصر سید سے اختلاف کرتے ہیں، انہوں نے لکھا،" انکل! آپ شاید بوڑھے ہو گئے ہیں، اس لیے عوام میں نہیں جاتے، عوام میں آج بھی بہت سے کمیونسٹ کام کر رہے ہیں" ساتھ ہی انہوں نے کچی آبادی، اسلام آباد میں عوامی ورکرز پارٹی کے جلسے کی چونسٹھ تصاویر بھی تصدیق کے لیے بھیج دی ہیں۔
مجھے فہد کی بات کا جواب اس لیے دینے کی ضرورت نہیں کہ چھوٹی پارٹیاں فوری اور تند مسائل کے حوالے سے ایسی سرگرمیاں کیا ہی کرتی ہیں۔ جو لوگ متاثر ہوتے ہیں وہ اس طرح کے جلسوں کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔ کچی آبادی والوں کے لیے اگر حافظ سعید کی پارٹی بھی جلسہ کرتی تب بھی یہ سارے لوگ اور حافظ صاحب کے کارکن مل کر اس جلسے کو اور بڑا کر دیتے۔ بہرحال میرا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ایسی سرگرمیاں نہیں کی جانی چاہئیں البتہ ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ بھی سمجھانا چاہیے کہ "بایاں بازو" کیا ہوتا ہے۔ فہد بیٹے کو ایک ہدایت کر دوں کہ وہ لوگوں کے سامنے خود کو کمیونسٹ نہ کہیں، نتائج کی ذمہ داری کوئی نہیں لے گا۔
مجھے دراصل حسن ناصر کی بات ماننی ہے تاکہ بات کو آگے بڑھاسکوں۔
حسن ناصر اس زمانے کی بات کر رہے ہیں جو دراصل پاکستان پیپلز پارٹی کے ابھار کا زمانہ تھا ، جس دوران "پارٹیوں" نے یا "پارٹی" نے ( سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ "پارٹی" سے مراد کمیونسٹ پارٹی ہے اور ایسی پارٹیاں کئی تھیں، نام ان کے مختلف تھے اور ندیم سعید کی اطلاع کے مطابق شاید اب بھی ہیں۔ ان کے ہی ایک ادغام کو پاکستان ورکرز پارٹی بھی کہا جاتا ہے) اپنے اپنے کارکنوں کو پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہدایت کر دی تھی ،یاد رہے ایک دو "پارٹیوں" نے یہ ہدایت جاری نہیں کی تھی۔
اس عوامی دھارے میں شامل ہونے کے سبب ہی "بائیں بازو" والے اپنی جگہ لوگوں میں بنا سکے تھے۔ خاص طور پر مزدوروں، کسانوں اور طالبعلموں میں مختلف ناموں مثلا" ٹریڈ یونین کے انتخابات میں حصہ لینے والی مختلف نام کی تنظیموں، کسان کمیٹیوں اور ڈی ایس ایف، این ایس ایف اور این ایس او جیسے ناموں کے ساتھ۔ لوگ بائیں بازو سے وابستہ لوگوں کی تعظیم بھی اس لیے کرتے تھے کہ جو کچھ وہ کہتے تھے ان کی زندگیاں اور وسائل بھی ان کی کہی ان باتوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوا کرتے تھے۔
بھٹو اور بعد کے ادورا میں اگرچہ اپنی اپنی "پارٹیاں" تھیں لیکن ان کا جھگڑا مذہبی مسالک کی مانند تند نہ تھا۔ تشدد پرستی کا عنصر تو ان زمانوں میں مذہبی مسالک کے جھگڑوں میں بھی ظاہر نہیں ہوا تھا۔ بعض معاملات پر احتجاجات کے سلسلے میں یہ دھڑے اگر سارے نہیں تو کئی تعاون بھی کرتے تھے۔
امام علی نازش کے تحت کمیونسٹ پارٹی میں بڑی تقسیم تب ہوئی جب روس میں تعمیر نو کے تناظر میں ایک حلقے نے اس کا ساتھ دینے اور تنظیم میں ہئیتی تبدیلیاں لانے کا اعادہ کیا جب کہ دوسرے دھڑے نے جو ٹریڈ یونین کے ساتھ وابستہ ہونے کی وجہ سے اکثریت میں تھا، پرانے دھڑپر چلنے کی ٹھانی ہوئی تھی۔ متاسفانہ طور ہی پر سہی، میں بھی باوجود اختلاف ہونے کے وضعداری کے سبب اسی دھڑے میں شامل رہا تھا کیونکہ میرا تعلق مزدوروں کے ساتھ تھا، جس پر امتیاز عالم نے میرے بارے میں کہا تھا کہ اندھوں میں کانا راجہ بننے کا شوق ہے۔
روس نواز کامریڈوں کا کعبہ رفتہ رفتہ ڈھے رہا تھا چانچہ وہ بددل ہوتے چلے گئے۔ جو زیادہ دانشور تھے انہوں نے این جی اوز کی راہ لی، عام لوگوں نے یا تو کاروبار کر لیے یا پھر اس قدر بد دل ہو گئے کہ کسی طرف کے نہ رہے۔ سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد تو ان لوگوں کا آپس کا "کامریڈ شپ" کا رشتہ بھی ختم ہونے لگا تھا۔ قومی صنعت میں شامل صنعتوں کے نجی ہاتھوں میں چلے جانے کے بعد صنعتی اہلکاروں کو "گولڈن ہینڈ شیک" ملا جس کے سبب یک لخت ان کی "کلاس" تبدیل ہو گئی۔ یہ طنز ہے، مطلب یہ کہ پیسہ ملنے کے بعد ان کی ترجیحات تبدیل ہو گئی تھیں۔
چین نواز ویسے ہی کام کرتے رہے جیسے کرتے تھے۔ ان کی اکثریت یورپی ملکوں میں منتقل ہو گئی تھی اور ان کے روابط آج بھی دوستانہ اور کامریڈ شپ والے ہیں۔
صرف ٹراٹسکی کو ماننے والے فعال رہے اور فعال ہیں۔ میرا چونکہ اس "مسلک" سے کبھی اتفاق نہیں ہوا اس لیے میں ان کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتا اور نہ ہی میں نے ان کے بارے میں جاننے کی جستجو کی ہے۔ البتہ ان میں سے کچھ دوست ہیں۔ یہ بیشتر خوشحال ہیں اور تسلسل کے ساتھ اپنے مسلک پر گامزن بھی۔
پاکستان میں اگر ورکرز پارٹی کی شکل میں کوئی اتحاد چل بھی رہا ہے تو بھی اس کی جڑیں عوام میں نہیں ہیں کیونکہ وہ عوام کو بڑے پیمانے پر اس لیے نہیں جوڑ سکتے کہ ان کے پاس کوئی متاثر کن شخصیت نہیں۔ متاثر کن ہونے کے لیے صرف بھڑکدار ہی نہیں بلکہ عوام سے ایک طویل تعلق ہونا ضروری ہے، چاہے وہ کرکٹ کے کھلاڑی کا ہی کیوں نہ ہو۔ افراسیاب آج کے افراسیاب نہ ہوتے اگر وہ اے این پی میں شامل نہ ہوتے۔ امتیاز عالم صاحب کا اوّل تو رویہ ہی عوامی نہیں ہو سکا تھا اور پھر وہ بالکل ہی اور سمت چل دیے اگرچہ کہنے کو وہ آج بھی بائیں بازو کے ہی ہیں۔ جام ساقی بیمار اور بوڑھے ہیں۔ ڈاکٹر رشید صاحب جیسے پہلے لوگوں سے اوجھل تھے، آج بھی اوجھل ہیں۔
ہمارا اجتماعی رویہ یہ ہے کہ اگر پروفیسر جمال نقوی نے اپنے ذاتی تاثرات کتاب کی شکل میں پیش کر دیے تو ہم میں سے بیشتر "بائیں بازو کے عقیدہ پرستوں" نے ان کے ایسے لتے لیے جیسے ان سے کوئی ذاتی پرخاش ہو۔
آخر میں میں اپنا موقف یہ کہہ کر پیش کرتا ہوں کہ آج کا وہ کام جو آپ کو فی الواقعی "بائیں بازو" کا بناتا ہے وہ " عالمگیریت مخالف" تنظیم میں شامل ہو کر فعال ہونا ہے لیکن تاسّف یہ ہے کہ پاکستان میں ایسی کوئی تنظیم نہیں جو فی الواقعی خود کو "اینٹی گلوبلسٹ" کے طور پر پیش کر سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *