کراچی میں گرمی کی نئی لہر، ہیٹ اسٹروک سینٹرز قائم

hot-weather کراچی کو ایک مرتبہ پھر گرمی کی شدید لہر کا سامنا ہے.محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر عبدالرشید کا کہنا تھا کہ چونکہ ہوا میں نمی کا تناسب کم ہے اس لیے ہیٹ اسٹروک کا خطرہ نہیں ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کی یہ لہر 3 روز تک برقرار رہے گی، جبکہ پیر کے بعد موسم دوبارہ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا۔عبدالرشید کا کہنا تھا کہ کراچی میں پیر تک شدید گرمی رہے گی اور اس دوران درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا

جائے گا۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ حالیہ گرم لہر کی وجہ شمال مغربی علاقوں میں چلنے والی گرم ہوائیں ہیں۔ کراچی میں درجہ حرارت میں اضافے کے خدشے کے بعد ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک سینٹرز قائم کیے جاچکے ہیں جبکہ ایمرجنسی کے پیش نظر تمام میڈیکل اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئیں۔ سخت گرمی میں ہیٹ اسٹروک کے اندیشے کی وجہ سے سندھ حکومت نے بھی شہریوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی۔ کراچی میٹر پولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) میں بھی ایمرجنسی نافذ کرکے طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ کے ایم سی کے سابقہ 42 میڈیکل سینٹرز میں ہیٹ اسٹروک سینٹرز بھی بحال کر دیئے گئے ہیں۔

دوسری جانب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیز سورج کی گرمی سے بچنے کے لیے پانی زیادہ سے زیادہ پینا چاہیئے۔ماہرین کے مطابق شہری جب گھر سے نکلیں تو گیلا رومال ساتھ رکھیں جس سے سر کو ڈھانپ لیا جائے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ گرمی میں زیادہ سے زیادہ پانی پیا جائے تاکہ زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں جسم میں پانی کی کمی کو پورا کیا جاسکے.شہریوں کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ گرمی کے موسم میں ہلکی، متوازن اور ٹھنڈی غذا کا انتخاب کیا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی سے بچنے کے لیے اگر ذرا سی احتیاط کی جائے تو ہیٹ اسٹروک اور اس جیسی دیگر مشکلات سے بچا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس جون میں بھی گرمی کی ایک شدید لہر کراچی میں آئی تھی، جس کے نتیجے میں کراچی سمیت سندھ بھر میں 1250 سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی تھی.محکمہ صحت کے اعداد وشمار کے مطابق جون کے ایک ہفتے کے دوران ہیٹ اسٹروک اور ڈی ہائی ڈریشن (پانی کی کمی) کے مرض میں مبتلا 80 ہزار مریضوں کو کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں لایا گیا تھا۔

جون میں آنے والی گرمی کی لہر پر ماہرِ آب و ہوا قمر الزمان چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ شدید گرمی urban heat island effect کی وجہ سے تھی، جس میں درجہ حرارت ہوتا تو 45 ڈگری ہے، لیکن محسوس 50 ڈگری ہوتا ہے، کیونکہ شہر میں پھنس چکی گرم ہوا باہر نہیں نکل پاتی۔ان کے مطابق شہر ایک بھٹی کی طرح ہے، جو گرمی کو روک لیتا ہے اور اسے باہر نکلنے نہیں دیتا۔

قمر الزمان چوہدری کا کہنا تھا کہ یہی درجہ حرارت، بلکہ اس سے بھی زیادہ سندھ کے دوسرے شہروں سے بھی رپورٹ ہوا ہے، لیکن اس نے لوگوں کی جانیں اس طرح نہیں لیں جس طرح کراچی میں، کیونکہ وہاں پر گرم ہوا کے پھیلنے اور باہر نکلنے کے لیے جگہ موجود ہے۔

بعد ازاں سندھ کے وزیر بلدیات شرجیل میمن نے 2 ماہ میں کراچی میں 10 لاکھ اور صوبے بھر میں 30 لاکھ پودے لگانے کا اعلان کیا تاہم اس اعلان کے بعد اس پر عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آی، دوسری جانب شرجیل انعام میمن سے وزیر بلدیات کا قلم دان بھی واپس لیا جاچکا ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *