پی سی بی کے معاملات کا بگاڑ

Najam Sethiپی سی بی (پاکستان کرکٹ بورڈ ) کے معاملات میں عدلیہ کے فیصلے کے بعد ہر چیز افراتفری کا شکار ہو چکی ہے۔ اس سے بھی بدترین بات یہ ہے کہ عدلیہ پی سی بی، جو ملک کا ٹیکس ادا کرنے والا واحد اسپورٹس بورڈ ہے، پر بھاری جرمانے عائد کرنے کو کہا ہے۔ اس سے پہلے پی سی بی کے سابق چیئرمین ذکاء اشرف کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے معطل کردیا تھا۔ فاضل عدالت نے چیئرمین بورڈ کے عہدے لئے کرائے جانے والے انتخابات کو ’’ غیر شفاف‘‘ قرار دے کر تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر حکومت بائیس جون کو پی سی بی کے حل طلب معاملات کو سلجھانے کیلئے ’’قائم مقام چیئرمین ‘‘ کی تقرری عمل میں لے آئی۔ چار جون کو عدالت نے مسٹر اشرف کو عہدہ چھوڑنے کا حکم دے دیا اور قائم مقام چیئرمین کو نوّے دن کے اندر اندر انتخابات کرانے کی ہدایت کی۔ پی سی بی کے آئین کے تحت کرکٹ بورڈ کا سرپرست چیئرمین کے عہدے کے لئے دو افراد کو نامزد کرتا ہے۔ پھر دس رکنی بورڈ آف گورنرز میں سے چار ممبران پر مشتمل کمیٹی چیئرمین کا چنائو کرتی ہے۔ اگرچہ عدالت کی طرف سے تفصیلی فیصلہ بائیس جولائی کو سامنے آیا جبکہ اس کا نفاذ چار جولائی سے لاگو سمجھا گیا۔ اس دوران عدالت نے غیر معمولی مداخلت کرتے ہوئے پی سی بی کے آئین میں کچھ ردو بدل کردیا۔
پہلی تبدیلی یہ کی گئی کہ عدالت نے قائم مقام چیئرمین کے عہدے کو نگران چیئرمین کے عہدے میں بدل دیا۔ اب پی سی بی کے آئین میں نگران چیئرمین کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ دوسری تبدیلی یہ تھی کہ فاضل عدالت نے نگران چیئرمین کو پی سی بی کے معاملات چلانے سے روک دیا۔ اس سے بورڈ کے معاملات چلانے کیلئے افراد کو رکھنے، نکالنے، تبادلہ کرنے کے ساتھ ساتھ کسی کے ساتھ کنٹریکٹ کرنے یا کھلاڑیوں کے چنائو کے لئے سلیکشن کمیٹی مقرر کرنے کا اختیار واپس لے لیا گیا۔ اسے ’’روزمرہ‘‘ کے کچھ معاملات چلانے تک ہی محدود کردیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پی سی بی 2013میں کھیلی گئی صرف دو سیریز کے حقوق فروخت کر سکا جبکہ دنیا میں پانچ سال کیلئے حقوق فروخت کئے جاتے ہیں۔ تیسری تبدیلی یہ کی گئی کہ کرکٹ کی ملک بھر میں پھیلی ہوئی تنظیموں کے 111ارکان کو چیئرمین کا چنائو کرنے کا اختیار دیا گیا حالانکہ پی سی بی کے آئین کے تحت یہ صرف بورڈ آف گورنرز کا استحقاق ہے۔ چوتھی تبدیلی یہ تھی کہ عدالت نے ہدایت کی کہ فرسٹ کلاس کرکٹرز میں سے گریجویٹ کی ڈگری کا حامل کوئی بھی شخص انتخابات لڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ’’ای سی پی‘‘ ( الیکشن کمیشن آف پاکستان) کو انتخابات کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی گئی۔ یہ دونوں شرائط پی سی بی کے آئین میں موجود نہیں ہیں۔
ان تمام معاملات کی انجام دہی کیلئے اٹھارہ اکتوبر کی تاریخ طے کی گئی۔ آخرکار ایک ڈی ایم جی افسر کو پی سی بی کا سیکرٹری نامزد کر دیا گیا۔ ایسا کرنا آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) کی روایات کے برعکس تھا۔ مختصر یہ کہ عدالت نے بغیر کسی بحث و تمحیص کے، پی سی بی کے لئے ایک نیا آئین تحریر کر دیا۔ اس پر حکومت نے یہ موقف اختیار کرتے ہوئے فیصلے کو چیلنج کیا کہ عدالت نے اپنے دائرہ ِ کار سے قدم باہر نکالتے ہوئے عملی طور پر پی سی بی کیلئے ایک نیا آئین تحریر کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پی سی بی کی طرف سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ مختلف عدالتوں کی طرف سے دیئے گئے اسٹے آرڈرز کی وجہ سے اس کا 35 فیصد الیکٹرول کالج نامکمل ہے۔اس طرح ای سی پی نے عدالت کو بتایا کہ آئین ِ پاکستان کے تحت وہ پی سی بی کے انتخابات کرانے کا مجاز نہیں ہے۔
صورتحال میں ایک تشویشناک موڑ اُس وقت آیا جب اسے بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈویژن بنچ، جو انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کا مجاز ہے، مختلف وجوہات کی بنا پر اٹھارہ اکتوبر سے پہلے تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔ یہ خدشہ محسوس کرتے ہوئے کہ پی سی بی آئینی اور انتظامی بحران کا شکار ہو جائے گی ، حکومت نے اس صورتحال سے بچنے اور پی سی بی کو انیس اکتوبر کو آئی سی سی کی لندن میں ہونے والی ایک اہم میٹنگ میں شرکت کے قابل بنانے کیلئے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا کہ پی سی بی کی IMC ( Interim Management Committee)پی سی بی کے التوا کا شکار معاملات چلانے کی مجاز ہے۔ یہ قدم پی سی بی کے آئین کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اٹھایا گیا تھا۔ انتیس اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی ، جنھوں نے روز ِ اول سے ہی ان تمام معاملات کو دیکھا تھا، نے IMC کو معطل کرتے ہوئے حکومت، ای سی پی اور IMC کو توہین ِ عدالت کے نوٹس بھجوا دیئے۔ عدالت نے ایک سابق جج کو نامزد کیا کہ وہ نومبر میں اپنی شرائط پر پی سی بی کے چیئرمین کے عہدے کیلئے انتخابات کرائے۔ ایسا کرتے ہوئے عدالت کی طرف سے پی سی بی کو حکم دیا گیا کہ اُن جج صاحب کو 2,500,000 روپے بطور فیس ادا کی جائے۔
موجودہ معاملے میں میری رائے یہ ہے کہ پی سی بی کیلئے قانون سازی حکومت کا استحقاق ہے اور پوری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے M/s Travels Shop (Pvt) Limited کی اپیل پر یہ کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ ایگزیکٹو کی طرف سے بنائی گئی پالیسی میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ دنیا میں کہیں بھی فرسٹ کلاس یا ٹیسٹ کرکٹرز براہ ِ راست انتخاب لڑ کر کرکٹ بورڈ کے سربراہ نہیں بنائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کرکٹ بورڈ کا فنکشن مالی اور انتظامی امور کی انجام دہی ہوتا ہے جبکہ کھیل کے معاملات کی نگرانی وہ کمیٹیاں کرتی ہیں جن میں سابق کھلاڑی موجود ہوتے ہیں۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ فوری طور پر مالی اور انتظامی فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے پی سی بی کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ قومی مفاد میں اس معاملے کوجلد از جلد نمٹایا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *