آغیہ صوفیہ سے نیلی مسجدتک

azharاستنبول کا نام ذہن میں آتے ہی دو نام گونجنے لگتے ہیں‘ نیلی مسجد اور توپ کاپی پیلیس ۔ ترکی میں مسلم سیاحوں کیلئے نیلی مسجد اور توپ کاپی ،اورعیسائی راہبوں کیلئے آغیہ صوفیہ بہت معروف مقامات ہیں۔ نیلی مسجد اور دیگر مساجد میں سوائے اس کے کوئی فرق نہیں کہ یہاں صحن میں نیکریں پہنے یورپ کے سیاح مٹر گشت کرتے ہیں اوربڑے ہال کی کھڑکیوں اور روشندانوں کے شیشوں کارنگ نیلاہے ۔ ترکی میں ہر گلی محلے کی مسجد کا نقشہ کم و بیش نیلی مسجد کی طرح ہے، اسی طرز کے مخروطی مینار ، بلندمحرابیں ، بیضوے گنبد ۔۔۔ حتیٰ کہ مسجدوں کے اندرآیات کی خطاطی کا انداز بھی یکساں ہے ،یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک ہی خطاط نے ساری مساجد میں بیک وقت اپنے فن کا کوندا بکھیر دیا ہے۔نیلی مسجد کے صحن میں جہاں گوریوں کے سینڈلوں کی ٹک ٹک سنائی دیتی ہے ‘وہاں چشم تصور میں دکھائی دیتا ہے کہ یہاں کبھی جاہ و جلال والے باریش ترک مسلمان اپنے رب کے حضور ماتھا ٹیکتے تھے۔۔۔ کیسی بلندی ، کیسی پستی!! نیلی مسجد کے صحن کا منظر دیکھ کر ہمارے اندر کا مسلمان لال پیلا ہوجاتا ہے۔ لگتا ہے‘ ہمارے بڑوں سے کچھ سجدے قضا ہوئے ہیں کہ جن کی سہو ابھی تک واجب الاداہے۔قوموں کی تاریخ میں غفلت کا ایک لمحہ صدیوں کو نگل لیتا ہے ۔قوم کی جگہ اگر ملت کا لفظ استعمال کیا جائے تو روشن خیالی تاریک ہونے لگتی ہے اور آج کے نیو ورلڈ آرڈر میں آپ انتہا پسند کہلاتے ہیں۔ابھی پچھلی صدی میں اقبال ؒ نام کا ایک انتہا پسند گزرا ہے ‘ جس نے ملت کے حوالے سے تقدیر کے قاضی کے کچھ فتوے قرطاسِ ازل سے نقل کیے ہیں:
؂فطرت افراد سے اغماض تو کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
روشن خیالی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ’’تجھے پرائی کیا پڑی ‘ اپنی نبیٹر تو‘‘۔۔۔ گویا خود غرضی اور بے حسی ترقی یافتہ ہونے کی نشانیوں میں سے ٹھہری۔ ممکن ہے‘ ہمارے نیشنلسٹ دوستوں کی نظر میں ترکی کی زمین پر یہ احساس ایک دخل معقولات ہو‘ لیکن مسجد اور کلمہ سب کا سانجھا ہے۔تاریخ میں مسلم اقوام کو جو فتوحات بھی نصیب ہوتی رہی ہیں‘ وہ در حقیقت کلمے کی قوت سے حاصل ہوئی ہیں۔۔۔ کلمے کی سانجھ نہ ہوتی تو مصطفی کمال پاشا کی کمان میں گیلی پولی کے معرکوں میں لڑنے کیلئے مسلم دنیا کے کونے کونے سے ہزاروں مسلمان سر پر کفن باندھے ‘سفری صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے ‘ شوقِ شہادت میں اپنے علاقوں سے کیونکر نکلتے؟ کلمے کی قوت ہی وحدت ہے اور وحدت ہی ملت کی طاقت ہے۔۔۔ کلمے سے اعراض کرکے اپنے اپنے علاقائی قلعے مضبوط کرنا دراصل خود غرضی کا باب رقم کرنا ہے۔ ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو ‘‘کا زمانہ لد چکا ، آج کل کارگرفارمولہ یہ ہے ’’تقسیم کرو اور مارتے جاؤ‘‘۔ احساس کی بات ہے ، ملی احساس انسان کے دل کو قدم قدم پر بوجھل کر دیتا ہے۔ احساس کو گھر چھوڑ آتے تو اچھا رہتا ، ہم بھی گلوبل ویلیج میں پھرنے والے سیاحوں کے ہجوم کاحصہ ہوتے ، ہزاروں سروں کے درمیان ایک سر ، ہزاروں آنکھوں میں بس ایک آنکھ ۔۔۔کچھ سوچنے کی ضرورت نہ ہوتی ، ہر سوچ فاسٹ فوڈ کی طرح بنی بنائی میسر آجاتی ۔۔۔ آخر یہ سی این این ، بی بی سی اورفاکس نیوز کب کام آئیں گے!! بس جسم اورجسم کی پانچ حسیں کافی ہیں۔۔۔ جوسب میں برابر ہیں۔۔۔ اس یونی پولر ورلڈکا گرین کارڈ لینے کیلئے یہی سرمایۂ فکر و نظر کافی ہے۔ جسم اور آنکھ تو برابر ہے لیکن دل کا کیا کریں ۔۔۔ دل ہے‘ تو ہم ہیں ۔۔۔اور ہجوم سے جدا ہیں ، کثرت میں رہتے ہوئے کثرت کا حصہ نہیں ۔۔۔وحدت کا ادراک نہیں ‘ لیکن احساس ضرورہے ۔۔۔دل کا معاملہ ہی کچھ ایسا ہے ۔۔۔سب سے جدا ، سب سے الگ ، انوکھا، نیارا ، یکتا ۔۔۔نہ کبھی تھا، نہ کبھی ہوگا، بس جیسے تھا ، ویسے ہے۔۔۔۔۔۔
معلوم نہیں ‘سیاحت کے نام پر اپنے دینی ورثے کوایک بکاؤ مال بناکر رکھ دینا‘ اہل بست و کشادکی نظر میں کیسا معلوم ہوتا ہے۔ خیر! ہمیں کیا معلوم!! یہ یورپ ہے ،ترقی یافتہ یورپ ۔۔۔ ہم ٹھہرے پس ماندہ ایشیا کے پینڈو۔۔۔ ہمیں گلوبل ویلیج کی نزاکتوں اور جی ڈی پی کی حماقتوں کی کیا خبر ؟
نیلی مسجد اور آغیہ صوفیہ آمنے سامنے ہیں۔ آغیہ صوفیہ ایک لاطینی لفظ ہے جس کے معنی مقدس دانائی کے ہیں۔ بازنطینی دَور کی یہ پرشکوہ عمارت ۵۳۷ ء میں تعمیر ہوئی اور تقریباً ایک ہزار برس تک عیسائی دنیا کی سب سے بڑی مرکزی عبادت گاہ کے طور پر قائم رہی۔ اس کی تعمیر میں دنیا بھر کی عیسائی ریاستوں نے پیسہ اور افرادی قوت فراہم کی تھی، یعنی پوری عیسائی دنیا کیلئے ایک مرکزِ عقیدت!! فاتح تو فاتح ہوتا ہے۔۔۔ خواہ سلطان فاتح ہی کیوں نہ ہو۔ ۱۴۵۳ء میں استنبول کی فتح کے ساتھ ہی حکمِ شاہی کے تحت اس قدیم گرجا گھر کو مسجد کی شکل دے دی گئی۔ بادشاہوں کیلئے مسجدیں بنانا کون سا مشکل کام ہے ،اسی عمارت کے اندرنوادرات پر چونے کا لیپ کیا ، دیواروں میں محرابیں کھدوائیں اورعمارت کے باہر چاروں کونوں میں چار مینار کھڑے کیے۔۔۔ اور مسجد بنا دی۔ پانچ سو برس تک یہاں مسلمانوں نے نمازیں پڑھیں، یہانتک کہ ۱۹۳۵ء میں پھرنہ مسجد ، نہ گرجا ‘ سیکولر ترکی حکومت نے اسے میوزیم کی شکل دے کر سیاحوں کیلئے کھول دیا۔ بادشاہوں کی تعمیر کردہ عبادت گاہیں تاریخ میں اکثر متنازعہ ہو گئیں، فقیروں اور درویشوں کی آباد کی ہوئی مسجدیں تاقیامت قائم رہتی ہیں۔مغل بادشاہ شاہجہاں کی تعمیر کردہ بادشاہی مسجد میں فجر کی نماز میں پہلی صف مکمل نہیں ہوتی ، دوسری طرف چند فرلانگ کے فاصلے پرکامل درویشوں کے راہنماحضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش علیہ رحمۃ کے ہاتھوں بنیاد رکھی گئی مسجد مسلسل وسعت پذیرہے ، نمازیوں کے اژدہام کا یہ عالم ہے کہ آخری صفوں میں جگہ ملنا بھی غنیمت تصور ہوتا ہے۔ ہمارے فاتحین بھی عجب شے ہیں۔۔۔ جس کلمے کی آواز پر عوام سے قوت حاصل کرتے ہیں اور نعرۂ تکبیر پر اپنی فوجوں کیلئے لڑنے کا ایمانی جذبہ مہیا کرتے ہیں‘ فتح کے بعد کلمے کی تعلیم اور تکبیر کی تعظیم بھول جاتے ہیں۔ نعرۂ تکبیر پر لبیک کہنے کی اہلیت صرف عجز اورانکسارکو حاصل ہے۔ حکمران یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ حاکم نہیں ‘ خادم ہیں ، امانتوں کے نگہبان ہیں، رعایا کی جان مال اور آبرو کے چوکیدار ہیں ۔ قرونِ اُولیٰ میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو تبدیل نہیں کیا گیا تھا، قرونِ وسطیٰ تک پہنچتے پہنچتے دین وسط کے پیروکار طریقِ وسط بھول چکے تھے۔آغیہ صوفیہ کی بلند وبالا عمارت کے بالکل سامنے اسی طرزِ تعمیر کومدّ نظر رکھ کر ۱۶۱۶ء میں نیلی مسجد تعمیرکرنے کا فیصلہ ہوا۔یہ فیصلہ دیر آید درست آید کے مصداق نہ تھا ، اس وقت تک کافی دیر ہو چکی تھی اورآغیہ صوفیہ کافی حد تک روندا جاچکا تھا۔سنا ہے‘ انگریز خواتین اپنے گرجے کے ماضی کا حال دیکھ کر یہاں سے روتی ہوئی نکلتی ہیں۔ جب آپ کسی قوم کی عبادت گاہ کو پامال کرتے ہیں تو دراصل اس مذہب کے ماننے والوں کے دلوں کو پامال کرتے ہیں۔ دین کو قبول اور وصول کرنے کا کام دل کے ذمے ہے۔ دل دُکھانے والے سب انداز دین کی تبلیغ میں رکاوٹ بنتے ہیں ‘ معاون نہیں۔مسلمانوں کا خدا رب العالمین ہے ، سب کا سانجھا خدا۔۔۔ کیا معلوم کس کی آہ نے یہ دن دکھایا کہ اب سیاحوں کے جوتوں تلے دونوں عبادت گاہیں ہر روز پامال ہوتی ہیں۔عبادت گاہ دراصل زیارت گاہ ہوتی ہے ‘ سیاحت گاہ نہیں۔ زیار ت کے لیے دل کی آنکھ درکار ہوتی ہے ، سیاحت کیلئے جسم کی آنکھ کافی ٹھہرتی ہے۔کسی بھی مذہب اور عقیدے کے مرکزِ عقیدت کا احترام ہر ذی شعور کے شعور کا حصہ ہے۔ دینِ اسلام ایک بلند تر شعورکی طرف راہنمائی کرتا ہے۔۔۔ دینی شعور انسان کے مادّی شعور کی کفالت کرتا ہے۔ بعید از فہم ہے کہ دینِ حنیف پر چلنے والے دوسرے مذاہب اور مسالک کی عبادت گاہوں کو پامال کرتے پھریں۔ قرآن کریم میں مومنوں کو واضح طور پر بتا یا گیا ہے کہ تم کافروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی برا مت کہو‘ تاکہ جواب میں یہ تمہارے سچے خدا کو بُرا نہ کہہ سکیں۔۔۔ سو ‘ اپنے دین اور خدا کا تحفظ دوسروں کوعزت اور تکریم دے کر بھی کیا جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *