بدمعاشوں کی زندگیوں پر بننے والی فلمیں آخر اتنی مقبول کیوں؟

filmگذشتہ ماہ مشہور بدمعاشوں کے ٹولے ’کرے‘ کی زندگیوں پر مبنی فلم ’لیجنڈ‘ نے باکس آفس کے سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اسی طرح امریکی شہر بوسٹن کے بدنام زمانہ گینگسٹر ’وٹنی بلگر‘ کی زندگی پر مبنی فلم ’بلیک ماس‘ بھی ریلیز ہو چکی ہے جس میں مرکزی کردار جونی ڈیپ نے ادا کیا ہے۔لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر بدمعاشوں کی زندگیوں پر بننے والی فلموں میں ایسا کیا ہوتا ہے کہ شائقین ہمیشہ انھیں بہت شوق سے دیکھتے ہیں؟ کرے برادران، یعنی رونی کرے اور ریگی کرے، کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے جسٹس میلفرڈ سٹیونسن کے الفاظ یہ تھے: ’میں آپ دونوں کے بارے میں کوئی بات کر کے اپنے الفاظ نہیں گنواؤں گا۔ میرا خیال یہ ہے کہ اب آپ کی حرکتوں سے معاشرے کی جان چھوٹ جائے گی اور لوگوں کو سکون ملے گا۔‘سنہ 1969 میں دونوں بھائیوں کو مقدمہ قتل میں سزا سناتے ہوئے جسٹس سٹیونسن نے جو الفاظ کہے تھے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت غنڈوں کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔گینگٹسر پیسے کی خاطر لوگوں کو جان سے مار دیتے ہیں، اپنے مخالفین کو اذیتیں پہنچاتے ہیں، چوری کرتے ہیں، منشیات فروخت کرتے ہیں، لوگوں کو جنسی کاروبار میں دھکیلتے ہیں، اور اپنے ارد گرد کے لوگوں میں دہشت پھیلاتے ہیں۔لیکن ججوں کی خواہشات کے برعکس، جرائم کی دنیا کے لوگوں کو کبھی یہ خوف نہیں ہوتا کہ وہ ایک دن گمنام ہو جائیں گے۔ اگر ایسا ہوتا تو آج تک بدمعاشوں کی زندگیوں پر سیکنڑوں فلمیں نہ بنتیں۔اس بات کا اندازہ آپ اسی سے لگا لیں کہ کرے برادران کی بدمعاشیوں پر مبنی فلم لیجنڈ صرف سنیچر اور اتوار کے دو دنوں میں 50 لاکھ ڈالر کا کاروبار کر چکی ہے اور اس بات کے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ شائقین یہ فلم دیکھے بغیر چین لیں گے۔یہ رقم ستمبر کے مہینے میں ریلیز کی جانے والی فلموں میں اب تک کی سب سے بڑی رقم ہے۔ یاد رہے یہ اس فلم کو صرف ’بالغوں کے لیے‘ کا سرٹیفیکیٹ ملا ہے۔ اگر اسے تمام شائقین کا سرٹیفیکیٹ ملتا تو شاید یہ اب تک اس سے زیادہ کا کاروبار کر چکی ہوتیاس کے علاوہ ان کرداروں کے ساتھ ہماری یادیں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ مثلاً کرے برادران پر مقدمہ ہمیں سنہ 1960 کی دہائی کی یاد دلاتا ہے۔ یہ وہ دہائی تھی جب لندن ’ہچکولوں‘ کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس زمانے میں گینگسٹر مشہور شخصیات، سیاست دانوں اور دیگر اشرافیہ کے حلقوں میں گھْلے ملے نظر آتے تھے۔ان شخصیات میں سے اکثر کرے برادران کے دھندوں میں شامل تھے یا ان کے اثرات کے شکار تھے۔ اسی لیے ان گینگسٹروں کی سرگرمیوں کے ساتھ ہمیں ایک چمک یا کشش کا احساس ہوتا ہے۔کرے برادران جڑواں اور ہم شکل بھائی تھے جن کو قتل کے دو الگ الگ مقدموں میں عمر قید کی سزائیں ہوئی تھیں۔ مشرقی لندن میں پیدا ہونے والے ان بھائیوں میں سے ایک جیل ہی میں مر گیا تھا جبکہ دوسرے کو رہائی کے کچھ ہی عرصہ بعد کینسر ہو گیا تھا جو جلد ہی جان لیوا ثابت ہوا۔ بشکریہ بی بی سی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *