اوپڑ دی گڑ گڑ دی انیکس دی ۔۔۔

ravishفلم ’منٹو‘ دیکھی، افسوس ہوا۔۔۔!
افسوس ہوا کہ ہم ساٹھ سا ل بعد بھی اپنے ایک عظیم ادیب کا دفاع کرنے اور اسے عزت دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فلم ’منٹو‘ دیکھ کر ایک عام شخص کو فخرو شوق کے ساتھ اس کا لکھا ادب پڑھنے کی تحریک ملتی۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ جس نے منٹو کوپہلے سے نہیں پڑھا ہوا،اس کے لئے یہ فلم سہیلی بوجھ پہیلی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ گویا یہ فلم ایک عام شخص یا طالب علم کے لیے بنی ہی نہیں ہے۔یہ سچ ہے کہ پینتیس سالہ مذہبی جنونیت کے نتیجے میں ہماراآج کا سماجی ماحول ایسا ہے کہ ہم پی ایچ ڈی ادبیات کی کلاسو ں میں بھی منٹو کو پوری طرح زیر بحث نہیں لا سکتے۔ سوائے دوچاربڑے شہروں کے ان گنے چنے محفوظ کونوں کھدروں کے جو مجموعی طور پرمخصوص طبقوں کے لئے مختص ہیں۔تو کیا اس فلم کے بنانے والوں کے ذہن میں اس کا ناظر کی اہلیت کا سوال بالکل نہیں تھا؟
پہلی بار میں تو یہ فلم منٹوکے سوانحی وادبی عناصر کے بے ترتیب ٹکڑوں کی بے جوڑکولاژکاری لگتی ہے ۔ایسا تو ہونا ہی تھا،جب بیس قسطوں پر مشتمل ڈرامے کی منتخب کترنوں کودو گھنٹے کے دورانیے میں یوں فٹ کیا جائے کہ پہلے تو بطور فلم کما لیا جائے اور پھر دسمبر سے بطور ڈرامہ پیش کرکے پیسے بنا لیے جائیں، کمال ہے۔ لیکن آرٹ کی یہ اقتصادی جیومیٹری اگرسینما پربطور فلم پیش کی گئی ہے تو اس پر تبصرہ بھی اسی زاویے سے ہوگا۔ ممکن ہے کہ کچھ دوست یہ کہیں کہ یہ ایک ادبی نقاد کا تبصرہ ہے لیکن میں سوچتا ہوں کہ اگر میں ایک عام شخص ہوتا جس نے منٹو کا صرف نام سن رکھا ہوتایا بالکل ہی نہ سن رکھاہوتا تو اس فلم سے کیسے لطف اندوز ہوتا؟ میں کہانی کو کس طرح سے سمجھتا؟ منٹو یا ادیب کے بارے میں کیا امیج بناتا؟ اگر اس کی کہانی سیدھے سادے انداز میں منٹو کی زندگی پر بنائی جاتی تو شاید اتنے مسائل نہ ہوتے اور اس کا ابلاغ عام آدمی تک زیادہ سرعت سے ہوتا، لیکن اگر یوں ہو تا توپھر سرمد کھوسٹ کی ذہنی گہرائی کو فیتوں سے کیسے ناپا جاتا؟
یہ فلم نہ تو منٹو کے 1947ء سے پہلے کا امرتسر دکھاتی ہے ،وہی امرتسرجہاں وہ پیدا ہوا،رشید جہاں کے کالج میں پڑھا، باری علیگ اور آغا حشر سے ملا، جلیانوالہ باغ اورآزادی و انقلاب کی تحریکوں سے جڑا، سعادت حسن سے منٹو بنا۔یہ فلم علی گڑھ بھی نہیں دکھاتی جہاں سے علی سردار جعفری کے بعدمنٹوکو اس کے خطرناک افکار کے باعث بیماری کا بہانہ بناکر نکال دیا گیاتھا۔ اوراس فلم میں بمبئی اور دہلی بھی غائب ہیں جو منٹو کے عروج ، فلمی، ریڈیائی اور صحافیانہ مصروفیات ، ترقی پسندوں سے تعلقات اور اکلوتے بیٹے کی موت سے جڑے ہوئے تھے ۔لیکن 47ء سے پہلے کایہ سب کچھ جس نے منٹو کی تشکیل کی تھی،اس کی43 سالہ زندگی کے35 سال لے کراسے ولن بنایا تھااورہیرو بھی، ایک ناقابل برداشت ہیرو،وہ سب نظر انداز کیوں کر دیا گیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ47ء سے پہلے والے ناقابل برداشت منٹو سے جان چھڑانے کا بس یہی نسخہ دستیاب تھا؟ حتٰی کہ سامراج دشمنی، نوآبادیات، فیمنزم، تقسیم اور انسان دوستی سمیت اس کی فکر کے اہم ترین موضوعات کو بھی نہیں چھیڑا گیا۔وہ موضوعات جن میں سے کئی ایک تو پہلی باراسی نے اردو ادب کو دیے تھے اور وہ بھی جن پر آج بات کرنا گناہ اور جرم بن گیا ہے،گویا ان سے بھی جان چھڑا لی گئی،تاکہ کہا جاسکے کہ سنسر نے بخوشی پاس کردی۔ یہ سب واقعی ایسا تھا یا ہمارے فلمسازوں کے ذہنی ماؤنٹ ایورسٹ پر’ زیر تعمیر‘ لکھا ہوا ہے؟منٹو جو کہ انڈیا وپاکستان، کانگریس و مسلم لیگ، مہاتما گاندھی و محمد علی جناح ،ہندو مسلم ، خدا وشیطان سب ہی کا ناقد تھا، کیا اس کی زندگی اور اس کا عہد ایسے نہیں تھے کہ وہ ایک فلم کی شاندار کہانی بن سکتے؟چلیں منٹو کی دریافت کردہ صداقتوں کو توگولی ماریے کہ وہ تو ہیں ہی ناقابل برداشت۔ لیکن ذرا اس کی زندگی پر تو نظر ڈالیے جو بذات خود چلتی پھرتی مسالہ فلم سے کم نہیں تھی۔مگر کیا مجال کہ ہمارے ممدوح پروڈیوسر کا دھیان ادھر گیا بھی ہو۔سب کچھ تو سامنے تھالیکن بقول شخصے ارے کمبخت تو نے پی ہی نہیں۔
یہ درست سہی کہ فلم کا کیمرہ ورک، لوکیشن اور بعض جگہوں پر اداکاری وغیرہ بہت شاندارہے لیکن اس کی داد دینا ایسے ہی ہے جیسے غزل پر تنقید میں یہ کہنا کہ سمجھ تو نہیں آرہی کہ شاعر کیا کہنا چاہ رہا ہے لیکن اس کے ردیف قافیے بے مثال ہیں۔یہ بھی درست سہی کہ فلم تو فلم ہوتی ہے اس کے مقاصدادبی یا تاریخی نہیں بلکہ تفریحی و کاروباری ہوتے ہیں تو اگر انٹرٹینمنٹ ہی مقصد ہے تو پھر منٹوجیسا سنجیدہ موضوع ہی کیوں؟کچھ اور کیوں نہیں؟ لیکن اگر مرزا غالب، گاندھی یا نپولینجیسی شخصیات پر فلم بنائی جاتی ہے تو اس کے تقاضے وتوقعات بھی وہ نہیں رہتے جو فلم ’نوکر ووہٹی دا ‘یا ’ اف یہ بیویاں‘ سے متعلق ہوسکتے ہیں۔ اس لئے مجھے ڈر لگتا ہے کہ اب تک منٹو پر فحش نگاری کا الزام تھا مگر اس فلم کے بعد شرابی کی تہمت بھی لگ گئی ہے۔ ہاف ٹائم کے بعد کی ساری فلم میں اس کی شراب نوشی کے گرد ہی گھومتی رہی۔ اسے نہ صرف ایک غیر ذمہ دار شوہر اور باپ دکھایا گیا ہے جو اپنی بیمار بچی کی دوائی پر اپنی شراب کو ترجیح دیتا ہے بلکہ منٹو کو شراب کے لئے پیسوں کی بھیک مانگتے بھی دکھایا گیا ہے ۔ منٹو شناس کہتے ہیں کہ انیس ناگی مرحوم نے بھیک مانگنے کا یہ من گھڑت واقعہ محض سستی شہرت کے لئے وضع کیا تھا۔
منٹو کوبھی دوسری کئی شخصیات کی طرح فلم میں محب وطن پاکستانی ثابت کی کوشش کی گئی۔ البتہ اسے ملامتی صوفی اور صحیح العقیدہ مسلمان ثابت کرنے کا کام شاید ’منٹو2‘ یا’منٹو3‘ کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ اپنے ہیروز اور تاریخی شخصیات کوپورے کا پورا پیش کرنے کی بجائے اسے کانٹ چھانٹ کر داخلہ و خارجہ پالیسی کے عین مطابق تیار کرکے پیش کرنا ہمارا پرانا وطیرہ رہا ہے۔یہ درست ہے کہ فلم میں نہ تو منٹو کو نماز پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور نہ ہی خدا کے حضور گڑگڑاتے، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے، البتہ 786پر ضرورت سے زائد توجہ آخر منٹو کو لوگوں سے معافی دلوانے کا کون سا انداز ہے؟ ہم آج تک فیصلہ نہیں کر پائے کہ ہمیں ایک سچا پاکستانی بننے کے لیے اچھا انسان ہونا ضروری ہے یااچھامسلمان؟ایسے میں پاکستان کو دل وجان سے اپنا وطن مان کر یہاں ہجرت کرنے والے منٹو کو بار بار پاکستانی سبز مہر سے تصدیق شدہ کریکٹر سرٹیفیکیٹ جاری کرنا خود منٹو کے ساتھ کہاں کا انصاف ہے؟کیا قائد اعظم پر ’’میرا صاحب‘‘ جیسی تحریر کے بعد بھی منٹو کے لیے کسی اسٹامپ پیپر کی ضرورت رہ جاتی ہے؟ اپنے اہل وطن کی نظروں میں اپنے ایک بڑے لکھاری کو ہیرو بنانے کی بجائے یوں پیش کرنا افسوس ناک ہے۔یار سرمد صہبائی!میں یہ رونا کس سے رؤوں؟ کاش کوک سٹوڈیواور ضیاء الحقیت کی مابعدطبعیات پر پلے ہمارے یہ نئے نویلے میڈیاپرنس اپنی شاندار لیفٹ کی روایت پر نہ سہی، صرف اس کے زیر اثر بننے والی آرٹ فلموں پر ہی ایک نظر ڈال لیتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *