سیکس کے دوران دل کا دورہ پڑنے کے کتنے امکانات ہوتے ہیں؟

sex

دل کا دورہ انسان کو کئی طرح کی پریشانیوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ لوگ عام طور پر دل کے پہلے دورے کے بعد مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انھیں اپنی آئندہ زندگی میں پھر دلچسپیاں نظر نہیں آتیں۔ کئی لوگ پہلے دورے کے بعد ہر قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غذا اور دیگر سرگرمیوں کے بارے میں بار بار ڈاکٹر ز سے مشورہ کرتے ہیں۔ دل کے مریض یہ اندیشے پالنے کی وجہ سے زندگی کی کئی دلفریب لمحات کو کھو دیتے ہیں لیکن اب ماہرین نے ان کا ایک بڑا مسئلہ حل کر دیا ہے۔

جنسی عمل یا سیکس کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ یہ دل کے دورے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔اگر آپ کو کبھی دل کا دورہ پڑا ہے تو اگلی بار جنسی سرگرمی سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں۔ سائنسی تحقیق نے اب اس پریشان کن مفروضے کو مسترد کر دیا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق سیکس کا دل کے دورے سے کوئی تعلق نہیں اور خاص طور پر وہ لوگ جو ایک بار دل کے دورے کا سامنا کر چکے ہیں وہ بغیر کسی اندیشے کے بھرپور طریقے سے جنسی لمحات سے لطف اٹھا سکتے ہیں۔
تحقیق میں شامل یو ایل ایم یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ جنسی سرگرمی ایک طرح کی ورزش ہے ۔ یہ جسم کی کارکردگی کو بڑھاتی ہے۔ا‘ انہوں نے کہا کہ دو تہائی مرد ہارٹ اٹیک کے بعد جنسی عمل کے حوالے سے مشورہ مانگتے ہیں اور عورتوں کی ایک تہائی تعداد بھی اسی پریشانی کا شکارر رہتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ایسے مریضوں کو بتایا جائے کہ سیکس سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘
مذکورہ تحقیق میں 30سے70سال عمر کے درمیان کے 536ایسے مریضوں کو بطور نمونہ لیا گیا جو دل کے مریض تھے۔ دس سال کے مسلسل مشاہدے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ دل کے دورے کا جنسی عمل سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور اس عرصے میں صرف 0.7لوگ ایسے تھے جنہیں سیکس کے چند ہی منٹوں بعد دورہ پڑا باقی 78فی صد لوگوں کو دن کے مختلف حصوں میں دل کا دورپڑا جبکہ جنسی عمل سے پہلے یا فوراً بعد ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔
لوگوں کا خیال یہ ہے کہ سیکس کے بعد دوبارہ دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے لیکن اس تحقیق نے ان کی اس پریشانی کا ازالہ کر دیا ہے ۔ خیال رہے کہ یہ تحقیق جرنل آف امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع ہوئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *