شامی بچے کے بنائے خاکے نے بالغوں کو گونگا کر دیا

Deutschland Zeichnung des Krieges von einem Flüchtlingskind aus Syrien

 

جرمنی میں اس وقت ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر ایک ایسے خاکے کی دھوم مچی ہوئی ہے، جو ایک شامی مہاجر بچے نے بنایا ہے اور جس میں اس معصوم ذہن نے جنگ کی تباہ کاریوں اور پرامن زندگی کے سکون کی عکاسی کی ہے۔

اس ڈرائنگ کو ٹوئٹر پر ہزاروں بار ری ٹویٹ کیا گیا

جرمن دارالحکومت برلن سے جمعہ پچیس ستمبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق اس خاکے میں اس کے بنانے والے بچے نے اپنے جنگ سے تباہ حال وطن میں ہولناک زندگی اور جرمنی میں پرسکون زندگی کا موازنہ کیا ہے۔

جنوبی جرمن صوبے باویریا میں وفاقی پولیس کے ترجمان تھوماس شوائیکل نے ڈی پی اے کو بتایا کہ جس طرح اس بچے نے ایک سادہ کاغذ پر اپنے ذاتی تجربے میں آنے والی دو مختلف دنیاؤں اور ان سے جڑے حقائق کو تصویری شکل دی ہے، وہ ایک نابالغ ذہن کی طرف سے اپنی سوچ کے اظہار کی ایک ’بہت طاقت ور‘ مثال ہے۔

اس ڈرائنگ میں اس شامی مہاجر بچے نے، جو اس وقت باویریا میں پاساؤ کے شہر میں مقیم ہے، اپنی سوچ کا اظہار دو حصوں میں کیا ہے۔ اس ڈرائنگ کے بائیں نصف حصے میں شام میں جنگ اور قتل و غارت کی ہولناک عکاسی کی گئی ہے۔ شامی کے قومی پرچم کے نیچے ایک تباہ شدہ گھر اور ایک ایسا منظر جس میں زمین پر ہتھیار اور انسانی اعضاء بکھرے ہوئے ہیں اور ایک خاتون، جس کا ایک پاؤں غائب ہے، بیساکھیوں کے سہارے چلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ساتھ ہی اس ڈرائنگ کے دائیں نصف حصے میں، جو اس بچے کے مطابق جرمنی ہے، جرمن پرچم کے نیچے چلتے ہوئے دو افراد اپنے سوٹ کیس اٹھائے ہوئے ایک گھر کی طرف جا رہے ہیں۔ ڈرائنگ کے اسی حصے میں جرمنی کے جھنڈے اور ’پولیس‘ کے لفظ کے قریب ہی دل بنائے گئے ہیں۔

EINSCHRÄNKUNG IM TEXT BEACHTEN! Dieses Bild soll nur als Artikelbild zum Kommentar des Chefredakteurs gebucht werden Türkei Bodrum Aylan Kurdi اس سے قبل شامی تنازعے اور مہاجرین کے بحران کے حوالے سے ترکی کے ایک ساحل پر شامی بچے ایلان کردی کی لاش کی اس تصویر نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا تھا

باویریا میں وفاقی جرمن پولیس کی صوبائی شاخ کی طرف سے اس تصویر کو سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر جرمن زبان میں Sprachlos یا انگریزی میں Speechless کے ہیش ٹیگ کے ساتھ شیئر کیا گیا، تو دیکھتے ہی دیکھتے یہ تصویری پیغام نہ صرف تین ہزار سے زائد مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا بلکہ اسے قریب پونے تین ہزار صارفین نے اپنا ’فیورٹ ٹویٹ‘ بھی قرار دیا۔ جرمن اخبارات اور نشریاتی اداروں کی شہ سرخیوں میں بھی اس ڈرائنگ کا ذکر ہر جگہ پڑھنے، دیکھنے اور سننے میں آ رہا ہے۔

بشکریہ:ڈی ڈبلیو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *