بڈھ بیر، یو ٹو اور طالبان

mohammad Razaیوں توبڈھ بیر تاریخی طور پر کئی حوالوں سے مشہور ہے لیکن ہم اپنی بحث چند ایک واقعات تک محدود رکھیں گے۔ساٹھ کی دہائی میں جنرل ایوب امریکی دوستی میں اس حد تک چلے گئے کہ بڈھ بیر ایئربیس کو، جس پر حال ہی میں دہشت گردوں نے حملہ کیا، سوویت یونین کے خلاف جاسوسی پروازوں کے لیے امریکی حکومت کو دے دیا۔ یہ سب کچھ ایک خفیہ معاہدے کے تحت ہوا جس طرح جنرل مشرف نے نائن الیون کے بعد امریکی فوج کو افغانستان پر حملہ کرنے کے لیے زمینی اور ہوائی سہولیات دی تھیں لیکن پاکستانی قوم کو ان باتوں کا علم نہیں تھا۔
ساٹھ کی دہائی میں سرد جنگ اپنے عروج پر تھی۔ 1962 ء میں امریکی بڈھ بیر ایئر بیس سے ’یو ٹو‘ نامی جاسوسی جہاز اڑا کر سوویت یونین کے حدود میں جاسوسی پروازیں کرتے تھے۔ آخر کار روسیوں کے ریڈارز نے ’یوٹو‘ کو پکڑا تو اپنے جنگی جہازوں کے ذریعے سے اتار ڈالا۔ روسیوں کو جب یہ پتہ چلا کہ ’یو ٹو‘ پشاور کے قریب بڈھ ایئربیس سے اڑ کر آیا تھا تو روسی رہنماؤں نے نقشے پر پشاور کے اردگرد سرخ دائرہ کھینچ کراس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دے دی۔ جنرل ایوب نے روسی ریچھ کو چھیڑ کر پاکستان کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا تھا لیکن اس بات کا علم شاید اب بھی بہت کم پاکستانیوں کو ہو۔
بڈھ بیر ایئربیس حملہ ہو یا آرمی پبلک سکول کا اندوہ ناک قبضہ ہو، یہ سب واقعات پاکستانی حکمرانوں کی ان غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے جن کی وجہ سے ہم نے پہلے سرد جنگ اور بعد میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ’فرنٹ لائن سٹیٹ‘ کا کردار نبھانے کی حامی بھر لی۔
ہماری ساری خارجہ پالیسی کی ’کارنر سٹون‘ ہندوستان کا خوف رہا ہے۔یہ خوف بلاوجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے تاریخی عوامی اور چند ایک کانگریسی رہنماؤں کی وہ سوچ تھی جو پاکستان کو اکھنڈ بھارت کا حصہ سمجھتے تھے۔ آل انڈیا کانگریس کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کی آخری قراردادہمیشہ ایک تلوار کی مانند پاکستانی حکمرانوں کے سروں پر لٹکتی رہی اور اسی خوف سے پاکستانی رہنماؤں نے ملک کے دفاع کی خاطر عالمی تنہائی سے بچنے کے لیے ہند مخالف کیمپس کے ساتھ الحاق کیا۔ پہلے ’سیٹو‘ اوربعد میں ’سینٹو‘ نامی عالمی معاہدوں کا حصہ بنا جن کا واحد مقصد دنیا میں کمیونسٹ تحریکوں کا راستہ روک کر سوویت یونین کی عالمی وسعت کو قابو کرنا تھا۔ ہندوستان سرمایہ دارانہ مغرب کے بجائے سوویت کیمپ کے قریب رہا کیونکہ انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما جواہر لال نہرو سوشلسٹ نظریات سے متاثرتھے۔
بدقسمتی سے آزادی ہند کے وقت افغانستان کے حکمران ٹولے نے اپنی عاقبت نااندیشی میں پاکستان بنانے کی مخالفت کی اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے رکن بننے کی مخالفت کی۔ پاکستانی حکمرانوں کے لیے یہ بات کافی قابل تکلیف دہ تھی کہ افغانستان انگریزوں کے ساتھ سرحدی معاہدات کی پوری پاسداری رکھتا تھا لیکن ایک مسلمان ملک کے ساتھ وہی معاہدات ماننے سے انکاری تھا۔یوں بھارت اور افغانستان دونوں سوویت کیمپ میں چلے گئے۔ پاکستان نے بھی اپنی بقا کی خاطر سرمایہ دارانہ کیمپ میں ضرورت سے زیادہ الحاق کا فیصلہ کیا اور بعد کے واقعات گواہ ہیں کہ یہ تاریخی تسلسل اب تک قائم و دائم ہے۔ تاریخ سے پاکستان نے کچھ سبق سیکھا نہ افغانستان اور ہندوستان نے۔ حتیٰ کہ سوویت یونین نے ہزاروں روسی شہریوں کا نذرانہ پیش کیا اور افغانستان میں مداخلت کی اسے بھاری قیمت اٹھانی پڑی۔ اسی طرح ہزاروں امریکی فوجیوں کی جانیں بھی افغانستان میں اسی پالیسی کے نتیجے میں ضائع ہوئیں۔
حاصل بحث یہ ہے کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے دہشت کی وجہ سے دہشت گردی علاقائی سطح سے نکل کر عالمی شکل اختیار کر چکی ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے مابین ایک دوسرے پر الزامات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے لیکن جب تک امریکا،چین، روس، سعودی عرب، ایران، ہندوستان، افغانستان، جرمنی اور پاکستان مل کر اس خطے میں دہشت گردی ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے ایک عالمی ورکنگ نہ بنائیں اس وقت تک لوگ جنگ کا ایندھن بنتے رہیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *