تحریک انصاف کی لیبارٹری

saleem safiقدرتی وانسانی وسائل ، آب وہوا، تزویراتی محل وقوع اور فنون لطیفہ یا شعر وشاعری کے لحاظ سے دیکھا جائے تو خیبرپختونخوا اور متصل قبائلی علاقوں پر مشتمل خطہ دنیا کا خوش قسمت ترین خطہ ہے لیکن اپنوں کی غلطیوں اورغیروں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے یہ خطہ طویل عرصے سے دنیا کے بدقسمت ترین خطے کا مقام حاصل کرچکا ہے ۔ ایک بڑی وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ خطہ عرصہ دراز سے لیبارٹری کی حیثیت اختیار کرگیا ہے ۔ سوویت یونین نے اپنے کمیونزم کو گرم پانیوں تک پہنچانا چاہا تو پہلی فرصت میں لیبارٹری کی حیثیت اس خطے کو دے دی ۔ جواب میں امریکہ اور اس کے مغربی وعرب اتحادیوں نے اسکے مقابلے کا سوچا تو تمام مزاحمتی ہتھیاروں کے تجربات ا س خطے میں ہونے لگے۔ عرب جہادی، عالمی اسلامی خلافت قائم کرنے لگے تو ابتدائی تجربہ انہوں نے اس لیبارٹری میں کرنا ضروری سمجھا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اسٹرٹیجک ڈیپتھ کا تجربہ کرنا چاہا تو لیبارٹری کی حیثیت اس خطے کو مل گئی ۔ جنگ اور کشیدگی کا موجب کشمیر ہے لیکن ہندوستان اور پاکستان کے مقابلے کے سارے تجربے اس لیبارٹری میں ہورہے ہیں ۔امریکہ نے ڈرون ٹیکنالوجی بنا کر آزمانا چاہی تو تجربات کیلئے قرعہ فال اس لیبارٹری کے حصے میں آیا۔ایبٹ آباد آپریشن کے ذریعے اس نے اپنی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے کمالات کا تجربہ بھی اس خطے میں کرنا ضروری سمجھا ۔ اسی طرح اب ہم اپنے جدید ہتھیاروں کا استعمال بھی اس لیبارٹری میں کرنے لگے اور ماشاء اللہ جب پاکستان نے اپنا ڈرون تیار کیا تو اس کا پہلا تجربہ بھی فاٹا میں ہی کیا گیا۔ اسی طرح طالبان نے بھی اپنے خودکش حملوں، اور دیگر تجربات کیلئے اسی خطے کو لیبارٹری بنارکھا ہے ۔ لیکن سب سے عجیب پہلو یہ بھی ہے کہ عالمی اور مقامی اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی تجربات کیلئے بھی اس لیبارٹری کا انتخاب کررکھا ہے ۔2002 میں امریکہ سے کھیلنے کیلئے جنرل پرویز مشرف صاحب کو ایم ایم اے بنانے کی ضرورت پیش آئی تو اس کے اقتدارکے تجربے کیلئے کسی اور صوبے کی بجائے پختونخوا ہی کا انتخاب کیا گیا ۔ تب بھی پختونخوا کے لوگوں نے یہی تماشہ دیکھا جو اب پی ٹی آئی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں ۔ ایسے ایسے لوگوں نے لاکھوں ووٹ لئے کہ جن کا پہلے کسی نے نام تک نہیں سنا تھا۔ پشاور صدر میں ایم ایم اے کے ایک امیدوار حاجی عدیل صاحب سے چند ہزار روپے لے کر الیکشن سے دستبردار ہوگئے تھے لیکن چونکہ ان کا انتخابی نشان(کتاب) بیلٹ پیپر پر موجود تھا ، اس لئے ان کو دست برداری کے باوجود کئی ہزار ووٹ پڑ گئے ۔ تب ایسے ایسے لوگ ایم پی ایز بنے کہ جنہوں نے اس سے پہلے پشاور نہیں دیکھا تھا۔ کوئی اسمبلی میں اذانیں دیتارہا ، کوئی حسبہ بل بناتا اور پیش کرتا رہا تو کوئی ایل ایف او ، ایل ایف او کھیلتا رہا۔ تب اسی طرح جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے لاہور اور کراچی کے رہنما آکر پختونخوا میں قائم ہونے والی ’’خلافت راشدہ ‘‘ کا نظارہ کرتےاور یہاں اپنی حکمرانی سے لطف اندوز ہوتے تھے جس طرح کہ اب اسد عمر ، شیریںمزاری اور دیگر رہنما اقتدار اور پروٹوکول کا مزہ لینے کیلئے پشاور کے دورے کرتے رہتے ہیں۔ تب اسی طرح جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے رہنما باقی پاکستان کے لوگوں سے دعوے کررہے تھے کہ پختونخوا کا نقشہ بدل دیا گیا ہے جس طرح کہ اب پی ٹی آئی کے رہنما باقی پاکستان کے لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں ۔ ایم ایم اے کی طرح گزشتہ انتخابات میں اس لیبارٹری کیلئے قرعہ فال پی ٹی آئی کے نام نکلا اورپورے پاکستان کی حکمرانی کیلئے تیار کرنے کی خاطر یہ فیصلہ ہوا کہ پہلی فرصت میں پختونخوا کی لیبارٹری میں تجربہ کروایا جائے ۔ چنانچہ پولیٹکل منیجمنٹ کے ذریعے ایک طرف ووٹوں کی ایسی بارش کروائی گئی کہ خود ووٹ حاصل کرنے والوں کو بھی یقین نہیں آرہا کہ اتنے ووٹ انہوں نے کیسے حاصل کئے اور دوسری طرف دیگر پارٹیوں سے کچھ تجربہ کار لوگوں کو یہاں لابٹھایا گیا۔ چنانچہ اس وقت پختونخوا کی اس لیبارٹری میں پی ٹی آئی کے تجربات زورو ں پر ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں تجربہ کرنے والے سائنسدان ایک نہیں بلکہ درجنوں ہیں ۔ وزیراعلیٰ کا اپنا گروپ ہے ، اعظم سواتی کا الگ اور اسد قیصر کا الگ ۔ اوپر سے پختونخوا میں جہانگیر ترین صاحب کا الگ گروپ ہے ، اسدعمر اور شیریں مزاری کا الگ جبکہ سیف اللہ نیازی وغیرہ کا الگ گروپ ۔ ہر معاملے کو ایک گروپ ایک طرف کھینچتا ہے ، دوسرا دوسری طرف کھینچتا ہے اور تیسرا تیسری طرف۔ ضیاء اللہ آفریدی اسی چکر میں اندر ہوگئے ، ورنہ کرپشن کے الزامات تو درجنوں وزیروں کا پیچھا کررہے ہیں اور ریحام خان اس لئے متنازع بنی ہیں کہ جہانگیر ترین گروپ ان کا حامی ہے جبکہ اسد عمر اور شیریں مزاری کا گروپ ان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور خان صاحب کے ساتھ اختلافات بڑھانے میں مصروف ہے ۔ یہ تجربات کیا گل کھلائیں گے اور اس کے نتیجے میں اس لیبارٹری(پختونخوا) کا حشر کیا ہوگا ، پوری طرح تو تب پتہ چلے گا کہ جب ایم ایم اے کی طرح تحریک انصاف کی حکومت کے بھی پانچ سال پورے ہوں گے اور آنے والے آکر اداروں کے اندر ہونے والی سیاسی تخریب کاری سے پردہ اٹھائیں گے لیکن المیہ یہ ہے کہ اس وقت اس غریب اور پسماندہ صوبے کی یونیورسٹیاں ان تجربوں کی زد میں آگئی ہیں ۔ اے این پی کی حکومت بلاشبہ کرپشن میں اعلیٰ مقام پر فائز تھی لیکن اس کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ اس دور میں صوبے کے اندر یونیورسٹیوں کی تعداد دگنی ہوئی ۔ اب تحریک انصاف کے قائدین کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھی ہے کہ یہ یونیورسٹیاں چونکہ اے این پی کے دور میں قائم ہوئی ہیں ، اس لئے ان کے وائس چانسلرز بھی اے این پی والے ہوں گے حالانکہ یہ منصب کوئی پی ٹی آئی کی صوبائی صدارت نہیں کہ خان صاحب جس وقت جس کو چاہیں عنایت کردیں بلکہ ان وائس چانسلروں کا تقرر مروجہ قاعدے اور ضابطے کے مطابق ہوا ہے ۔ چنانچہ منصفوں کی حکومت نے وائس چانسلروں کا جینا حرام کردیا ہے ۔ ایک ایک کرکے ان وائس چانسلروں کو بدنام کیا جارہا ہے۔ مردان یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر احسان علی نے جس طرح چند سال میں یونیورسٹی بنا کر اسے ملک کی دیگر اعلیٰ یونیورسٹیوں کے برابر لاکھڑا کیا ، اس پر پورے علاقے میں انہیں خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے لیکن انہیںاس قدر بدنام کردیا گیا کہ احتساب کے نام پر گرفتار کئے گئے۔ تحریک انصاف کے بقراطوں نے وائس چانسلر کیلئے جو نیامعیار بنا دیا ، اس پر پورے خیبر پختونخوا میں صرف پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر رسول جان پورے اتر رہے ہیں لیکن ان کو ہٹانے کیلئے بھی گورنر کو سمری بھجوائی گئی اور چونکہ وہ سمری بالکل بکواس تھی اس لئے گورنر نے واپس کردی ۔ اب ان کو کسی اور طریقے سے ہٹانے اور تنگ کرنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ طالبان کے بعد جب سوات میں یونیورسٹی قائم ہوئی تو اس کے پہلے وائس چانسلر ہمارے بھائیوں جیسے دوست ڈاکٹر محمد فاروق خان مرحوم مقرر ہوئے ۔ انہوں نے بلامعاوضہ رضاکارانہ طور پر یہ ذمہ داری سنبھالی تھی ۔ ان کو طالبان نے اس جرم میں گولیوں کا نشانہ بنا دیا۔ ان کے بعد یہ ذمہ داری سنبھالنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ اب اس کیفیت میں ڈاکٹر محمد جہانزیب نے زندگی کا رسک لے کر وائس چانسلر کی حیثیت سے اس یونیورسٹی کو اپنے پائوں پر کھڑا کیا،لیکن موجودہ حکومت نے ان کو ہٹانے کیلئے بھی سمری گورنر کو بھجوادی جو ظاہر ہے کہ خلاف قانون ہونے کی وجہ سے گورنر نے اپنے پاس رکھ لی۔ یہاںوجہ صرف یہ ہے کہ دو مقامی ایم پی ایز کی مرضی کے مطابق انہوں نے نوکریاں نہیں دلوائیں۔ اب دنیا یونیورسٹیوں کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری دینے کی طرف جارہی ہے لیکن خیبرپختونخوا میں ایکٹ کے ذریعے ترمیم کرکے وائس چانسلروں اور چانسلر یعنی گورنر کے اختیارات کو کم کیا گیا ہے ۔ یقینا احتساب اور چیک اینڈ بیلنس کا سسٹم ہونا چاہئے اور کسی بھی فرد کو مطلق اختیارات نہیں ملنے چاہئیں ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بعض وائس چانسلر کرپشن یا غیرقانونی کاموں میں ملوث ہوں گے لیکن اس کیلئے چیک اینڈ بیلنس کا سسٹم ہونا چاہئے نہ کہ وائس چانسلروںکو وزیرتعلیم یا اپنے ایم پی ایز کا غلام بنا دیا جائے ۔ یقینا سب وائس چانسلرز فرشتے نہیں لیکن خود خان صاحب نے اعلیٰ تعلیم کا وزیر کونسے افلاطون کو بنا دیا ہے ؟۔ گزشتہ انتخابات تک مسلم لیگ(ق) سے وابستہ مشتاق غنی کو اعلیٰ تعلیم کا قلمدان دے دیا گیا ہے جن کے بارے میں گزشتہ انتخابات کے دوران بھی خان صاحب نے کہا تھا کہ اگر ایک ووٹ سے بھی میں وزیراعظم بنوں تو بھی ان کو پارٹی ٹکٹ نہیں دوں گا۔ تعلیم کے میدان میں خود وزیر صاحب کا کوئی تجربہ نہیں ۔ اب چونکہ پارٹی میں خود ان کی اپنی پوزیشن کمزور ہے ، اس لئے ان کو یونیورسٹیوں سے متعلق کوئی ایم پی اے سفارش کرے ، ایم این اے یا کوئی اور تو وہ ان کے احکامات کی تعمیل میں وائس چانسلروں کو تنگ کرنے میں دیر نہیں لگاتے ۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس وقت پورے پختونخوا کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز عذاب میں مبتلا ہیں ۔ دوسری طرف یونیورسٹی اساتذہ کی تنظیم نے ہڑتال کی دھمکی دی ہے لیکن کوئی فکر کرنے کی بجائے خان صاحب الٹا اپنی تقریروں میں وائس چانسلروں کو برابھلا کہہ رہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جو حکومت اعلیٰ تعلیم کیلئے میرٹ پر پورا اترنے والا وزیرتعلیم مقرر نہ کرسکے ، وہ تمام یونیورسٹیوں کیلئے میرٹ پر وائس چانسلرز کہاں سے مقرر کرسکے گی ۔ جو تجربے کرنا چاہتی ہے ، پی ٹی آئی کی حکومت کرلے ۔ یہ بدقسمت لیبارٹری تجربات کی عادی ہوچکی ہے ۔ یوں بھی اس بدقسمت صوبے کے عوام نے جب ووٹ دینے کی غلطی کی ہے تو اب ان کو سزا بھی ملنی چاہئے لیکن خان صاحب سے بس ایک دست بستہ گزارش ہے کہ وہ اپنی صوبائی حکومت کو روکیں کہ وہ اس تباہ حال صوبے کی اعلیٰ تعلیم کو تباہ نہ کرے ۔ خان صاحب! اس صوبے کے جوانوں نے آپ سے بے پناہ محبت کی ہے اور شاید ان کی ایک بڑی تعداد اب بھی کرتی ہے ۔ ان کی اس محبت کا یہ صلہ کہاں کا انصاف ہے کہ ان کی یونیورسٹیوں کے سربراہوں اور اساتذہ کا جینا آپ کی حکومت میں حرام ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *