صاحب کے ہزلہ پن سے ہر ایک کو گلہ ہے

waqar ahmad Malikمیں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھا ‘ جب ابنِ رشد اپنے پوتے کے ساتھ جمعہ پڑھنے تشریف لائے تھے‘ میں گواہ ہوں ان گھڑیوں کا جب نمازیوں کی توجہ خطبہ سے ہٹ گئی تھی۔ اور وہ ایک جسیم شخص جس نے نفرت اور نخوت بھرے لہجے میں کہا تھاکہ یہ شخص یونانی کالے علم کا عربی کی مقدس زبان میںترجمہ کرتا ہے۔ اور پھر کیسے سب نمازیوں کی آنکھوں سے شرارے نکلتے تھے اور ابنِ رشد اپنے پوتے کو اور مضبوطی سے اپنے ساتھ چپکاتا تھا۔ جب ابنِ رشد کو پوتے سمیت مسجد سے باہر پھینکا جا رہا تھا تو میں بھی جمعہ کی نماز چھوڑ کر ابن ِ رشد کے ساتھ ہو لیا تھا۔ نمازیوں کی گالیوں کا مرکز بھلے ابنِ رشد ہوں ‘ کچھ گالیاں حصہ بقدرِ جثہ مجھے بھی نصیب ہوئیں۔ ایک گلی میں ہم اکٹھے تھے میں‘۔ ابنِ رشد اور اس کے پوتے کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ جب خوفزدہ بچے سے ابنِ رشد وعدہ کر رہا تھا کہ گھر جا کر وہ اسے مٹی کا بیل بنا کر دے گا۔ میں پیچھے چل رہا تھا۔ مجھے نہیں معلوم ابنِ رشد کی آنکھوں میں آنسو تھے یا نہیں۔ خواہ مخواہ جھوٹ بولنے کا کیا فائدہ؟ اگلی گلی کے نکڑ سے دنیائے عقل و خرد کا یہ عظیم پیمبر اپنے گھر کی جانب ہو لیا۔
میں اس وقت بھی گالیاں کھا رہا تھا جب الخوارزمی کی ”الکتاب المختصر فی حساب الجبر و المقابلہ “ پر تنقید ہو رہی تھی۔ اس کو کافروں کا کام قرار دیا جا رہا تھا۔ بھلا براہم گپتا کے کام کو آگے بڑھانا ‘ دنیائے حساب میں تجرید لے کر آنا ‘ جدید حساب کی بنیادیں رکھنا اور الجبرا کا باپ کہلانا۔ کیسے قابلِ تعریف ہو سکتا تھا؟ میں اور میرے جیسے چندجو کہ گنتی میں ہمیشہ سے بہت کم تھے،الخوارزمی کا دفاع کر رہے تھے۔ گالیوں کا مرکز یہاں بھی الخوارزمی کی ذات تھی۔ ہمیں ہمارا حصہ۔ بقدر جثہ ہی مل رہا تھا۔ یقینا الخوارزمی کے مقابلے میں بہت ہی کم تھا۔
میں جلال الدین کے چند سو سپاہیوں میں سے ایک تھا جو بغداد کو چنگیز خان سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ لاکھوں کی تعداد میں فوج بغداد میں کچھ اور ہی سر گرمیوں میں ملوث تھی۔ میںبغداد میں فرقہ پرستوں ‘ مذہبی تاجروں اور مناظرے کے چالیسویں روز ایک دوسرے کی داڑھی نوچنے والوں کوبے بسی سے دیکھتا رہا۔ پھر آخر کار جلال الدین تھک گیا۔ مایوس ہو کر کہیں مشرق وسطیٰ کی جانب چلا گیا۔ میں بھی کسی نامعلوم گا?ں میں جا کر رک گیا اور کھیتی باڑی کرنے لگا۔ کچھ اڑتی اڑتی خبریں بغداد سے آتیں تھیں۔ لاکھوں کتابیں جل گئیں اور کھوپڑیوں کے مینار وغیرہ۔ میں نے ان سنی کی۔ میرے اپنے مسائل تھے۔ میرا سب سے پسندیدہ اور پیارا دوست۔ بکری کا بچہ تین دنوں سے حالتِ زکام میں تھا۔ میری طرف سے پوری دنیا کو آ گ لگے۔
منصور کے سولی چڑھنے کے دوران بھی میرا ایک بزدلانہ سا احتجاج تاریخ کا حصہ ہے۔
اس دور میں کوانٹم فزکس بھلے نہ ہو ‘ بھلا وحدت کے تعامل کے حرکی چکر (Dynamic Cycle) کو سائنسی بنیادوں پر نہ سمجھا گیا ہو۔
لیکن فلسفہ موجود تھا۔ فکر موجود تھی۔ خیال(Idea)، ظاہری صورت (Form) اور وجدان(Inspiration) کے تعلق کو سمجھ لیاگیا تھا۔
منصور کو اس کے قد کے مطابق پھانسی چڑھا دیا گیا۔ میرے حصے میں چند تھپڑ اور گالیاں آئیں کہ میں خاندان ِ عقل میں کوتاہ قد تھا۔ مزید یہ کہ بزدل بھی تھا
وقت گزرتا گیا۔ انسانی تفاخریعنی سائنس اور فلسفہ مسلمانوں کے قبیلے سے ہجرت کر گئے۔ ٹانواں ٹانواں کہیں کوئی ستارہ طلوع ہوتا رہا لیکن تیرگی بلا کی تھی۔
ہاں ‘ اس مسلسل تاریکی کی وجہ سے ایک مزاحمت شعبہ اظہاریہ میں پیدا ہوئی ‘ وارث شاہ اور بلھے شاہ نے کھری کھری سنائیں۔ تاریکی نے ان کو کافر کہا۔
میں ’کوتاہ قد‘ اپنے بابا کے ساتھ تھا۔
میرا ہونا نہ ہونا چاہے برابر ہو۔ میں پھر بھی تھا۔ کہ اس بہانے چند گالیاں ہی میرے مقدر میں آتیں تھیں۔ اور کیا سعادت تھی....
میں نے اقبال کی بھی مدح کی ‘ مولانا امین احسن اصلاحی کو محبت سے دیکھا‘ علامہ نیاز فتح پوری کو تاریکی کو چیرتی ایک کرن کے روپ میں دیکھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام ہزار سالہ تاریکی کے بعد روشن سورج ہی لگے۔ علامہ پرویز کی عقلی توجیہات کو ستائش کی نظروں سے دیکھا چاہے میرا ان سے کلی اتفاق نہ بھی ہو۔ اور یہ مشاہیر کلی اتفاق چاہتے بھی کہاں تھے۔ علم کی انتہا ‘ یعنی دروازہِ عجز پہ کھڑے تھے۔ یہ تو فقظ اتنا کہہ رہے تھے کہ عقل سے ہمیں یہی سمجھ آیا۔ ہو سکتا ہے اس سے بہتر وضاحت ہمارے بعد آجائے۔
میں فیض اور جالب کے بائیں کندھے کے ساتھ کھڑا رہا، ظلمت اور ضیا کے مابین فرق کو سمجھتا رہا۔ سمجھاتا رہا۔ گالیاں کھاتا رہا۔
طالبان کی جاہلیت پر مبنی مذہبی تعبیر کو غلط کہا۔ امریکہ کی طاقت کے حصول کے لیے خدا فروشی کی مذمت کی۔
ملالہ جیسی ذہین بیٹی کے سر پر اپنا کانپتا ہاتھ رکھا۔ گالیاں کھائیں۔ ملالہ سے بہت کم۔ کہ میں کوتاہ قد تھا۔ بزدل تھا۔
لیکن....
آپ کو معلوم ہے ہوا کیا؟
پچھلے ہزار سال کو غور سے دیکھئے یہ تمام مذکورہ بالا مشاہیر جو اپنے وقت کے کافر تھے ‘ اپنے مرنے کے اوسطاً پچاس سال بعد مسلمان قرار پائے ‘ مسند ِ قدرومنزلت پر بٹھائے گئے
ایک ’طاقتور ہوا ‘چلی اور.... طالبانی نظریات آہستہ آہستہ مقبولیت کھو بیٹھے۔
یاد ہے۔ جب فیض اور جالب کا ساتھ دیا ‘ ضیائی اور طالبانی نظریات کی مخالفت کی تو جم غفیر تھا کہ گالیاں دیتا تھا ‘ باعثِ حیرت ہے کہ یہی جم غفیرپچاس سال بعد آپ کو فیض اور جالب سمجھا رہا ہو۔ ہوا کا رخ تبدیل ہو تو آ پ کو طالبانی نظریات کے خلاف دلائل دے رہا ہو۔ !
یہ بھول چکا ہو کہ اس کا تعلق اس قبیلے سے ہے جس کو حقیقت پچاس سال بعد سمجھ آتی ہے۔ لیکن ڈھٹائی سی ڈھٹائی ہے۔
مشاہیر مسلمان ہو گئے۔ شاید کہ نظریات بھی مسلمان ہو جائیں۔ لیکن۔
ہم تب بھی گالی کا ہدف تھے، دشنام کا مرکز تھے اور آج بھی ہیں.... آخر کیوں؟

صاحب کے ہزلہ پن سے ہر ایک کو گلہ ہے” پر ایک تبصرہ

  • اکتوبر 16, 2015 at 9:59 PM
    Permalink

    کیا خوب تجزیہ کیا ہے امت مسلمہ کے ہزار سالوں کا،علم سے یہی دوری ہماری تنزلی کی وجہ ہے۔ اتنی خوب صورت تحریر پر آپ کے ساتھ ساتھ محترم وجاہت مسعود صاحب مباک باد کے مستحق ہیں۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *