دوپہر کی دھوپ میں رات کی خاموشی

razi ud din razi

پڑھنے والوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ رضی الدین رضی نے صحافی کا روپ دھار رکھا ہے دراصل وہ ایک تخریب کار ، دہشت پسند اور عادی مجرم شخص ہے۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ امیر المومنین ضیاالحق کے عہد زریں میں ہر جمہوری کارکن تخریب کار کہلاتا تھا۔ رضی الدین رضی اسی زمانے سے سرکاری مخبروں کی فائلوں اور گماشتہ صحافیوں کے کاغذات میں تخریب کار چلا آ رہا ہے۔ یہ شخص حضرت ضیاالحق کی اسلامی آمریت کے خلاف نظمیں لکھا کرتا تھا اور ملتان جیسے مدینہ الاولیا شہر میں ادبی سرگرمیوں کی مدد سے نظام صلوٰة اور اصلاح معاشرہ کمیٹیوں کی کارکردگی میں خلل ڈالتا تھا۔ اس کی دہشت پسندی کا یہ عالم تھا کہ جب نوے کی دہائی میں آدھی رات کے گیڈر مراقبے کی غرض سے قبرستانوں میں جمع ہو کر قوم کی قبر کھودتے تھے تو یہ اپنی یک کالمی خبروں کی بالٹی بھر کر ان کی فاختہ اڑا دیتا تھا۔ اب جب کہ بتقاضائے عمر رائیگاں اس کے قوائے رئیسہ (جو دراصل ہمیشہ غریب رہے ہیں) مضمحل ہو رہے ہیں۔ اس کے مجرمانہ رجحانات بدستور قائم ہیں۔ آج جب کہ قوم جلوس شاہی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ادارتی صفحوں پر شادیانے بج رہے ہیں ، اخبارات میں اور ٹیلی ویژن پر ہر کہ و مہ کو قصیدہ لکھنے اور کہنے کی آزادی ہے، گلیوں میں آمدہ مسرتوں کے پھریرے لہرا رہے ہیں۔ ملک دشمن دم دبا کر فرار ہو رہے ہیں اور بچ جانے والے تہ تیغ کئے جا رہے ہیں۔ یہ شخص رضی الدین رضی قوم کے عروج کی اس گھڑی کو ’سقوط جاں کا فسانہ‘ لکھتا ہے۔ دھوپ کو اندھیرا اور دن کو رات کہتا ہے۔ ہمیں مطالبہ کرنا چاہیے کہ رضی الدین رضی کا قلم وسیع تر قومی مفاد میں ضبط کر لیا جائے ۔ قلم سے آگہی پھیلانے سے کہیں بہتر ہے کہ اس آلہ مستطیل سے صالحین اور رجال رشید کی پشواز میں ایسا کمر بند ڈالا جائے جسے مبارک ساعتوں میں کشادگی اختیار کرتے ہوئے آزار نہ پہنچے ۔ (مدیر)

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لمبی چپ تان لینے کو جی چاہتا ہے ۔یہ احساس اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ لوگوں کی اکثریت اب وہی کچھ سننا چاہتی ہے جو انہیں مسلسل سنایا جا رہا ہے اور وہی کچھ پڑھنا چاہتی ہے جو انہیں پڑھایا جا رہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے لکھاریوں نے عوامی جذبات کو مدِنظر رکھ کر وہی طرز بیان اختیار کر لیا جو آسانی کے ساتھ’سب کو‘ ہضم ہو جاتا ہے ۔حالت تو یہ ہو گئی کہ حساس اداروں کی طرح تمام موضوعات ہی حساس قرار پاگئے ۔کہنے کو ہم آزاد میڈیا کے دور میں سانس لے رہے ہیں ۔جمہوریت اور آزادی ء اظہار کے نا م نہاد علمبردار چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ یہ آزادی ہم نے خیرات میں نہیں لی ۔اس کے لئے ہم نے بہت سی قربانیاں دی ہیں لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ قربانیاں ہم نے ضرور دیں لیکن یہ سب کچھ ہمیں کسی جد وجہد کے نتیجے میں تو نہیں ملا۔(بلکہ جدوجہد کے باوجود ہمیں کچھ بھی نہیں ملا)حضور دینے والوں نے آپ کوجو کچھ بھی عطا کیا اپنی مرضی سے عطا کیا اور اتنا ہی عطا کیا جتنا وہ عطا کرنا چاہتے تھے ۔ہم تو وہ غلام ہیں کہ جنہیں خود کو غلام کہنے کی بھی اجازت نہیں ۔ہم زنجیریں پہن کر آزادی کا ڈھونگ رچاتے ہیں ۔ایک زمانہ تھا کہ ہم مارشل لا کو مارشل لا اور غیر جمہوری دور کو غیر جمہور ی دور کہہ لیا کرتے تھے اب تو حالات اس نہج پر آگئے کہ ہم فوجی عدالتوں والے دور کو بھی جمہوری کہنے پر مجبور ہیں ۔دہشت گرد ہمیں جب اور جہاں چاہتے ہیں، مار جاتے ہیں اورہم خود کو غیر محفوظ بھی نہیں کہہ سکتے ۔عجب تضادبھرا معاشرہ ہے کہ جس میں بہت سے نجس بھی مقدس قرار دے دئے گئے ۔جرائم پیشہ افراد معزز اور قاتل رکھوالے قرار پائے ہیں۔
مزید کیا لکھوں کہ اس سے زیادہ کی تاب نہیں اور اگر لکھ بھی دیا تو اس سے کیا فرق پڑے گا ۔لوگ تو وہی پڑھنا چاہتے ہیں جو پڑھوانے والے پڑھوارہے ہیں اور وہی سننا چاہتے ہیں جو سنوانے والے سنوا رہے ہیں ۔چپ تان لیں تو خاموشی شور مچاتی ہے اور بولیں تو۔۔۔ چھوڑیں صاحب! آپ کو کس منتشر خیالی میں الجھا دیا ۔ ہوا تو کچھ بھی نہیں بس ابھی جنرل پرویز مشرف کا انٹرویو سنا ہے اور اس وقت سے حیرت میں ہوں۔ یہ کیسا ملک ہے کہ جہاں قتل اور غدار ی کے مقدمات میں زیر حراست ملزم کو گفتگو کی مکمل آزادی ہے اور الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے والی عاصمہ جہانگیر کو طوفانِ بد تمیزی کا سامنا ہے ۔ خاموشی کی دہشت میں شور سنائی دیتا ہے اور شور بھی ایسا کہ عقل و خرد کی ایک بھی پکار سنائی نہیں دیتی۔ المیہ یہ کہ دن کے اجالے میں کھڑے ہیں اور گھپ اندھیرے کے خوف نے ہمیں آ لیا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *