فکری توازن

Dr. noman nayyerاعتدال ایک ایسا رویہ ہے جو زندگی کے ہر شعبہ میں انسان کو ممکنہ خسارے سے روک لیتا ہے انسان فطری طور پر کسی ایک جانب جھولنے کا عادی بن چکا ہے کبھی تو وہ خیر و برکت کا سرچشمہ تو کبھی شر کا استعارہ بن جاتا ہے خیر کی جانب سبقت زیادہ تر انسان کو عصبیت میں مبتلا کر دیتی ہے جبکہ تعصب ایک لاعلاج ذہنی تفاوت ہے جو معاشرے میں عموماً فتنہ کا باعث بن جاتا ہے انسان کے مابین ہونے والی نزع کا عمومی ماخذ دراصل یہی تعصب ہی ہوتا ہے۔ تعصب مذہبی معاملات میں ہو یا دنیاوی، بہرحال ایک غیر متوازن رویے کے اظہار کا نام ہے۔ فکر انسانی وجود کو ڈرائیو کرتی ہے چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان کے ہر عمل کے پیچھے دراصل ا±س کی فکر ہی کارفرما ہوتی ہے چاہے انسان اس کا ادراک رکھتا ہو یا اس سے منزہ ہو بہرحال وہ فکر کی اطاعت اپنے اعمال سے ثابت کرتا رہتا ہے اگر فکر میں جھول ہے تو عمل میں بھی جھول صاف نظر آ جائے گا اگر فکر میں توازن ہے تو پھر عمل بھی متوازن ہی ظاہر ہو گا توازن نظم کی اکائی ہے دنیا میں آپ جہاں پر بھی اخلاقیات یا سماجیات میں تنظیم دیکھیں گے تو اس کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کے بعد معلوم ہوگا کہ یہ دراصل فکری توازن کا ہی نتیجہ ہے فکری غلامی اگر انسان سے ا±س کی خودی چھین لیتی ہے تو مطلق فکری آزادی ا±س کو ایک آزاد جانور بننے پر مجبور کر دیتی ہے انسان دراصل نیت کے خدوخال کا نام ہے۔ عمل ایک روشنی کی مانند انسان کے لئے تکمیلِ اسباب کا باعث بنتا چلا جاتا ہے فکری غلامی جہاں انسان کو ہست و بود سے بیگانہ کر دیتی ہے تو وہاں مطلق فکری آزادی انسان کیلئے ایک مستقل سزا بن جاتی ہے ۔ معروف فرانسیسی وجودی فلاسفر ژان پال سارتر نے اپنے ایک خطبہ میں سامعین کے سامنے یہ اقرار کیا کہ انسان اب تک صرف اپنی آزادی کی سزا جھیل رہا ہے اور بلاشبہ یہ ایک طرح کی بے ثمر اذیت بن جاتی ہے
ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی
ایک کامیاب اخلاقی و سماجی زندگی کا راز فکری توازن برقرار رکھنے میں مضمر ہے ۔فکر میں توازن دراصل مختلف الجہات مطالعہ سے پیدا ہوتا ہے مطالعہ سے مراد صرف کتب کا مطالعہ نہیں، کتب میں تو مختلف انسانوں کے مختلف النوع تجربات کو قلم بند کر دیا جاتا ہے تاکہ پڑھنے والا ا±نہی غلطیوں کو دہرانے سے محفوظ ہو جائے جو مصنف یا مولف سے سرزد ہو چکیں کیونکہ علم تجربات کا نچوڑ ہے اور کتاب ان تجربات کا لفظی اظہار ہوتی ہے اسکے علاوہ انسانی ذات کا براہ راست مطالعہ بھی انسان کو فکری افراط و تفریط سے محفوظ کر دیتا ہے اپنی ذات پر غور کرنے کے علاوہ اپنی ذات سے متعلق لوگوں کا مطالعہ بھی فکری توازن پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ فکری توازن اخلاقی و معاشرتی نظم پیدا کرنے کیلئے انتہائی اہم ہے ۔فکر کا مثبت یا منفی جھول دراصل انسان کو اپنے ہی جیسے دوسرے انسان کے حق میں درست فیصلہ کرنے سے روک دیتا ہے یہی وجہ ہے پھر انسان کے اخلاق میں بے ترتیبی پیدا ہو کر معاشرتی بدنظمی کا باعث بن جاتی ہے ۔
اخلاقیات کا سنہری اصول یہی ہے کہ آپ اپنے لئے وہی پسند کریں جو آپ دوسرے کیلئے پسند کرنا چاہیں گے اس زریں اصول پر عمل کرنے سے انسان اپنی فکر میں بہترین توازن قائم کر سکتا ہے بہترین دانش انسان کے اندر موجود ہوتی ہے اور اندر سے مراد دراصل انسان کی ذات ہے وجدان ہے اس کا اور یہی وجدان انسان کیلئے بہترین رہنما ثابت ہوتا ہے مطلق تقلید بھی ایک ایسا عنصر ہے جس کے سبب انسان عصبیت میں مبتلا ہو جاتا ہے ہمارے ہاں عموماً اس جانب توجہ نہیں دی جاتی ہے یہی وجہ ہے ہماری اخلاقی اقدار اور معاشرتی ترجیحات زبردست بے ترتیبی کا شکار ہو گئے ہیں ہماری فکر جب کسی مخصوص مکتب یا شخصیت تک محدود ہو جائے تو ہم انصاف کے تمام تر تقاضوں کو پس پشت ڈال کر خود کو حق کا اکلوتا علمبردار سمجھ کے اپنے مخالفین پر چڑھ دوڑتے ہیں جس کے باعث اخلاقی زبوں حالی اور معاشرتی فساد بامِ عروج پر پہنچ جاتا ہے کیونکہ انسان اپنے جسم کا زخم تو بھول سکتا معاف بھی کر سکتا ہے لیکن اپنی روح پر لگا زخم نہیں بھول سکتا یہی چھوٹی سی چنگاری پھر شعلہ بن کے پورے معاشرے کو باہمی انتقامی فضائ کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے اصول یہ ہے کہ فکر کو قواعد کا پابند کرنا چاہیے شخصیات کا نہیں کیونکہ جب شخصیت پر تنقید ہوتی ہے تو پھر اس شخصیت سے متعلق افراد کی فکر میں ایک بھیانک بھونچال رونما ہو جاتا ہے جو انسانی رویہ میں زبردست تعصب پیدا کرکے انسان کو نہ صرف اخلاقی لحاظ سے پسماندہ کر دیتا ہے بلکہ اس بدخلقی کا خمیازہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے شخصیت پر تنقید کوئی معنی نہیں رکھتی شخصیت سے وابستہ نظریات پر تنقید دراصل علم و حکمت کا ابدی حسن ہے انسان ہی نظریات وضع کرتا اور پھر انسان ہی دراصل ان نظریات کو عقیدت و تقدیس کے غلاف میں اوڑھ لیتا ہے کوئی بھی نظریہ یا فکر فی نفسہ مقدس نہیں ہوتے جب انسان کے جذبات متعلق ہوتے ہیں نظریات سے تو نظریہ عقائد کی شکل اختیار کر لیتا ہے تب نظریہ عقیدہ بن جاتا ہے جس کی تقدیس سے ہر انسان بخوبی واقف ہے تقدیس روحانی معاملات میں اکسیرِ راسخ ہے کہ انسان کے روحانی وجود کو تمکنت فراہم کرتی ہے تقدیس کو ہم ایک روحانی ضابطے سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں مگر اصل الاصول وہی ہے کہ انسان اپنی فکر میں ہر ممکنہ جھول کو یکسر دور کر دے تاکہ انسان کے اندر دوسرے انسان کی فکر کو قبول کرنے کا نہ صرف ظرف پیدا ہو سکے بلکہ ایک بہترین فکری اخوت کی فضائ بھی قائم ہو جائے انسان کے اس عمل سے پورا معاشرہ فکری لحاظ سے متوازن ہو جائے گا اور جب معاشرہ فکری لحاظ سے متوازن ہو گیا تو گویا انسانی رویہ اخلاقی و سماجی لحاظ سے اوج پر پہنچ گیا.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *