کوئی شرم ہوتی ہے

 yp-blogخدا نے اس ملک میں ایسے ایسے لوگوں کا رزق لگایا ہے کہ اگر وہ سرحد پار کر کے کہیں اور جا بسیں تو فقط دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے ان کے چودہ طبق روشن ہو جائیں، اپنے ملک میں نہ صرف ان کا رزق کشادہ ہے بلکہ یہ لوگ خود کو سکینڈ ہینڈ قسم کا دانش ور بھی سمجھتے ہیں۔ان کی دانش وری کی تازہ مثال اس وقت سامنے آئی جن انہوں نے افغان طالبان کے قندوز پر قبضے پر بھنگڑا ڈالنا شروع کر دیااور لیکن اس بھنگڑے کا ٹیمپو اس وقت اچانک ٹوٹ گیاجب یہ خبر آئی کہ افغان فورسز نے قندوز کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے اور یوں ان دانش وروں کی تجزیہ نگاری چند گھنٹے بھی نہ نکال سکی۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا،ڈھٹائی کی عظیم مثالیں انہوں نے قائم کی ہیں پر ماتھے پر آج تک شرمندگی کی ایک بوند نمودار نہیں ہوئی۔ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *