سخت فیصلے کرنے کا وقت قریب ہے

Najam Sethiڈرون حملے کا شکریہ کہ حکیم اﷲ محسود، جو2009 سے تحریک ِ طالبان پاکستان کا قائد تھا، آخرکار ہلاک ہو چکا ہے۔ اُس سے پہلے اس کا پیشرو بیت اﷲ محسود جس نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، بھی ڈرون حملے میں ہی اپنے انجام کو پہنچا تھا۔ حکیم اﷲ پاکستان اور امریکہ کا بدترین دشمن تھا۔ اس پر پاکستان نے پانچ کروڑ جبکہ امریکہ نے پچاس کروڑ روپے کا انعام رکھا ہوا تھا۔ اب تک تحریک ِ طالبان پاکستان اور اس کی چھتری تلے کام کرنے والے مختلف گروہ 2009 سے لے کر اب تک تین ہزار فوجیوں اور سپاہیوں اور چالیس ہزار کے قریب عام شہریوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔
حکیم اﷲ محسود امریکہ کو اس لئے مطلوب تھا کہ اس کی مدد سے القاعدہ کے جنگجو خلیل ابو ملال البیلاوی نے افغانستان میں ایک حملے میں سی آئی اے کے سات ایجنٹوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ 2010 میں نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں ہونے والے بم دھماکوں میں جو پاکستانی دہشت گرد ملوث تھا، اس کو بھی حکیم اﷲ محسود کا تعاون حاصل تھا۔ ایک حقیقت، جس سے بہت کم لوگ واقف ہیں، یہ ہے کہ اس کا کزن قاری حسین محسود لشکر ِ جھنگوی کا سرکردہ رہنما تھا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والی خونریزی میں بھی ملوث رہی ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے کراچی اور بلوچستان میں ایک فرقے کو بھاری جانی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس کی ذمہ داری طالبان کے حمایت یافتہ مختلف لشکر، خاص طور پر لشکرِ جھنگوی قبول کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں منظر ِ عام پر آنے والی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان کا افغان خفیہ اداروں سے بھی خطرناک اشتراک ہو چکا ہے۔ دراصل حکیم اﷲ کے نائب لطیف اﷲ محسود کو افغانستان میں امریکی فورسز نے گرفتار کیا تو پتہ چلا کہ وہ افغان اداروں کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ پاکستانی سیکورٹی فورسز پر حملے کر کے بھاری نقصان پہنچایا جاسکے۔
یہ بات اہم ہے کہ حکیم اﷲ محسود پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کرنے کے خلاف تھا۔اپنی ہلاکت سے چند دن پہلے بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں اس نے کہا تھا کہ مذاکرات سے پہلے اس کی شرائط ہیں کہ ڈرون حملے بند کئے جائیں، پاکستان وزیرستان ایجنسی سے افواج واپس بلائے، تمام گرفتار شدہ طالبان قیدیوں کو رہا کیا جائے اور اس جنگ میں ہلاک ہونے والے طالبان کے ورثہ کو بھاری معاوضہ دیا جائے۔ درحقیقت گزشتہ ستمبر میں ہونے والی اے پی سی، جس میں سیاسی قیادت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کی تھی، کے بعد سے حکیم اﷲ محسود کی منظوری سے طالبان نے چار بڑی کارروائیاں کی تھیں۔ ان حملوں میں پاک فوج کے میجر جنرل اور ایک کرنل کی ہلاکت، پشاور میں چرچ پر حملہ، پشاور کے ہی قصہ خوانی بازار پر حملہ اور خیبر پختونخوا کے وزیر ِ قانون کی ہلاکت شامل ہیں۔
جب حکیم اﷲ محسود پاکستان کا اتنا شدید دشمن تھا اور وہ مذاکرات کرنے یا ریاست کی عملداری تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھا بلکہ وہ افغان ایجنسی سے مل کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے تھا تو پھر جماعت ِ اسلامی کے منور حسن نے اُسے شہید کیوں قرار دے ڈالا؟ چوہدری نثار کیوں اصرار کر رہے ہیں کہ ڈرون حملے نے مذاکرات کو سبوتاژ کر دیا حالانکہ مذاکرات تو ابھی شروع ہی نہیں ہوئے تھے؟عمران خان کو ایک دہشت گرد کی ہلاکت نے اتنا برہم کیوں کردیا ہے؟ وہ کیوں آپے سے باہر ہو رہے ہیں کہ وہ نیٹو سپلائی لائن بند کردیں گے؟ کیا ایسا کرتے ہوئے وہ ریاستِ پاکستان کو نقصان نہیں پہنچائیں گے؟ بات یہ ہے کہ عمران خان اور منور حسن ملکی مفاد کو نقصان پہنچاتے ہوئے بدترین سیاست کررہے ہیں۔ وہ نواز حکومت کے لئے اندرونِ اور بیرونِ ملک بحران پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ عوام کی خیبر پختونخوا میں ان کی مخلوط حکومت کی ناقص کارکردگی پر سے توجہ ہٹی رہے۔ اُنہیں توقع ہے کہ ڈرون حملوں اور امریکہ مخالف جذبات کا سہارا لے کروہ لوگوں کو نواز حکومت کے خلاف ابھار کر امن و امان کا مسئلہ پیدا کر دیں گے۔ اس سے پاک امریکہ تعلقات خراب ہو جائیں گے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کو ملنے والی رقوم کا سلسلہ بھی رک جائے گا۔ اس طرح مرکزی حکومت مالی بحران کا شکار ہو کر حکومت کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔
چوہدری نثار علی خان کا غصہ سمجھ میں آتا ہے کیونکہ وہ درحقیقت سمجھ رہے تھے کہ ڈرون حملے نے مذاکرات کو سبوتاژ کر دیا ہے۔ ایک طرف طالبان یہ سمجھ رہے ہیں کہ حکومت نے مذاکرات کا جھانسہ دے کر ڈرون حملہ کیا ہے اور یہ ایک بڑے فوجی اپریشن کا پیشہ خیمہ ہے۔دوسری طرف چوہدری صاحب یہ بھی نہیں چاہتے کہ اپوزیشن امریکہ مخالف جذبات کو کیش کرا کے حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر دے۔ اس دوران پی پی پی، اے این پی اور ایم کیو ایم درمیانہ راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وہ اس وقت نہ تو کھل کر چوہدری نثار اور نہ ہی عمران خان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے یا ملک کے حق میں بھی ٹھیک نہیں ہے اگر اس وقت ملک انتشار کا شکار ہوتا ہے۔ اس طرح یہ جماعتیں قومی سیاست کر رہی ہیں جبکہ عمران خان اور جماعتِ اسلامی کچھ اور چاہتے ہیں۔
ہم توقع کرسکتے ہیں کہ پارلیمینٹ میں امریکہ مخالف اور پاکستان نواز عناصر کا ٹکرائو ہونے جارہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک اور اے پی سی بلائی جائے اور کہا جائے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی پھر کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن لکھ رکھیں کہ نیٹو سپلائی لائن بند نہیں ہوگی۔ سیاسی قوتیں اس کی حمایت نہیں کریں گی۔ اسی طرح ڈرون حملوں کو بند کرانے کا مطالبہ بھی نہیں کیا جائے گا چنانچہ پی ٹی آئی کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہو گا کہ وہ اپنے صوبے کی اسمبلی سے قراردار منظور کرائیں اور سپلائی روکنے کا مطالبہ کریں تاہم یہ بات اس سے اگے نہیں بڑھے گی۔ اسی دروان ٹی ٹی پی کے اندر بھی پھوٹ پڑنے کی اطلاعات ہیں۔ ان کے اندر بھی قیادت کا بحران سراٹھا رہاہے۔ ہو سکتا ہے کہ مزید ڈرون حملے ہوں اور ان کے نتیجے میں طالبان کی طرف سے سخت ردِ عمل آئے پھر وہ وقت ہو گا جب حکومت کو بھی کوئی سخت فیصلہ کرنا پڑے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *