امن کے داعی کا جہدِ مسلسل

Najam Sethiنواز شریف صاحب 1997 سے دلیل کے ساتھ ہندوستا ن کے ساتھ قیامِ امن کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں، لیکن دونوں ممالک کی داخلی سیاسی مجبوریوں اور محدود مفادات نے ان کے اٹھائے گئے اقدامات کو ثمر بار نہیں ہونے دیا۔ 1997 میں نواز شریف نے ہندوستانی وزیرِ اعظم اندرکمار گجرال کے ساتھ مربوط مذاکرات کی راہ اپنانے کا فیصلہ کیا لیکن وہ اپنے بھارتی ہم منصب کو ان میں کشمیر کو شامل کرنے پر نہ راضی کرسکے۔ 1998 میں ہندوستان کی طرف سے ایٹمی دھماکوں نے مذاکرات کے امکانات کو ہوا میں اُڑا دیا۔ ہندوستان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرنے کی نواز شریف کی سب سے کامیاب کوشش اُس وقت دیکھنے میں آئی جب بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے1999 میں پاکستان کا دورہ کیا ۔ اُن کی لاہور یاترا کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا لیکن اُس عمل کو جنرل پرویز مشرف کی کارگل مہم جوئی نے پٹری سے اتاردیا۔
2013 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے پر نوازشریف اسٹبلشمنٹ کے مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے بھارتی ہم منصب، نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے کے لیے چلے گئے ۔ ان کے پیشِ نظر دونوں ہمسایہ ریاستوں کے درمیان اعتماد سازی کی فضا قائم کرنا تھا۔ اُنھوں نے ہندوستان کو ایف ایم ا ین (تجارت کے لیے انتہائی پسندیدہ ریاست) کا درجہ دینے کی پیش کش کی۔ درحقیقت یہ ہندوستان کا گزشتہ دودہائیوں سے مطالبہ تھا کہ پاکستان تجارت کی راہ اپنائے کیونکہ اس میں ہی دونوں ریاستوں کا بھلا تھا۔ تاہم کچھ حلقوں کو اس میں پاکستان کی نسبت ہندستان کوزیادہ فائدہ پہنچتا دکھائی دیا۔ دوسری طرف، بی جے پی کچھ انتخابی حلقوں، خاص طور پر پہلے کشمیر اور اب بہار، میں کامیابی کے لیے پاکستان کے خلاف سخت موقف اختیار کرتی دکھائی دی۔ چنانچہ بھارتی حکومت نے مسٹر شریف کا دوستی کا بڑھایا ہوا ہاتھ جھٹک دیا۔ بہرحال نواز شریف اس ضمن میں ہارماننے کے لیے تیار نہیں۔صورتِ حال سے بددل ہوئے بغیر اُنھوں نے ایک مرتبہ پھر، جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں، انڈیا کی طرف صلح کی جھنڈی لہردی۔
پاکستانی وزیرِ ا عظم کی حالیہ امن پیش کش چار نکات پر مشتمل ہے... کشمیر کے دونوں حصوں سے فوجیں نکال لی جائیں، لائن آف کنٹرول پر 2003 کی جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کیا جائے، دونوں ممالک کی فوجیں سیاچین سے نکل جائیں، دونوں ممالک طاقت کے استعمال اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرنے سے گریز کریں۔تاہم بات یہ کہ کشمیر کے حل طلب مسلے کو یواین سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت کا احساس دلاتے ہوئے اُنھوں نے احتیاط کی کہ اُن کی طرف سے پیش کی گئی امن تجاویز بھارت پر ’’چڑھائی کرنے‘‘ کے مترادف نہ سمجھی جائیں اور ان کی وجہ سے سرحد پر تناؤ اور کشیدگی میں اضافہ نہ ہوجائے۔ اُنھوں نے عالمی برادری کو بالعموم اور ہندوستان کو بالخصوص یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ دھشت گردی خطے کے لیے اُتنا بڑا خطرہ نہیں جتنا پاکستان کے لیے اور یہ کہ اس کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان بہت کامیابی سے جاری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مسٹر شریف کے ہاتھ میں ثبوتوں کا ایک پلندہ بھی تھا کہ ہندوستان فاٹا، بلوچستان اور کراچی میں ہونے والی دھشت گردی میں ملوث ہے، لیکن اُنھوں نے بہتر سمجھا کہ اپنی تقریر میں اس کا حوالہ نہ دیں۔ اس کے لیے اُنھوں نے ہندوستان کے ردِعمل کا انتظار کرنا مناسب سمجھا۔فی الحال سرحد پار سے مثبت ر دعمل دیکھنے میں نہیں آیا ۔ کشمیر تو ایک طرف، مودی سرکار پاکستان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے مسائل بھی حل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ درحقیقت وہ ایک طے شدہ پالیسی کے مطابق پاکستان کے ساتھ تناؤ کو بڑھائے ہوئے ہے۔ سیکرٹری خارجہ سطح پر ہونے والی میٹنگ کو صرف اس بہانے سے منسوخ کرنے ، کہ پاکستانی وفد حریت راہنماؤں سے ملنا چاہتا تھا، پر خود بھارت کے اندر سے بھی تنقید ہوئی کیونکہ یہ برس ہا برس سے ایک روایت تھی کہ دورے پر آئے ہوئے پاکستانی افسران حریت رہنماؤں سے بھی ملاقات کرتے تھے۔ ماضی کی بی جے پی حکومت کے دوران بھی ایسا ہوچکا تھا۔ یہ بات بھی ناقابلِ فہم ہے کہ ہندوستان اب پاکستان کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کے لیے کیوں تیار نہیں حالانکہ کئی عشروں سے اُس کا اپنا مطالبہ تھا اور اب پاکستان آخر کاراس کے لیے تیار تھا۔
درحقیقت اس بات کے قوی ثبوت موجود ہیں کہ آج پاکستان میں پروان چڑھنے دھشت گردی کے پیچھے ہندوستان کا ہاتھ ہے۔ یہ دلیل بھی بہت وزنی ہے کہ آج سرحد پر ہونے والی کشیدگی بڑھانے کی ذمہ داری ہندوستان پر عائد ہوتی ہے کیونکہ جب پاکستان کی فوج کا ایک بڑا حصہ مغربی علاقوں، فاٹا، کراچی اور بلوچستان میں اپریشن میں مصروف ہے تو وہ اپنی مشرقی سرحد کو خاموش رکھنا چاہے گا۔ درحقیقت اس وقت پاکستان میں ایک سوچ پختہ ہوچکی ہے کہ اس کی سکیورٹی کو ہندوستان سے زیادہ افغانستان اور مغربی سرحد سے خدشات لاحق ہیں، چنانچہ اس کی عسکری کارروائیوں کا فوکس انہی علاقوں پر ہے۔ بھارت کی طرف سے دکھائی جانے والی ہٹ دھرمی کی ایک وجہ بہت واضح ہے۔ مودی حکومت کو سہارا دینے والا آرایس ایس داخلی اور خارجی سطحوں پر بہت سے سیاسی عزائم رکھتا ہے۔ کشمیر میں ہونے والے انتخابات سے پہلے نریندر مودی نے علیحدگی پسندوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو منسوخ کردیا۔ اس کے نتیجے میں بی جے پی کشمیر میں مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ اب بہار میں ہونے والے انتخابات میں اس نے پھر پاکستان مخالف بیانیے کو ہواد ی ہے۔ بھارتی افسران کا کہنا ہے کہ وہ ان دونوں ممالک کے درمیان سپورٹس تعلقات اور کرکٹ سیریز ہونے کا مستقبل میں کوئی امکان نہیں۔ ان حالات میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ مودی سرکار نواز شریف کی خیر سگالی کا کب مثبت جواب دے گی۔ کشمیر کے دونوں حصوں سے فوجیں نکال لینے کی تجویز ناقابلِ عمل دکھائی دیتی ہے ، اور اسی طرح سیاچین سے بھی کوئی فوج پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ کچھ ہندوستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اگلے ہفتے ہوئے والے انتخابات میں بی جے پی نے اچھی کارکردگی دکھائی تو ہو سکتا ہے کہ اس کا پاکستان کے بارے میں موقف قدرے نرم ہوجائے ۔ یقیناًکرکٹ اور تجارت تناؤ کم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں، لیکن اگر پاک بھارت کرکٹ سیریز ہوبھی جائے تو بھی ہم مودی سرکارکو واجپائی جیسی سوچ اپناتے ہوئے نہیں دیکھیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *