توہین کے قانون پر تنقید توہین رسالت نہیں

qadriaaممتاز قادری کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ توہین کے قانون پر تنقید کرنا توہین رسالت کے زمرے میں نہیں آتا اس لیے دیکھنا یہ ہے کہ مقتول سلمان تاثیر توہین رسالت کے مرتکب ہوئے بھی تھے یا نہیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران بینچ نے ریمارکس دیے کہ ممتاز قادری کے وکیل جسٹس (ر) نذیر اختر نے اپنے موکل کی درخواست کے حق اور سزائے موت کے خلاف جو دلائل دیے غیر متعلقہ ہیں، جن سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سلمان تاثیر نے توہین رسالت کی تھی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون پر تنقید توہین رسالت کے مترادف نہیں ہوسکتی جبکہ اخباروں میں شائع ہونے والی خبروں کی صورت میں جو ثبوت دیے گئے ہیں وہ ناکافی ہیں۔درخواست کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔ ممتاز قادری کے وکیل کل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔واضح رہے کہ سابق گورنر پنجاب اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے 2 بار سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف ممتاز قادری کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قتل کے مقدمے میں سزائے موت کو برقرار جب کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت دی جانے والی موت کی سزا کو کالعدم قرار دیا تھا۔وفاق کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت سزائے موت کالعدم قرار دیے جانے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جب کہ ممتاز قادری نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *