میرے لاہور اور آج کے لاہور کا موازنہ

 nusrat-javedاختر وقار عظیم کی ’’ہم بھی وہیں موجود تھے‘‘ پڑھنے کے بعد بہت شدت سے خیال آنا شروع ہوگیا ہے کہ ایک ’’جیسا میں نے‘‘ دیکھا نوعیت کی کتاب لکھنے کا وعدہ میں نے بھی کئی برس سے خود سے کررکھا ہے۔ کتاب لکھنے کے لئے مگر یکسوئی چاہئے جو میرے نصیب میں لکھی نہیں گئی۔ مکمل فراغت کے دنوں میں بھی خود کو فروعی معاملات میںالجھائے رکھتا ہوں۔ پتہ مار کر کتاب لکھ بھی لوں تو اسے چھاپے گا کون۔ چھپ گئی تو اس کی چند کاپیاں خود ہی دوستوں کو بھجوانا ہوں گی۔ شاید میرے کچھ بزرگ کالم نگار اس پر تحسین بھرے کلمات بھی لکھ ڈالیں۔ اس کے باوجود ہرگز یقین نہیں کہ یہ کتاب مناسب تعداد میں بک جائے گی اور اس کی رائلٹی کے ذریعے میرے رزق کا کچھ بندوبست ہو جائے گا۔

ادب کے حوالے سے میری کوئی شناخت نہیں۔ قرۃ العین حیدر مگر ناول نگاری کے ہنر میں یکتا تھیں۔ مجھے یقین ہے کہ ان کا ’’آگ کا دریا‘‘ لاکھوں کی تعداد میں متعدد ایڈیشنوں میں چھپا ہے۔ میں نے ان کی لکھی ہر کتاب خرید کر پڑھی ہے مگر مرتے دم تک قرۃ العین حیدر کو یہ رنج رہا کہ انہیں اپنے ناولوں سے باقاعدہ اور معقول آمدنی کا بندوبست نہ ہو پایا۔ اس دُکھ کے ساتھ وہ لکھتی چلی گئیں تو وجہ وہ آسائش تھی جو انہیں ایک خوشحال ماں باپ سے ورثے میں ملی تھی۔ مجھے لکھنے سے پیسے نہ ملیں تو قرض لینا پڑتا تھا۔ بیوی نے ملازمت کرکے سہارا نہ دیا ہوتا تو شاید صحافت بھی چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا۔ نجی ٹیلی وژن آئے تو کچھ راحت ملی۔
اخباری کالم پڑھنے والوں کو ویسے بھی موجود کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی جستجو رہتی ہے۔ ان دنوں سوال یہ ہے کہ NA-122 کا حلقہ کون جیت رہا ہے۔ مجھ سے بھی اس ضمن میں اپنی رائے دینے کا تقاضہ ہو رہا ہے۔ کسی حلقے کے انتخاب کا ’’نتیجہ‘‘ سنانے سے پہلے مگر ضروری ہے کہ آپ اس حلقے میں کچھ وقت گزاریں۔ لاہور گئے ہوئے مجھے کئی ماہ ہو گئے ہیں۔ میرا شہر ہے۔ کبھی اس کے ماحول اور تاریخ پر مجھے بہت فخر ہوا کرتا تھا اب مگر اس شہر میں جانا ہو تو بہت دُکھ ہوتا ہے۔
میرے بچپن کا لاہور باغوں اورگلابوں کا شہر تھا۔ بزرگ بہت شفیق اور لوگ بہت سادہ ہوا کرتے تھے۔ اندرون شہر میں ہر شخص اپنے ہمسایوںاور محلے داروں کو خوب جانتا تھا۔ ان کے دُکھ اور درد میں برابر کا شریک ہوتا۔ اب اس شہر کی محفلوں میں جائوں تو وہاں موجود کئی افراد کو یقین دلانا پڑتا ہے کہ میرا تعلق بھی لاہور سے ہے۔
مجھے دہری کوفت اس وقت محسوس ہوتی ہے جب کسی ریستوران میں جائوں تو بیرے کو اُردو میں سمجھانا پڑتا ہے کہ مجھے تندور سے نکلی سرخ اکڑی ہوئی روٹی سالم چاہئے۔ میرے بارہا سمجھانے کے باوجود وہ ٹھنڈی ہوئی روٹی کے چھری سے چار ٹکڑے کرکے عموماً سرخ کپڑے میں لپیٹ کر لے آتا ہے۔
لاہور میں بولی جانے والی پنجابی کا لہجہ اور بہت سارے الفاظ ان دلاوروں سے مستعار لئے گئے تھے جو محمود غزنوی کے زمانے سے اس شہر میں آباد ہونا شروع ہوگئے تھے۔ چوہٹہ، کوچہ، محلہ اور ان میں سے اکثر کے نام ان ہی دلاوروں سے وابستہ ہیں۔ اب وہ زبان اور اس کے محاورے ہرگز سننے کو نہیں ملتے۔ مشرقی پنجاب سے آئے مہاجروں کا لہجہ ’’کھارے ماجھے‘‘ کا ہے اور لاہور ’’میٹھے ماجھے‘‘ کا حصہ تھا۔
راوی ہم بھارت کو بیچ چکے ہیں اور لاہور میں کبھی کسی کو خیال ہی نہیں آتا کہ کبھی سوچے کہ لندن دریائے ٹیمز اور پیرس سین کے بغیر اپنا تاریخی اور تہذیبی تسلسل کیسے برقرار رکھ سکتا ہے۔
آج کا لاہور ’’ہائوسنگ سوسائٹیوں‘‘ کا لاہور ہے جس نے پیدا کئے ہیں قبضہ گروپ اور نودولتیئے۔ یہ ’’پھجے‘‘ کے اب Synthetic ہوئے پائے کھا کر Native ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈائٹنگ اور جم کے عادی یہ ’’لاہوریئے‘‘ میرے شہر کو دوبئی جیسا جعلی مگر ’’کاسمپولیٹن‘‘ شہر بنانے پر بضد ہیں۔ اب تو سنا ہے کہ دہلی دروازے کے شاہی حمام کو اس کی اصل حالت میں تعمیر کر دیا گیا ہے۔ وہاں سے آپ کو ’’اندرون شہر‘‘ کی تاریخ وثقافت سمجھنے کے لئے گائیڈز بھی مل جاتے ہیں۔
چند ہفتے پہلے میری بیٹیاں بھی وہاں گئی تھیں۔ اپنی پھوپھیوںکی وجہ سے انہیں گائیڈ کی ضرورت تو محسوس نہ ہوئی مگر مسجد وزیر خان کو انہوں نے Grand اور Exotic پایا۔ بڑے اشتیاق سے انہوں نے میرا مشن ہائی سکول رنگ محل بھی دیکھا اور اسی کی خستہ عمارت دیکھ کر بہت مایوس ہوئیں۔
دہلی دروازہ محض ’’شاہی حمام‘‘ ہی نہیں تھا۔ یہاںوہ عمارت بھی تھی جہاں کوتوالِ شہررہا کرتا تھا۔ ہمارے The Nation کے سلیم بخاری کے والد بھی 1960ء کی دہائی میں وہاں رہتے رہے ہیں۔ مسجد وزیر خان اپنے تئیں ایک شاہکار ہے مگر اس کے سامنے ایک مزار بھی ہے۔ ہمارے بچپن میں سنا جاتا تھا کہ وہاں رات کو ایک شیر آکر پہرہ دیتا ہے۔
مسجد وزیر خان کے سامنے والی گلی میں داخل ہوں تو ’’بودی جی‘‘ کی ہٹی آتی تھی۔ وہ پتنگیں بنایا کرتے تھے۔ ہاتھوں کی انگلیوں پر چمڑے کے خول چڑھائے گھنٹوں خود میں کھوئے ہوئے لکڑی کی سلاخیں تراشتے رہتے جن کے ساتھ کاغذ لپیٹ کر پتنگ بنائی جاتی ہے۔ اپنے ہنر میں ان جیسا انہماک میں نے آج تک کسی اور شخص میں نہیں دیکھا۔ ’’آنہ لائبریری‘‘ بھی انہوں نے شروع کی تھی اور جب میں ان سے منٹو کے افسانے مانگے تو انہوں نے ڈانٹ کر انکار کر دیا تھا اور میرے والد کو بھی آگاہ کر دیا کہ میرے چلن پر نگاہ رکھنا ہوگی۔ شکر ہے میرے کالج پہنچنے کے چند ماہ بعد وہ فوت ہوگئے ورنہ منڈا بگڑجانے کا انہیں بہت دُکھ ہوتا۔
لاہور کی سیاست کو اب میں ٹی وی اینکروں کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان کی اکثریت علیم خان کو کامیاب قرار دے چکی ہے۔ تین روز پہلے ٹی وی ریموٹ کا بٹن دبایا تو ایک چینل پر Repeat چل رہا تھا ایک رپورٹ کا جو ایک خاتون اینکر نے بڑی توانائی کے ساتھ NA-122 کے دورے کے ذریعے تیار کی تھی۔
وہ اینکر اس بات پر بہت خوش تھی کہ PTI کی ریلی میں خواتین کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔ لینڈکروزر گاڑیوں کی پچھلی نشستوں پر دھوپ کے چشمے لگائے بیٹھی یہ خواتین ’’تبدیلی‘‘ لانے کو بے چین تھیں۔ ایک خاتون سن روف کھول کر گاڑی کے اوپر براجمان تھیں۔ انہوں نے اینکر کو بتایا کہ یہ ریلی دھرم پورہ جا رہی ہے۔ لاہوریا ’’دھرمپورہ‘‘ کہتے ہوئے دو آنکھوں والی ’’ھ‘‘ کو گرادیتا ہے۔ گاڑی کی چھت پر بیٹھی خاتون کی دو آنکھوں والی’’ھ‘‘ مگربہت ٹھوس اور شفاف تھی۔ اس پر ڈرامائی Stress دیا گیا تھا۔
مجھے بہت خوشی ہوئی کہ دھرمپورہ میں اتنی خوش حالی آگئی ہے اور وہاں کے رہنے والوں نے گاڑیوں کی چھتوں پر خواتین کے بیٹھنے کو معیوب سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔ ’’تبدیلی‘‘ معاشرت اور اس کے رویوں ایسی ہی Change کا نام ہے۔ اسے ٹی وی سکرینوں پر دیکھ کر خوش ہو لیتا ہوں۔ انہی یادوں کو تاسف کے ساتھ بیان کرنے والی کتاب کیوں لکھوں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *