چوہوں کی ایک نئی نسل کی دریافت

2149029سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے انڈونیشیا میں چوہوں کی ایک نئی نسل دریافت کی ہے۔ دریافت کی گئی نئی نسل کو ’ہایورنومِس ٹیومکی آئی‘ کا نام دیا گیا ہے جو خنزیر جیسی ناک والے چوہوں پر مشتمل ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ’یہ دوسرے چوہوں سے غیر معمولی طور پر مختلف اور منفرد خصوصیات کے حامل ہیں۔‘ ان میں سے پانچ چوہوں کو آسٹریلیا، انڈونیشیا اور امریکہ کے سائنسدانوں نے ماہ جنوری کے آغاز میں سلاویسی جزیرے سے دریافت کیا تھا۔ وکٹوریا میوزیم کے ممالیہ جانوروں کے مہتمم کیون رو کا کہنا تھا کہ اس نسل کے متعلق ’اس سے پہلے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ملتے۔‘ رو کے مطابق ’ہم اس علاقے کے دوردراز پہاڑوں کے سروے اور ایشیا اور آسٹریلیا میں ارتقائی سیاق وسباق کے متعلق جاننے کے ایک مشن پر تھے۔ ان چوہوں کے متعلق اب کوئی بھی نہیں جانتا اور نہ ہی کسی کو یہ معلوم ہے کہ اس طرح کے چوہے جنگلات میں کس طرح کی زندگی گزارتے تھے۔‘

کیون رو نے کترنے والے جانوروں کے ارتقا کے علم میں مہارت حاصل کر رکھی ہے۔ انھوں نے دیگر سائنس دانوں اور مقامی افراد کے ایک گروہ کے ہمراہ مضافاتی جنگلاتی علاقے تک رسائی حاصل کرنے کے لیے انڈونیشیا میں چھ ہفتے گزارے۔ انھوں نے بی بی سی کے ساتھ خنزیر نما ناک کے حامل چوہوں کی دریافت کے ’دلچسپ لمحات‘ کی یادیں بھی بانٹیں۔ انھوں نے بتایا ’ہم کئی دنوں سے رات رات بھر گھات لگائے بیٹھے رہتے تھے کہ اسی دوران میرا پاؤں ایک بالکل نئی قسم کے چوہے سے ٹکرایا۔ میں نے فوری طور پر چلا کر اپنے ساتھیوں کو پُکارا کیوں کہ میں جانتا تھا کہ یہ ایک نئی نسل ہے۔‘ چوہے ’صحت مند، بھرے ہوئے معدوں‘ کے ساتھ لگ بھگ 250 گرام وزن کے دکھائی دیتے تھے۔

رو نے مزید بتایا کہ سلاویسی جزیرے سے نئے دریافت کیے جانے والے ممالیہ بھی اِن سے ملتے جُلتے تھے لیکن ’وہ ایک جیسے نہیں تھے۔گذشتہ سال ہم نے اسی جزیرے سے بحری اور بغیر دانتوں والے چوہے بھی دریافت کیے تھے۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’ظاہر ہے کہ ان کے خنزیر سے مشابہ نتھنے بہت منفرد ہیں۔ لیکن ان میں اپنی جسامت کے چوہوں کے لحاظ سے چہرے کی لمبائی، لمبے کان اور نچلے جبڑے پر لمبے لمبے دانت بھی منفرد ہیں جو زیادہ تر چوہوں کی ایک خاص قسم شرو میں ہی پائے جاتے ہیں۔ ان کے لمبے پشمی بال ہمیں صرف آسٹریلوی نسل کے ممالیہ میں ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔‘ ان چوہوں کو حنوط کرنے کے بعد انڈونیشیا کے ایک میوزیم میں رکھ دیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *