خوش رہنے کی پاکستانی کتاب۔۔۔

waqar ahmad Malikخوشی اور غم میں فرق تو شاید ہماری سمجھ میں کچھ آتے ہیں لیکن ‘ ہم کہیں ہیجان یعنی Excitement اور خوشی کو گڈ مڈ کر بیٹھے ہیں ‘ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیجان کا خوشی سے کیا تعلق؟
پہلا منظر نامہ
آپ ناران کاغان یا مری جائیں ‘ آپ کو بغرضِ حصولِ خوشی ‘ جم غفیر ملے گا ‘ گاڑی روک کر پوری آواز میں سپیکر کھول کر ناچنے والے حضرات ملیں گے۔
بھونپو بجاتے ، حلق سے چنگھاڑتے ، خواتین پر آوازیں کستے نوجوان ملیں گے ۔
آپ کو ایسی گفتگو بھی شاید سننے کو مل جائے جہاں ایک نوجوان دوسرے کو رازدارانہ انداز میں بتا رہا ہو کہ ’’پیلے دوپٹے ‘‘ والی کے ’’پھنسنے‘‘ کے شدید امکانات ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔
یا ٰیہ کوئی ایسی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان شراب کی کھپت کے حوالے دنیا میں ایک ’مقام‘ رکھتا ہے‘ رات کی محفلوں میں یہ کوئی انہونا منظر نہیں کہ اتنی شراب پی کہ قے سے فرصت نہیں اور تھوڑا طبیعت سنبھلی نہیں کہ ہوس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اور چڑھا لی۔۔۔ اور جناب کو کچھ معلوم نہیں کہ کیا بکے جا رہے ہیں ۔
شادیوں پرکچھ منظر نمایا ں ہیں۔آتش بازی کہ ٹھاہ پٹھا ہ میں کہیں خوشی تلا ش کی جا رہی ہے ۔۔اور دلہن کے گھر کے سامنے ’جشنِ فتح‘ لازمی جزو ہے ۔
شراب کے ڈرم پی جانے اور خواتین یا ہیجڑے رقاصاؤں سے لپٹ لپٹ جانا کوئی انہونی خبرنہیں۔
کھانے پر ہلڑ بازی اور پلیٹ میں بوٹیوں ‘ سلاد ‘ سالن اور چاولوں کا پہاڑ تعمیر کرنے میں بھی کوئی ہیجانی کیفیت تلاش کی جا سکتی ہے ۔
موٹر سائیکل پر ون ویلنگ، گاڑیوں کی آنکھیں چندھیا دینے والی ہیڈ لائیٹس، آگے والی گاڑی کو گالی نما ’ڈِپر‘ دینے۔تیز رفتار گاڑی سے کسی ٹریفک پولیس والے کو گالی دے جانا۔۔۔ اور اشارہ توڑنا اور اشارے کے احترام میں رکے لوگوں پر ایک نظر ایسی ڈالنی کہ ان سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں ہے۔
دوسرا منظر نامہ
میں خوش ہو جاتا ، ا گر ڈھنگ کی نوکری لگ جاتی (نوکری لگ گئی )۔
میں خوش ہو جاتا اگر بخیر و خوبی شادی ہو جاتی (شادی ہو گئی)۔اللہ اولاد جیسی نعمت سے نواز دیتا تو کیا بات ہو جاتی ۔ زندگی ایک ڈگر پہ چل پڑتی (اولاد ہو گئی)۔
بیٹا میٹرک میں اعلیٰ نمبر لے جاتا تو رشتہ داروں کے سامنے سر اٹھا کر چلنے کہ قابل ہو جاتا۔(بیٹا اعلیٰ نمبروں سے پاس ہو گیا)۔
بیٹی کی شادی ہو جاتی تو باقی زندگی سکون سے گزر جاتی۔(ہو گئی بیٹی کی شادی بھی) ۔۔۔
حج کر لیتا تو زندگی کی آخری گھڑیا ں سکون اور خوشی کے ساتھ جی لیتا (ہو گیا حج بھی)۔
ان صاحب سے پوچھیے کہ 70 سال کی عمر میں اب آپ خوش ہیں؟ کیا آخر کار آپ نے خوشی حاصل کر لی؟
جواب ملے گا۔۔۔ بس ہماری تو جیسے تیسے گزر گئی ۔۔اللہ بچوں کے نصیب اچھے کرے ۔۔۔!
پہلا منظر نامہ ہیجان سے بھر پور ہے اور دوسرے منظر نامہ میں خوشیوں کو مشروط کرنے کی ہماری مضبوط روایت ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ہیجانی خوشی اتنی ہی نقصان دہ ہے جتنا غم و الم، نفسیاتی حوالے سے یوں سمجھ لیں جیسے ایک انتہا پرخود اعتمادی (self esteem) کے دشمن، غصہ، غم ، خوف ، مایوسی اور کراہت جیسے منفی جذبے ہیں تو دوسری انتہا پر حد سے زیادہ خود اعتماد ی کی ماں ۔۔۔ ہیجانی خوشی کھڑی ہے۔
غم والم، غصہ، نفرت۔۔۔ خوشی، سکون۔۔۔ ہیجان
درمیان میں خوشی اور سکون کی کیفیت ہے ۔ جب بھی آپ درمیان کو چھوڑتے ہیں تو مخصوص جسمانی ردعمل دیکھنے میں نظر آتا ہے، جیسے غم میں آنسو، خوف میں دل کی غیر معمولی دھڑکن وغیرہ اور اسی طرح ہیجانی کیفیت میں دل کی تیز دھڑکن ، بلڈ پریشر، پسینہ وغیرہ نمایاں علامات ہیں ۔
غم ، کراہت ،خوف اور مایوسی ہمارے ذہن کے ایک حصے Amygdala کی پیداوار ہیں ۔ ارتقائی مراحل میں دماغ کے اس حصے نے ہماری بقا میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مثال کے طور پر کسی خطرے کی صورت میں ’مارو یا بھاگ جاؤ‘ نے ہماری زندگی کے تسلسل میں زبردست کام کیا ہے ۔
جوں جوں ہمارے دماغ کا Frontal Lobe ترقی کرتا گیا، عقلیت پروان چڑھتی چلی گئی ‘ Amygdala کے بہت سے کام ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے چلے گئے۔ قبیلے سے لے کر عالمی سطح تک جنگیں اسی حصے کی دین ہیں۔
میرا خیال ہے ہم پہلے ایک عام فہم سی مثال سے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔زید ایک کم پڑھا لکھا شخص ہے ۔(کم پڑھے لکھے سے میری مراد ایسا شخص ہے جس کے پاس تجربات کا تنوع کم ہے)۔ زید کو اس کے باس نے گالی دی ‘ Amygdala نے ایک خاص نیورو ٹرانسمیٹر norepinephrine بڑھایا ‘ اس کے بڑھنے کی وجہ سے ’مارو یا بھاگ جاؤ‘ کا ردعمل پیدا ہوا ۔دل کی دھڑکن بڑھ گئی ، ہاتھ کانپنے شروع ہو گئے وغیرہ وغیرہ ۔
عقل کا کارخانہ یعنی دماغ کا Frontal Lob باس کی بد تمیزی سے نمٹنے کی اپنی حکمت عملی بنا رہا ہے۔ وہ یہ حکمت عملی حال اور ماضی کے تما م تجربات، مستقبل کے مالی اندیشے جیسے تغیرات کو جانچ کر بنائے گا ۔ تھوڑا وقت درکار ہے۔لیکن ٹھہریے یہ کیا ہوا؟ زید نے Amygdala کی برق رفتاری کی تاب نہ لاتے ہوئے باس کو مُکہ دے مارا ۔نوکری سے گیا، دفتر میں کچھ رقم ملتی تھی، اس سے بھی گیا ۔مکان کا کرایہ ،یوٹیلٹی بلز، بچوں کی فیسیں ۔سب واجبات سر پر کھڑے ہیں ۔دوسری نوکری ملنے میں وقت درکار ہے وغیرہ، وغیرہ ۔ زید نے اس سارے حساب کتاب کاFrontal Lobe کو موقع ہی کہاں دیا تھا؟
ہمارے ہاں اس طرح کے ردعمل کو ستائش کی نظروں سے دیکھا جا تا ہے کہ کیا ’مرد کا بچہ‘ ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ نتائج ’مرد کا بچہ ‘ کہنے والے معاشرے نے نہیں بھگتنا بلکہ نتائج اس ’مرد کے بچے‘ نے خود ہی بُھگتنے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ’زیادہ پڑھنے لکھنے سے بزدلی پیدا ہوتی ہے‘ جیسا فکری مغالطہ بھی جنم لیتا ہے ۔(سبب تو اب آپ کو معلوم ہے)۔
اب ہیجانی کیفیت کی جانب آئیے ۔ ہیجانی کیفیت کا بھی یہی عالم ہے ۔نیورو ٹرانسمیٹر dopamine کی مقدار بڑھ گئی، Self Esteem بڑھ گئی، دنیا چھوٹی لگنے لگی‘، انسان بونے دکھائی دیے، ہیجانی کیفیت میں Frontal Lobe کے ہاتھوں سے کنٹرول نکل گیا، جسمانی تبدیلیاں رونما ہوئیں ، دل کی دھڑکن ، بلڈ پریشر بڑھ گئے، حلق سے چنگھاڑے ، ناچے، شور مچایا، کسی کو عورت کی گالی دے دی، کسی بابے کو دھکا دے دیا ،گاڑی چلاتے ہوئے لوگوں کا تراہ نکالنے کے لیے زور سے بریکیں لگائیں۔ کسی کی گاڑی میں پٹاخہ چھوڑ دیا اور نہیں تو چلتی ٹرین کو دیکھ کر ننگا ہو لیے۔ اور یہ فہرست بھی خاصی طویل ہے ۔
انسان نے نسل در نسل تجربات سے بھی بہت کچھ سیکھا، آپ نے اپنی دادیوں کو یہ کہتے سنا ہو گا، کہ اس بچے کو زیادہ مت ہنساؤ، یہ رو دے گا ۔
میرے خیال میں یہ بات بہت حد تک صحیح ہے ‘ اگر آپ شدید ہیجانی کیفیت میں ہیں تو equilibrium پر لانے کے لیے ہیجان سے آپکو غم و الم والی انتہا کی جانب جا نا ہوتا ہے‘ ضروری نہیں کہ انتہا تک ۔انتہا کی جانب کسی بھی حد تک، یہ فیصلہ اس بات کو سامنے رکھ کر ہوتا ہے کہ ہیجان میں کس قدر شدت تھی اور آپ کتنی دیر تک ہیجان میں رہے ۔
دوسری جانب زیادہ دیر غم میں رہنے کے بعد بغیر کسی ظاہری وجہ کہ آپ ہیجانی خوشی کی جانب سفر کرتے ہیں اور پھر واپس سکون کی توازنی حالت میں آ جاتے ہیں ۔
میں اس حدیث کو بھی بڑے غور سے پڑھتا ہوں جس میں قہقہہ لگانے کو ناپسند کیا گیا یا زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے کے حوالے سے بات کی گئی ۔مسکرانے کو شدید پسند کیا گیا کہ مسکرانا خوشی اور سکون کا اظہار ہے ۔
نفسیات کی اصطلاح Mood Disorder بھی آپ نے سنی ہو گی جس کا مطلب ما سوائے اس کہ کیا ہے کہ توازن حاصل نہیں ہو پا رہا ۔۔۔
maniac personality disorders بھی اس حوالے سے بہتر اصطلاح ہے!
کتنی عجیب بات ہے کہ ارتقائی مراحل میں حصہ لینے والے عوامل نے آج بھی ہمیں اسیر کر رکھا ہے، وہ قومیں جنہوں نے عقل و خرد کی سنی ، ہیجان یا غصہ پر قابو پایا، کس قدر کامیاب رہیں ۔آپ جانتے ہی ہیں۔
لیکن عقل و خرد کا شعبہ صرف اس صورت میں ترقی پاتا ہے جب تجربات کا تنوع بڑھتا ہے ‘ مثال کے طور پر کتابیں آپ کے تجرباتی تنوع میں اضافہ کرتی ہیں ۔ اگر میں پاکستانی کے علاوہ روسی‘ امریکی‘ فرانسیسی ادب بھی پڑھنا شروع کر دوں تو یہ تجرباتی تنوع عالمی ہو جائے گا ۔
جب بھی مجھے کوئی ناگوار مرحلہ درپیش ہو گا توعقل اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت زبردست انداز سے میری مدد کرے گی اور دونوں طرح کے جذباتی ردعمل کو شٹ اپ کال دے گی۔
خوشی کی پاکستانی کتاب کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے عقل و خرد کو’شٹ اپ کال‘ دے رکھی ہے۔
بات طویل ہو گئی جس کی وجہ سے ایک اہم موضوع رہ گیا ۔۔۔ اور وہ ہے ۔۔۔ خوشی ہے کیا؟
چلئے ، اس موضوع پر آئندہ بات کریں گے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *