موجودہ حالات چند ناکامیوں سے عبارت نہیں!

asad muftiبھارت کی آزادی کی عمر بھی اتنی ہی ہے جتنی مملکت خداداد کی جبکہ وہاں ہر رنگ، مذہب، نسل، قوم، زبان، ثقافت غرض کہ ہر رنگ کی اقلیتیں رہائش پذیر ہیں لیکن وہاں پر ریاست کے تمام ادارے اور سوسائٹیاں اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر خوش اسلوبی سے فرائض سرانجام دیتی ہیں، اگر ہم پاکستان کے ساتھ آزاد ہونے والے بھارت کا جائزہ لیں تو یہ دکھائی دیتا ہے کہ اس نے سب سے پہلے جمہوریت ہی کو اولین ترجیح بنایا اور یہ یونہی نہیں ہوگیا اس نے پارلیمینٹ کی بالادستی کے لئے (جس پر کئی حملے بھی ہوئے) کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا چنانچہ آج دُنیا نہ صرف اس کو سب سے بڑی جمہوریت تسلیم کرتی ہے بلکہ اس کے ہر مؤقف کی حمایت بھی کرتی ہے۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ ہمارے ہاں وقت اور ضرورت کے تحت نظریئے تخلیق ہوتے ہیں دو قومی نظریہ یا نظریۂ پاکستان سے لیکر نظریۂ ضرورت تک.....اور پھر ان نظریوں کی سچائی اور صداقت کو ثابت کرنے کے لئے مزید نظریئے وجود میں آتے رہے۔ نظریۂ ضرورت تو خیر کیا ثابت ہوتا البتہ اس کے خالقوں کے وجود پر ایک سوالیہ نشان ضرور لگ گیا ہے۔چند برس پہلے جب میں لاہور میں تھا تو ایک محفل میں ایک سابق جرنیل کو کہتے سنا کہ ’’اگر پاکستان کو بننا ہی تھا تو 1857 میں بن گیا ہوتا اس سے فوج کو حکومت کرنے کے لئے ڈیڑھ سو سال زیادہ مل جاتے، اس سے کیا ہوتا؟ کہ جن لوگوں نے غلامی کی زنجیروں میں جنم لیا ہو وہ ایک آزاد ملک کی محبت کو محسوس نہیں کرسکتے سو آج ہم تنزلی سے آنکھیں نہیں چرا سکتے۔ بی بی سی نے جو تجزیہ پیش کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان ہم عمر ہیں ان 65 برسوں میں دونوں ملک ایٹمی طاقت بن چکے ہیں لیکن پاکستان اس عرصہ میں تنزلی کی طرف گیا ہے گزشتہ 65 سال میں پاکستان کی سیاسی، اقتصادی اور سماجی ترقی کا گراف اوپر سے نیچے اور بھارت کا گراف نیچے سے اوپر گیا ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ اب سے تیس برس پہلے تک پاکستان کا عام آدمی کہتا تھا کہ خدا کا شکر ہے کہ ہم بھارت کی طرح بھوکے ننگے نہیں ہیں لیکن آج پاکستان کا ہر شہری برملا کہتا ہے کہ ہم بھارت کی جمہوری اور اقتصادی ترقی کی طرح کیوں نہیں ہیں؟ بی بی سی کا تجزیہ درست ہے کہ گزشتہ چند برس میں آٹھ سے نو فیصد کی شرح ترقی کے بعد بھارت کی معیشت ایک اور سنگ میل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ملک کی معیشت آئندہ برس ایک ہزار ارب ڈالر مالیت کی ہوجائے گی جبکہ رواں مالی سال میں یہ 855ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ دُنیا میں صرف نو ملک ایسے ہیں جن کی معیشت ایک ہزار ارب ڈالر یا اس سے زیادہ مالیت کی ہے، بھارت چاند پر اپنے خلا باز بھیجنے کی تیاری کررہا ہے لیکن اس سے پہلے بغیر خلا بازوں والا فلائی جہاز مریخ پر بھیج دیا ہے، خلائی تحقیق کے ادارے اس سروے کے مطابق مشن مون کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں اور پہلا خلائی جہاز آئندہ برس تیس مارچ کو چاند پر بھیجا جائے گا۔ اُدھر دُنیا کے سب سے بڑے اور قدیم ترین خبر رساں ادارے ’’رائٹر‘‘ کے بارے میں بی بی سی نے ایک خبر شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس ادارے نے سستی خبروں کے لئے بھارتی صحافی ملازم رکھ لئے ہیں کہ بنگلور کے دفتر میں درجنوں افراد نیویارک میں کام کرنے والوں کے مقابل میں بے حد کم اجرت لیتے ہیں مگر کام ان سے زیادہ بہتر اور مستعدی سے کرتے ہیں اس حوالے سے دُنیا کے بڑے بڑے خبر رساں ادارے اور امریکی اخبارات زیادہ اخراجات کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ اس پریشانی کے حل کے لئے وہ بھارت کا رُخ کر رہے ہیں جہاں انہیں انتہائی سستے داموں انگریزی لکھنے اور بولنے والے افراد مل سکتے ہیں۔ مزید برآں ایک اندازے کے مطابق چھ خلیجی ممالک میں تیس لاکھ سے زائد بھارتی تارکین وطن کام کررہے ہیں ان کی بھیجا ہوا زرمبادلہ اور تجارت سے بھارت کو سالانہ لگ بھگ پندرہ ارب ڈالرز کی آمدنی ہوتی ہے جبکہ ان ممالک کی طرف سے بھارت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری سو ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اب آئیے دیوار کے پار۔ بی بی سی ہی کے ایک تبصرے کے مطابق قرارداد پاکستان یا قرارداد لاہور سنگ مرمر کی سلوں تک محدود ہے۔ بی بی سی نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ اگر آج کوئی پوچھے کہ قرارداد پاکستان کہاں ہے؟ تو جواب ہوگا سپریم کورٹ کے احاطے میں۔ سیاسی بیوفائیوں کا ملک اب 65 سال سے زیادہ کا ہے اس ملک سے کیا عہد یاد دلانے والے لوگ قابلِ تعزیر ٹھہرائے گئے۔ خان عبدالغفار خان، جی ایم سید، میاں افتخار الدین، شیخ مجیب الرحمن، غوث بخش بزنجو، عطا اللہ مینگل، خان عبدالولی خان، خیر بخش مری، عبدالصمد اچکزئی نسل در نسل غدار کہلاتے رہے۔ اس ملک میں نہ تو غفار خان کو کسی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی جی ایم سید کو جبکہ ساری عمر آزادی کے یہ سپاہی’’غداری‘‘ اور بغاوتوں کے الزامات سہتے رہے، جرنیلوں کے ساتھ ساتھ سرداروں اور خان بہادروں کے بچے صدر پاکستان کے حلف اُٹھاتے رہے یعنی پاکستان کیا بنا تاریخ کی اُلٹی گنگا بہہ نکلی۔ بی بی سی نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ باوردی صدر کے سامنے باادب چیف جسٹس بیٹھا تھا اور پھر چیف جسٹس کے بالوں کو کھینچنے والی پولیس پاکستان کا یہ ’’سافٹ امیج‘‘ بھی دُنیا بھر میں دیکھا گیا پھر بقول کسے پاکستان جناح نے ایک بڑے ذہین وکیل کی طرح کیس جیت کر حاصل کیا۔ وہ پاکستان جو آج آئی ایس آئی کے سیاسی سیل کا پاکستان ہے جو ، انتہاپسندوں کا پاکستان ہے جو لاپتہ شہریوں کا پاکستان ہے اور میں سوچ رہا ہوں کہ آج پھر مجھے فیضؔ صاحب کیوں یاد آرہے ہیں
اماں کیسی کہ موجِ خوں ابھی سر سے نہیں گزری
گزر جائے تو شاید بازوئے قاتل ٹھہر جائے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *