آوازیں

        yasirمرنے کے بعد انتظار اس قدر طویل ہو گا، اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔

یہ ایک عجیب و غریب کمرہ تھا، اس کی دیواریں اتنی اونچی تھیں کہ چھت نظر ہی نہیں آ رہی تھی ، کمرے میں کوئی کھڑکی یا روشن دان بھی نہیں تھا مگر پھر بھی روشنی کہیں سے چھن کر اندر آ رہی تھی ، کوئی دروازہ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا مگر اس کے باوجود کمرے میں لوگوں کی آمدورفت جاری تھی، کبھی کسی کا نام پکارا جاتا تو وہ شخص اٹھتا اور اس جانب چل پڑتا جہاں سے آواز دی جاتی تھی۔بہت دفعہ میں نے کوشش کی کہ دیکھوں کہ یہ آواز کہاں سے آتی ہے مگر جس طرح کمرے کی دیواروں کا کوئی سرا نظر نہیں آرہا تھا اسی طرح آواز بھی کسی نا معلوم مقام سے سنائی دی رہی تھی۔ نہ جانے وہ لوگ جن کا نام پکارا جارہا تھا ،اٹھ کر کہاں   جا رہے تھے ؟ نام پکارے جانے کا سلسلہ مسلسل جاری تھا، جتنے لوگ   آواز کی سمت میں جا رہے تھے اتنے ہی کمرے میں داخل بھی ہو رہے تھے ، مگر جس طرح یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ جانے والے کہاں جا رہے ہیں اسی طرح اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہو رہا تھا کہ آنے والے کہاں سے آرہے ہیں۔ میں نے کان لگا کر سننے کی کوشش کی کہ کہیں میرا نام تو نہیں پکارا گیا! کوئی آواز تو سنائی دے رہی تھی مگر اب یوں لگ رہا تھا جیسے کبھی کسی کا نام نہیں پکارا جا رہا، بس ایک آواز تھی۔ تو پھر یہ لوگ بے معنی آواز کے پیچھے کیوں جا رہے ہیں؟ مگر یہ آواز پہلے تو بے معنی نہیں تھی ، اب کیوں ایسا لگ رہا ہے؟شاید کبھی کسی کا نام پکارا ہی نہیں گیا تھا، لوگ یونہی آوازوں کے پیچھے بھٹک رہے تھے۔میں نے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی ، میرے ساتھ ایک شخص دیوار سے ٹیک لگائے دور خلا میں گھور رہا تھا، مجھے اس کی شکل کچھ شناسا لگی لیکن پھر میں نے یہ خیال ذہن سے جھٹک دیا ، بھلا یہاں کون کسی کا شناسا ہو سکتا ہے !نہ جانے اس شخص کا تعلق کس زمانے سے ہے اور کیا معلوم یہ   کب سے یہاں بیٹھا ہے !

’’ہمیں اور کتنا انتظار کرنا ہوگا؟ ‘ ‘ میں نے اس شخص کو جھنجھوڑ کر پوچھا۔میری یہ حرکت قطعی غیر ارادی تھی ، پتہ نہیں کیسے میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے اور میں نے اسے جھنجھوڑ بھی ڈالا۔جواب میں اس نے خالی خالی نظروں سے میری طرف دیکھا۔’’پتہ نہیں۔میں تو خود کئی صدیوں سے انتظار میں ہوں۔ ‘ ‘ اس کی آواز گونجی۔

’’تم کس انتظار میں ہو؟ ‘ ‘

’’نام پکارے جانے کے۔ ‘ ‘ اس دفعہ یوں لگا جیسے وہ جواب دیتے ہوے ہلکا سا مسکرایا بھی ہو۔

’’مگر مجھے تو کوئی نام سمجھ نہیں آ رہا، بس ایک آواز ہے جو بار بار سنائی دیتی ہے! ‘ ‘

’’ جب تمہارا نام پکارا جائے گا تو تمہیں سمجھ میں آ جائے گا۔ ‘ ‘اس مرتبہ اس کی مسکراہٹ واضح تھی یا کم از کم مجھے ایسے ہی لگا۔

’’کیا ہم جہنم میں ہیں؟ ‘ ‘

’’ کیا معلوم۔اگر ہمارا نام نہ پکارا گیا تو پھر یہ انتظار گاہ ہماری جہنم بھی بن سکتی ہے ! ‘ ‘

’’تم اتنے یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتے ہو، یہ سب باتیں تمہیں کیسے معلوم ہیں ؟ ‘ ‘ میں نے بے چینی سے پوچھا مگر اس مرتبہ اس نے کوئی جواب نہیں دیا اوریکایک یوں لا تعلق ہو کر بیٹھ گیا گویا کبھی وہاں تھا ہی نہیں ۔

        کمرے میں لوگوں کی آمدو رفت ویسے ہی جاری تھی ، مگر کوئی ایک دوسرے سے بات نہیں کر رہا تھا، سب لوگ یوں گم سم تھے گویا وہاں تنہا ہوں۔ کیا صرف میں ہی تھا جس نے اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے شخص سے گفتگو کی تھی؟میں نے دوبارہ اس شخص کی طرف دیکھا مگر اب وہاں کوئی نہیں تھا، شاید وہاں کبھی کوئی تھا ہی نہیں ۔ تو پھر میں نے بات کس سے کی تھی؟ میں نے ذہن پر زور دیا ، کیا واقعی میں نے کسی سے گفتگو کی تھی، شاید نہیں ، میں کیسے کسی سے بات کر سکتا تھا جب کوئی بھی شخص یہاں ایک دوسرے سے بات نہیں کر رہا تھا!سب لوگ خاموش تھے ۔ یوں بھی مرنے کے بعد بات کرنے کے لئے کیا باقی رہ جاتا ہے !مرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔اچانک مجھے یاد آیا کہ میں تو مر چکا ہوں ، لیکن کب، کیسے ! میں نے یاد کرنے کی کوشش کی ، مرنے سے پہلے میں دنیا میں کہاں تھا، کون سا زمانہ تھا، کیا کام کرتا تھا، میرے رشتہ دار، دوست ، احباب، ملنے جلنے والے کون تھے ؟میں نے ذہن پر زور ڈالا۔کچھ یاد نہیں آیا۔بس چند بے معنی یادیں دماغ میں گڈ مڈ ہو گئیں۔تو گویا میرا دماغ اب بھی کام کر رہا ہے !مگر ایک مردہ شخص کا دماغ کیسے کام کر سکتا ہے !

’’ جب تک تمہارے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا ، تم زندہ انسانوں کی طرح ہی سوچتے رہو گے۔ ‘ ‘ وہی شخص بولاجس سے کچھ دیر پہلے میری بات ہوئی تھی ، وہ دوبارہ اچانک کہیں سے وارد ہو گیا تھا۔’’لیکن تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں یہ بات سوچ رہا ہوں ، میں نے تم سے تو کوئی بات نہیں کی! ‘ ‘ میں نے حیرت سے اس سے پوچھا۔

’’ یہاں کوئی کسی سے بات نہیں کرتا لیکن اس کے باوجود ہم سب کو ایک دوسرے کے حال کا علم ہے۔ ‘ ‘مجھے اب اس شخص پر غصہ آ ر ہا تھا، اسے یقینا اس پراسرار کیفیت کے بارے میں مجھ سے زیادہ علم تھا اور اس کی ادھوری گفتگو الٹا میری تشنگی میں اضافہ کر رہی تھی۔

’’تم اس جگہ کے بارے میں اور کیا جانتے ہو؟ ‘ ‘میں نے بمشکل اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے پوچھا۔

’’میں یہ جانتا ہوں کہ تمہیں غصہ بھی آرہا ہے اور حیرت بھی ہو رہی ہے ، تمہارا دماغ بھی کام کر رہا ہے ، مگر تم بے بس ہو ، اپنی مرضی سے کچھ بول نہیں سکتے ، کچھ کر نہیں سکتے ،تم مجھ سے اسی وقت بات کر سکتے ہو جب میں ایسا چاہوں ، تمہاری یہی بے بسی تمہارے لئے جہنم ہے! ‘ ‘اس نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھ کر بات ختم کی اور ایک مرتبہ پھر لا تعلق ہو گیا ۔میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگریوں لگا جیسے کسی نے میری گویائی چھین لی ہو، میں نے پوری قوت سے چیخنا چاہا مگر میرے حلق سے چند بے معنی آوازیں ہی نکل سکیں، میں نے بے بسی سے اسی شخص کی طرف دیکھا، اس کے چہرے پر وہی غصہ دلانے والی مسکراہٹ تھی ، میں نے ایک مرتبہ پھر کوشش کی کہ اس سے کچھ بات کر سکوں مگر کامیاب نہ ہو سکا، مجھے محسوس ہوا جیسے کسی دیو قامت ہاتھ نے میرا گلا جکڑ رکھا ہو، میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنا خود کو محسوس کیا ، بظاہر میں آزاد تھا، کسی نے مجھے جکڑ نہیں رکھا تھا مگر جونہی میں نے دوبارہ بولنے کی کوشش کی مجھے لگا کوئی دیو میرا گلا دبا رہا ہے ، میں نے بولنے کی کوشش ترک کر دی ۔

        پہلو میں بیٹھا ہو اشخص پھر غائب ہو چکا تھا۔آوازیں اب بھی سنائی دے رہیں تھیں ، میں نے پھر کوشش کی کہ ان آوازوں کا کوئی مطلب سمجھ سکوں، اچانک مجھے لگا جیسے کسی نے میرا نام پکارا ہو، میں نے غور سے سنا، میرا ہی نام پکارا گیا تھا، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور خود بخود اس سمت میں چلنا شروع کر دیا جہاں سے آواز آئی تھی۔ اسی لمحے مجھے خیال آیا کہ شاید اب میں کچھ بول سکوں گا ، میں نے ایک مرتبہ پھر زبان کھولی مگر کوئی لفظ میرے منہ سے نہ نکل سکا۔

میں مر چکا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *