توہین رسالت کا قانو ن اور ممتاز قادری

karimullahسپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مجرم ممتاز قادری کی جانب سے سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ٹرائل کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ممتاز قادری کے خلاف فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ممتاز قادری کی اپیل مسترد کردی۔ سپریم کورٹ نے ممتاز قادری کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی بحال کردیں۔
اس سے قبل سماعت کے دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ کئی سالوں سے یہ آگہی ہے کہ توہین رسالت قانون کاا غلط استعمال ہو سکتا ہے، قانون شہادت ہر چیز پر لاگو ہوتا ہے، پی پی سی سیکشن 195 کے تحت جھوٹی گواہی دینے والے کی سزا عمر قید ہے، ہم سوچ رہے ہیں کہ جھوٹی شہادت دینے والوں کو بھی سخت سزا دی جائے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مغربی معاشرے میں حضرت عیسی علیہ السلام کی توہین کرنے پر سخت سزا دی جاتی تھی لیکن جب آزادی اظہار کا قانون آیا تو سزاؤں میں نرمی ہو گئی، کوئی بھی معاشرہ بغیر برداشت کے قائم نہیں رہ سکتا، ہم احتجاج میں اپنی عمارتوں کو جلا دیتے ہیں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مذہبی رواداری کے حوالے سے تربیت مذہبی مقامات پر ہونی چاہیے۔ ہائی کورٹ کا کام نہیں کہ وہ شریعت کی تشریح کرے، اس کے لئے وفاقی شریعت کورٹ موجود ہے۔
سابق پولیس کمانڈو ممتاز قادری نے چار جنوری 2011 کو سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اسلام آباد میں دن دیہاڑے قتل کر دیا تھا دیگر گارڈ چپ کھڑے تماشا دیکھتے رہے ۔ قادری سابق گورنر کو قتل کر کے لاش پر نعرے لگاتا رہا ۔ خصوصی عدالت نے ممتاز قادر ی کو سزائے موت سنائی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کر دیں تاہم سزائے موت برقرار رکھی ۔ ممتاز قادری نے چونکہ ایک بڑی شخصیت کو قتل کیا تھا اس لئے یہ مقدمہ نمایاں ہوگیا ۔ اس کے علاوہ بھی اس ملک میں ایسے قتل ہوتے رہتے ہیں جن میں ملزمان کچھ عرصہ بعد ہی بری ہو کر گھر چلے جاتے ہیں۔ جس طرح ممتاز قادری کے حامی عدالت کے باہر بیسیوں کی تعداد میں موجود ہوتے ہیں اور ’ غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے‘ ،’ توہین رسالت کی سزا ،سر تن سے جدا‘کے نعرے لگا رہے ہوتے ہیں ایسے حالات میں جج میں غیر جانبدار ی سے فیصلہ کرنے میں بہت مشکل پیش آتی ہے ۔ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج جسٹس عارف حسین کو توہین رسالت کا ملزم بری کرنے پر قتل کر دیا گیا تھا اور ملزم بری ہو گیا ۔ ملتان میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے استاد پر توہین رسالت کا الزام لگا ۔پولیس نے بڑی مستعدی سے اس کو گرفتار کرلیا ۔ ہیومن رائٹس کمشن ملتا ن چیپٹر کے سربراہ راشد رحمان اس کی وکالت کے لئے پیش ہوئے تو ان کو وکلا نے ہی دھکمیاں دیں کہ آپ اس کیس سے ہٹ جائیں ۔ لیکن وہ اس ملزم کے حق میں عدالت میں پیش ہوتے رہے بالآخر وکلا نے ان کو وارننگ دی کہ اگلی پیشی پر آپ عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں گے ۔انہوں نے جج کو اس کی شکایت کی لیکن کسی نے ان کی سیکورٹی کے حوالے سے کوئی اقدامات نہ کئے اور ان کو چیمبر میں گھس کر قتل کر دیا گیا ۔ کوئی ملزم پکڑا نہیں گیا ۔ وکلا ہی جنونی ہو جائیں تو پھر عدالتی نظام کیسے چلے گا ۔دہشت گردنما وکلا کی بار کی رکنیت ختم کر دینی چاہئے ۔
گجرات میں ایک پولیس والے نے ایک مقدمے میں تفتیش کے دوران توہین رسالت کے ملزم کو قتل کر دیا۔ ابھی کچھ عرصہ قبل لاہور میں ایک دانشورمبارک حیدر پر احمدیت کی تبلیغ کرنے کا الزام لگا دیا گیاحالانکہ وہ لبرل خیالات کے حامل ہیں اور ان کی کتب بھی مارکیٹ میں موجود ہیں جس سے ان کے خیالات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے ۔مدعی نے عدالت سے مقدمہ کا حکم لے لیا ۔ اس معاملے پر پولیس نے کچھ سمجھداری دکھائی اور تحقیقات کے بعد الزام کو غلط قرار دے کر عدالت رپورٹ پیش کر دی ۔شکر ہے پروفیسر صاحب مشتعل ہجوم سے بچ گئے،ورنہ کون اس وقت سنتا ہے۔ گوجرانوالہ میں ایک حافظ قرآن کو قرآن کی بے حرمتی کے الزام میں گلیوں میں گھیسٹ گھسیٹ کر مار دیا گیا ،پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا تو ہجوم نے تھانے پر حملہ کر کے اس کو چھڑا کر تشدد کیا ،ہلاکت کے بعد اس کی لاش بھی جلا دی گئی ۔ اس کے علاوہ مولویوں نے لوگوں کو اکسا کر کتنے ہی بے گناہ لوگوں کو قتل کروایا ہے لیکن ان مولویوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی ۔ اگر پکڑے بھی جاتے ہیں تو کچھ عرصہ بعد ہی غازی بن کر باہر نکل آتے ہیں ۔
پاکستان میں ایک تو طالبان اور ان کے حواریوں نے دہشت گردی کی انتہا کی ہوئی ہے ۔دوسری طرف ضیا الحق کے بنائے قانون توہین رسالت کی آڑ میں بہت سے لوگ قتل ہو رہے ہیں۔ قانون میں یہ بات بھی موجود ہے جو توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگاتا ہے اس کے خلا ف بھی اسی قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہئے لیکن آج تک ایسی ایک بھی کارروائی دیکھنے کو نہیں ملی۔ اس قانون پر عملدرآمد ریاست کا کام ہے جو وہ نہیں کرتی ۔اسلام آباد میں ایک مسیحی بچی رمشا پر مقدس اوراق جلانے کا الزام لگا ۔تاہم وہ جھوٹا ثابت ہوگیا لیکن الزام لگانے والے کو کچھ بھی نہ ہوا ۔جس سے ملاؤں کے حوصلے بڑھ چکے ہیں اور عام شہری مزید خوف کا شکار ہے ۔ کتنے ہی بے گناہ اس قانون کے تحت جیلوں میں گل سڑ رہے ہیں ۔ ان کو جیلوں میں بھی الگ بیرک (قید تنہائی ) میں رکھا جاتا ہے تاکہ ان کو دیگر قیدی نقصان نہ پہنچا سکیں ۔جس پر ایک دفعہ توہین رسالت کا الزام لگ گیا وہ اور اس کا خاندان اس ملک میں باقی زندگی چین سے بسر نہیں کر سکتے ۔بعض اوقات تو ایسا بھی ہوا ہے کہ کسی شخص پر توہین رسالت کا الزام لگا ۔ اس کو پولیس کے حوالے کرنے کی بجائے عوام کو مشتعل کرکے ان کے حوالے کر دیا گیا اور ہجوم نے ان کو مار مار کر ہلاک کر دیا ،ایسے ہی دو واقعات کچھ عرصہ پہلے ہوئے ایک کوٹ رادھا کشن میں ہوا جس میں ایک مسیحی نوجوان اوراس کی بیوی کو مقدس اوراق جلانے کے الزام میں بدترین تشدد کے بعد جلتے بھٹے میں ڈال کر جلا دیا گیا ۔اس وقت حکومت اور عدلیہ نے ایکشن لیااور کچھ لوگ پکڑے گئے ۔ان کا مقدمہ ابھی چل رہا ہے ۔دوسرا واقعہ کوٹ لکھپت میں چرچ میں بم دھماکے کے بعد ہوا جہاں پولیس نے دو نوجوانوں کو مشکوک جان کر گاڑی میں بٹھا لیا ۔مرنے والوں کے لواحقین نے ان کو اتار کر بدترین تشدد کر کے ہلاک کر دیا اور لاشیں بھی جلا دیں، یہ واقعہ سراسر پولیس کی نااہلی کی وجہ سے پیش آیا۔ جب بھی کوئی مشکوک آدمی پکڑا جاتا ہے اس کو وقوعہ سے فوری ہٹا لیا جاتا ہے لیکن پولیس نے ایسا نہ کیا ۔ بعض اوقات ایسے بھی ہوا کہ کسی پر مقدس اوراق جلانے یا توہین رسالت کا الزام لگا۔ عدالت نے الزام ثابت نہ ہونے پر اس کو بری کر دیا۔ لیکن ’غازیوں‘ نے اس کو گھر پہنچنے سے پہلے قتل کر دیا ۔ ایسے قاتلوں کے خلاف پولیس بھی ڈر کر ایکشن کرتی ہے اور جج بھی خوفزدہ ہوکر فیصلے کر تے ہیں۔پاکستان میں کوئی ذہنی معذور بھی کسی کے خلاف توہین رسالت کا الزام لگا دے تو اس کا بچنا مشکل ہوتا ہے ۔ اگر پولیس گرفتار نہ کرے تو لوگ اس کو ما ر مار کر ہلاک کر دیتے ہیں۔ عدالتوں کو دباؤ میں لا کر فیصلے کر ائے جاتے ہیں۔ جب تک ایسے قاتلوں کو مجرم نہیں سمجھا جائے گا انصاف نہیں ہوگا اور جب تک ایسے مجرموں کے سرپرستوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، اس وقت تک اس ملک میں عام شہری کا جینا دوبھر رہے گا۔ جو لوگ قاتلوں ،دہشت گردوں کو آئیڈلائز کرتے ہیں ان کے خلا ف مقدمات درج کر کے ان کوجیلوں میں بھیجنا چاہئے اور جھوٹے الزامات لگانے والے کسی ایک آدھ مجرم کو ہی سزا سنا دی جائے تو کچھ سکون ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں سرکاری اداروں خصوصاً پولیس اور عدلیہ کے لوگوں کی سکریننگ کی جائے۔ اور تشدد اور انتہاپسندی کا رجحان رکھنے والوں کو برطرف کر کے ان کانفسیاتی علاج کرایا جائے۔ ان اداروں کا کام سیکورٹی اور انصاف مہیا کرنا ہے اگر یہ تعصب لے کر بیٹھے ہوں گے تو انصاف کس کو ملے گا ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *