زمین بیٹوں پہ مہرباں تھی

razi ud din raziدس برس بیت گئے جب ہم اپنی تاریخ کے بد ترین انسانی المیے سے دوچار ہوئے تھے ۔رمضان کا مہینہ تھا اور صبح کا وقت ۔ 8بج کر52منٹ پر زمین نے کروٹ لی اور سب کچھ ملیا میٹ ہو گیا۔آزاد کشمیر کے کئی شہر قبرستانوں میں تبدیل ہو گئے ۔دکھ کی ایک لہر تھی کہ جس نے پورے پاکستان کو لپیٹ میں لے لیا ۔خیال تھا کہ ہم بہت عرصہ تک اس دکھ کو فراموش نہ کر سکیں گے لیکن پھر یوں ہوا کہ زلزلے کے چند روز بعد عیدالفطر آئی تو پوری قوم نے یہ مذہبی فریضہ پورے جوش و خروش کے ساتھ انجام دیا ۔ایک دو برس تو زلزلے کی برسی منائی جاتی رہی پھر ہم رفتہ رفتہ سب کچھ بھول گئے کہ ہمیں یاد رکھنے کے لئے نئے دکھ بھی تو بہت جلد مل جاتے ہیں ۔آج لکھنے کے لئے بہت سے موضوعات سامنے ہیں مگر جی چاہا کہ سب موضوعات کو نظر انداز کر کے اسی المیے کو یاد کیا جائے جس نے دس برس قبل آج ہی کے دن ہر آنکھ کو اشک بار کر دیا تھا نئے دکھ اپنی جگہ بہت معتبر مگر پرانے دکھوں کو بھی تو یا د رکھنا چاہئے ۔یہ نظم اسی زلزلے کی یاد ہے اور آج مجھے یہی نظم آپ کی نذر کرنا ہے

’زمین بیٹوں پہ مہرباں تھی ‘

یہ موت پہلے بھی سیاہ چادر لئے عموماً
ہماری گلیوں میں گھومتی تھی
کبھی کسی پر جو پیار آتا
تو اُس کے ماتھے کو چومتی تھی
یہ ہم سے لاشیں وصول کرتی تھی
جھومتی تھی
ہمارے شہروں میں، بستیوں میں
یہ روز مہمان بن کے آتی
پر اِس طرح سے نہیں کہ پل میں
ہر ایک منظر کو خاک کردے
ہر اک گریبان چاک کردے
الاو¿ کے گرد رقص کرکے
ہر ایک بستی کو راکھ کردے
یہ موت اپنے لیے نئی تو نہیں تھی لیکن
یہ اس دفعہ اس طرح سے آئی
کہ اس نے رستے میں گاو¿ں دیکھے نہ شہر دیکھے
نہ ماہ دیکھے نہ مہر دیکھے
نہ پھول دیکھے نہ خار دیکھے
اگر جو دیکھے تو بس جنازے
قطار اندر قطار دیکھے
اب اِس کے سر پر سیاہ چادر نہیں تھی اِس نے
سفید چنری کو بس لہو میں رنگا ہوا تھا

زمین پہلے بھی ہم پہ کب اتنی مہرباںتھی
مگر یہ اتنا خیال رکھتی
کہ جب یہ لوگوں سے اُن کے پیاروں کو چھینتی تھی
تو اتنی مہلت ضرور دیتی
کہ مائیں لاشوں پہ بین کرلیں
سہاگین چوڑیوں کو توڑیں
جو باپ ہیں وہ بھی خود جنازوںکے ساتھ جائیں
اور اپنے بیٹوں کو اپنے ہاتھوں سے
اِس کی آغوش میں سلا دیں
پر اِس دفعہ تو زمین عجلت میں تھی سو اس نے
کسی کو رونے کی، بین کرنے کی
یا جنازوں کے ساتھ جانے کی
کوئی زحمت تلک نہ دی تھی
بس ایک کروٹ تھی اور پھر
جس طرف بھی دیکھو بس اک لحد تھی
مکان ،دفتر، گلی، محلے
سکول، کالج، کچہریاں
اجتماعی قبروں میں ڈھل گئی تھیں
زمین اُس روزاپنے بیٹوں پہ
کچھ زیادہ ہی مہرباں تھی

اور اک فلک تھا
مگر فلک کا تو ذکر چھوڑو
فلک تو پہلے بھی کب تھا اپنا
سو اُس نے اُس روزبھی تماشا ہی دیکھنا تھا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *