شکریہ جسٹس آصف کھوسہ!

میں ایف ایس سی کے پہلے سال میں تھا۔ میرا قیام گورنمنٹ کالج لاہور کے اقبال ہوسٹل میں تھا۔ وہاں دو بھائی بھی رہتے تھے جو مجھ mujahid Mirza (1)سے ایک سال سینیر تھے۔ ایک کا نام طارق تھا اور دوسرے کا نام آصف۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اپنے سے ایک سال سینیر کی بھی تعظیم کی جاتی تھی۔ طارق زیادہ ہی سنجیدہ تھا۔ آصف البتہ سنجیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہنس مکھ بھی تھا۔ ہوسٹل کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے اگر کبھی آصف سے سامنا ہو جاتا تو بجائے اس کے کہ میں سلام میں پہل کرتا، وہ مجھ سے پہلے سلام کر دیا کرتا تھا۔ پھر یہ دونوں بھائی بارہویں پاس کرکے سڑک کے اس پار نیو ہوسٹل میں منتقل ہو گئے تھے اور ان کا چھوٹا بھائی ناصر اقبال ہوسٹل میں آ گیا تھا۔ اب وہ گیارہویں میں تھا اور میں بارھویں میں۔ ناصر میری اسی طرح تعظیم کرتا تھا جیسے میں اس کے بھائیوں کی کرتا تھا۔ ناصر اکثر میرے کمرے میں آتا تھا اور ہماری گپ ہوتی تھی۔ مجھے ہوسٹل کا کمرہ نمبر تین ملا ہوا تھا جو میرٹ کے حساب سے پہلے مقام پر آنے والے طالبعلم کو دیا جاتا تھا۔ کمرہ نمبر ایک جو ایک زمانے میں علامہ اقبال کا کمرہ رہا تھا، ایم اے فائنل کے طالبعلم کے لیے مختص ہوتا تھا جو ہوسٹل کا چیف پریفیکٹ کہلاتا تھا۔ کمرہ نمبر 2 میں ایم اے پریویس کا طالبعلم ہوتا تھا جو میس پریفیکٹ کہلاتا تھا۔ شاید کمرہ نمبر تین میں رہنے والا اپنی ذہانت سے لوگوں کے لیے متاثر کن ہوتا تھا اس لیے زیادہ طالبعلم اس سے تعلق بنانے کو اچھا سمجھا کرتے تھے پر ناصر تو خود ذہین تھا۔۔۔ ویسے مجھے لگتا تھا کہ آصف ذہین ہے اور طارق تیز۔ ان تینوں بھائیوں نے ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پائے۔ ایک پولیس کا نامور افسر طارق کھوسہ کہلایا۔ دوسرا عدلیہ کا معروف جسٹس آصف کھوسہ کہلایا اور تیسرا انتظامیہ کا گوہر ناصر کھوسہ کہلایا۔ 1969ءسے میری ان تینوں بھائیوں میں سے کسی کے ساتھ ملاقات نہیں ہوئی۔
مگر مجھے آج فخر محسوس ہو رہا ہے کہ میں آصف کھوسہ کو جانتا ہوں جو سپریم کورٹ کے سنجیدہ اور فطین جسٹس ہیں، اس فخر کی وجہ ان کا جسٹس ہونا نہیں کیونکہ وہ جسٹس تو کب سے ہیں بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عبالرو¿ف شیخ تو میرے اچھے دوستوں میں شامل رہے ہیں چنانچہ کسی اعلیٰ عہدے کے باعث ضروری نہیں کہ اعلیٰ عہدے کی حامل شخصیت کے ساتھ شناسائی پر فخر کیا جائے۔ میرے احساس افتخار کی وجہ جسٹس آصف کھوسہ کی انصاف کے ساتھ وابستگی اور دیانتداری ہے کہ انہوں نے نہ صرف جناب سلمان تاثیر کے قاتل کی سزائے موت برقرار رکھی اور دہشت گردی کے ضمن میں دی گئی ایک اور سزائے موت کو جسے ہائی کورٹ منسوخ کر چکا تھا، بحال کر دیا بلکہ ایک تاریخ ساز ریمارک دیا کہ توہین رسالت کے قانون پر تنقید کرنا توہین رسالت کے زمرے میں نہیں آتا۔ دوسرا ریمارک یہ کہ ہائی کورٹ کا کام نہیں ہے کہ شریعت کی توضیح کرے۔ تیسری بات انہوں نے فیصلے کے ضمن میں کہی کہ ہر شخص کو اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کسی کے توہین رسالت میں مرتکب ہونے کا فیصلہ کرے اور اس کی سزا بھی خود دے۔
توہین رسالت کا قانون جو توہین مذہب کے قانون کی ترمیم شدہ شکل ہے، کے بارے میں میں کچھ کہنے کا مجاز اس لیے نہیں ہوں کہ میں قوانین کی باریکیوں سے ناآشنا ہوں۔ میرا مسئلہ کسی بھی مہذب شہری کی طرح قانون کی بالادستی کا اطلاق ہے۔ عدالت عالیہ نے درست کہا کہ اگر ہر کسی کو دوسروں کے اعمال کے بارے میں طے کرنے، سزا کا تعین کرنے اور سزا پر خود عمل درآمد کرنے کا اختیار دے دیا جائے تو اس سے معاشرے میں ابتری پھیل جائے گی۔
جیسا کہ بہت سے اوروں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد کیے جانے سے انتہاپسندوں کو ایک واضح اور سخت پیغام پہنچے گا کہ وہ اپنی انتہا پسندی کے زعم میں قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں یا نتیجہ بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔ ویسے بھی آج ہم ایک ایسے دور سے گذر رہے ہیں جس میں انتہاپسندی اور اس کے ساتھ وابستہ دہشت گردی تمام دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ہم عملی طور پر حالت جنگ میں ہیں۔ جنگ کے دوران دوست دشمن کی تمیز کیا جانا اور ان سے اسی طرح سلوک کیا جانا جس کے متقاضی جنگی حالات ہوتے ہیں، بہت ضروری ہوا کرتا ہے۔
میں سزائے موت دیے جانے اور اس پر عمل درآمد کیے جانے کا قطعی حامی نہیں ہوں لیکن جنگ ہوتی ہی جدال و قتال ہے۔ اس میں جنگی قیدی صرف ان لوگوں کو بنایا جاتا ہے جو مخالف فریق کی طرف سے لڑتے ہوئے پکڑے جائیں کیوں کہ وہ کسی کے حکم کے مطابق جنگ میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ایک ایسا شخص جسے حکومت نے خود اپنے کسی اعلٰی عہدے دار کی حفاظت کرنے پر متعین کیا ہو اور وہ بجائے حفاظت کرنے کے اسی ہتھیار کا، جو اسے اس شخصیت کی حفاظت کرنے کی خاطر دیا گیا ہو، اسی شخصیت کے خلاف استعمال کرکے اس کی جان لے لے اور پھر چلا چلا کر یہ بھی کہے کہ ہاں میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے تاکہ مجھے اس کی جزا آسمانوں پر ملے، اس کو آسمان پر نہ بھیجنا بنیادی انسانی حق تلفی ہوگی۔
ہمارے معاشرے میں صف بندی کب سے ہو چکی ہے۔ اس قاتل کے وکلائے صفائی میں عدالت عالیہ کے دو سابق جسٹس نذیر اختر اور خواجہ شریف شامل ہیں جنہوں نے عدالت کو یہ دلیل دے کر گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ مجرم نے یہ جرم مذہبی جذبے کے تحت کیا ہے۔ میرے ممدوح جسٹس آصف کھوسہ نے اس پر بھی بہت اچھی بات کہی کہ مذہب، مسلک یا نسل کے مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے تشدد بھی دہشت گردی ہے۔ یہ کہہ کر جسٹس آصف کھوسہ نے انتہا پسندی کے خلاف حتمی اور ٹھوس فیصلہ صادر کر دیا۔ شکریہ جسٹس آصف کھوسہ!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *