8اکتوبر2005کا زلزلہ اور ہمارا گھر

Samina1مشرف کا دور حکومت تھا۔ سکول میں سختی تو کافی تھی مگر معیار تعلیم کافی بہترہو چکا تھا۔ کیونکہ ہر ہفتے ایک آدمی فوج کی وردی پہنے سکول آتا تھا اور وہ ہر کلاس کا جائزہ لیتا تھا۔ہم اس وقت گورنمنٹ سکول میں ٹاٹ بچھا کر دھوپ میں بیٹھنے کی بجائے کمرہ جماعت میں ہی ٹھٹھرتے کلاس لینے کے عادی ہو رہے تھے۔ ورنہ تو ہر سال سردیاں کمرہ جماعت کی شکل دیکھے بغیر گزارتے تھے۔8اکتوبر 2005،میں نویں میں تھی۔ مجھے یاد ہے اس دن پیرنٹس ٹیچر میٹنگ ڈے تھا۔ میں کافی لائق فائق ہونے کے باعث پرسکون دادی کے ہاتھ کی سردائی پئے مزے کی نیند لے رہی تھے۔ 7بجے کا الارم بجا اور دادا جی نے دادی کو جگا کر کہا کہ مجھے لگتا ہے کڑی اب بڑی ہو رہی ہے۔ اس کا کمرہ اب الگ کر دینا چاہئے۔ ویسے بھی اسے اب اپنا آپ پہچاننے دو۔ کچھ خاندانی اور کچھ میرے متعلق اسی قسم کی باتیں ہو رہی تھیں کہ اچانک زمین ہلنے لگی۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرا بستر کوئی زور زور سے دائیں بائیں الٹ رہا ہے۔ میں ایک دم جاگ کر بیٹھ گئی۔ میرے پاس گڑیا بیٹھی چہرے پر پوسٹر رنگوں سے کارٹون بنا رہی تھی۔ میں عجیب نمونہ بنی منہ دھونے کے لئے باہر جانے ہی والی تھی کہ دو جھٹکوں کے بعد دادی نے قریباً شور مچاتے ہوئے کہا:”کڑئیے کلمہ پڑھ۔ اللہ دا قہر نازل ہو گیا اے۔ اللہ اکبر بول اللہ اکبر....“ پھر دادی مجھ پر منہ ہی منہ بڑ بڑا کر پھونکنے لگی۔ دادا بھی اونچی اونچی آواز میں سورة یٰسین پڑھتے ہوئے کرسی سے اٹھے۔ اور جلدی سے میرا بازو پکڑ صحن میں لے آئے۔ اور پھر دادی بھی گڑیا کو اٹھائے باہر صحن میں فرش پر بیٹھ گئیں۔ دیواریںاتنا ہلیں کہ بس اب کہ ٹوٹ جائیں گی۔” لیکن زمین کیوں ہل رہی ہے۔ “گڑیا نے مجھ سے سوال کیا۔ میں نے فوراً سے کہا کہ دادی سے پوچھ۔ دادی مسلسل پھونکیں مارنے میں مشغول تھیں یہاں تک کہ کئی گھڑیوں تک جو کہ اس وقت صدیاں لگ رہیں تھیں بس زمین ہلتی رہی۔ چھت سے پنکھا اتنا ہلا کہ لگتا ابھی گرنے والا ہے۔ دروازے اس زور سے پٹخ رہے تھے کہ ابھی ٹوٹ کر ہمیں پر گر پڑیں گے۔دیواروں میں دراڑیں پڑنے لگیں۔ اتنا زبردست زلزلہ تھاکہ دل خوف سے دہلنے لگے۔ میں بھی دادی کی تقلید کرتے ہوئے آیت الکرسی پڑھنے لگی۔ اور پھر زمین نے دیواروںاور چھتوںکو بخش دیا، دروازوںنے پٹخنا بند کر دیا۔ یہاں تک میں کھڑی ہوئی اور دادی نے زور سے بازو کھینچ بٹھا دیا۔ کہ ابھی نہیں۔ پھر منہ پر چار پانچ دادا سے پھونکیں مروا کر کہا اب بھاک کہ گھر سے باہر جا۔ ابھی جھٹکے تیرے لئے ختم نہیں ہوئے۔ سکول چلی جا۔ ادھر تیری میڈم نے انتظامات کئے ہوں گے۔ گورنمنٹ نے فوراً کچھ تو کر دیا ہو گا۔ فون شون کر کے خیریت معلوم کر لی ہو گی۔ ابھی فوجی آ جائیں گے۔ چل جا اب ۔اور دادا مجھے فوراً سے پہلے پھپھو جو کہ سکول میں ہی بطور استاد ملازم تھیں کے حوالے کر آئے۔ تا کہ میں محفوظ رہوں۔مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ سب اتنا جلدی اور امی کہ پاس بھیجنے کی بجائے پھپھو کیوں؟ شام تک میں پھپھو کے گھر ٹی وی پر زلزلے کی تباہ کاریاں دیکھتی رہی اور بار بار ایک ہی بات دہراتی”پھپھو زمین ہل رہی ہے۔ لگتا ہے مجھے سائنس چھوڑجغرافیہ پڑھنا پڑے گا۔ اور یہ پتا لگانا پڑے گا کہ اس کا خوف لوگوں کے دلوں سے کیسے نکالا جائے۔ فلسفہ تو ایسے جھاڑا جیسے میں نے بہت سے مشاہدات کر رکھے ہیں اور اب بس اپنی تھیوری پیش کر کے ہی دم لوں گی جس کا تعلق فلسفے، جغرافیے یا جیولوجیکل فزکس سے ہو سکتا ے ۔
ٹی وی پر اس وقت زلزلے کی تباہ کاریوں پرخبریں چل رہی تھیں۔ کبھی خبروں میں اموات کی تعداد 200بتائی جاتی تو کبھی 500۔ ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت بار بار 7.6بتائی جاتی اور آفٹر شاکس کی تعداد ہر بار زیادہ ہوتی۔ مثلاً! میں نے صبح سرکاری چینل پر سنا کہ آفٹر شاکس کی تعداد 30ہو چکی ہے تو ٹھیک2بجے نجی ٹی وی چینل پر خبر آئی کہ آفٹر شاکس کی تعداد 60ہو چکی ہے۔یہ انہیں دنوں کی بات ہے  جب میں نے میڈیا کا ایسا روپ بھی دیکھا۔زلزلے نے 73ہزار افراد کو اپنی خوراک بنا لیا تھا جب کہ 30لاکھ افراد بے گھر ہو گئے تھے۔ آج بھی زلزلے کے نتیجے میں مچی بھگدڑ سے 706افراد لاپتہ ہیں۔ یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں کئی ایسے بھی ہوں گے جن کی گمشدگی کی رپورٹ ہی درج نہ ہو سکی ہو۔بیوائیں آج بھی بیوائیں ہیں۔ اور جو حالت ان کی 10سال پہلے تھی وہی آج ہے۔ 100میں ایک خوش قسمت ہو گی جس نے اپنی زندگی کو بدلنے اور خود کو کیمپ سے آزاد کرنے میں کامیابی حاصل کی ہو ورنہ تو حالات نہیں بدلے۔زلزلے کی وجہ سے خوف نے جہاں ہمارے پورے ملک کو جکڑا وہیں ہمارا شہر جہلم بھی محفوط نہ رہا۔اسی خوف نے خوف سے مار کھا کرہمارے علاقے کی بہت سی ہستیوں کی جان لی تھی۔ انہیں میں ہماری سکول کی نک چڑھی مس بھی شامل ہیں۔انہیں زلرزلے کے تیسرے روز ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔یوں یہ خوف کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملی۔ ان کے مرنے پر مجھے بے حد خوشی ہوئی تھی۔ کیونکہ وہ مجھے ککو کہتی تھی اور بالوں پر مہندی لگی دیکھ سٹاف روم میں بلا کر تمام اساتذہ کے سامنے کہتی تھی :”شتری روز قیامت کی نشانی ہے۔ پیدا ہی بوڑھی ہوئی ہے۔“لیکن خوف نے ہمارے گھر کو نہیں جکڑا بلکہ دادی کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بہن (یہ ابھی تک زندہ ہیں اور 4بکریوں، 7گایوں،1بھینس اور درجن بھر مرغیوں کی ماں ہیں۔) کے گھر گرنے اور موت کی خبر آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ ہمارے خاندان میںکوئی موت واقع نہیں ہوئی۔ آس پڑوس، گلی محلے،پڑوسی شہروں میں تو موت بڑی دھوم سے آئے جا رہی تھی لیکن یہاں اس کا شائبہ تک نہ تھا۔ قریب دو ماہ زلزلہ زلزلہ کی رٹ میں گزرے۔ پھر امدادی کاروائیوں میں شمولیت ہونے لگی۔ پہلے تو امی کوپشاور کے بٹ گرامی کیمپ میں تعینات کیا گیا مگر گھر والوں کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے امی نہیں گئی۔ وہ نرس تھیں اور ہمارا خاندان مذہبی علم و دانش کا گہواراتھا۔ امی کو کیمپ میں جانے سے روکنے کی بات سمجھ آتی ہے مگر یہاں ابو کی بھی تعیناتی پربھی اجازت نہیں دی گئی۔ البتہ مالی تعاون میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا گیا۔ اور بٹ گرام سے ہی ایک بچی کو ہمارے گھر میں پناہ دی گئی۔یہ بچی بھاگ کر دادا کی امامت گاہ میرا مطلب ہے مسجد میں آئی تھی۔ بمشکل 7 یا8 سال کی تھی۔ایک ہفتے بعد بچی کے والدین کی تلاش شروع کی گئی۔ اوردو ماہ کی انتھک محنت کے بعد والدین کے ملنے پر بچی ان کے حوالے کی گئی۔ مجھے یاد ہے میں اسے اپنے ساتھ سکول لایا کرتی اور اسے لیب میں لے جا کر فزکس کے تجربے کرکے رعب جمایا کرتی تھی۔ میری بیسٹ فرینڈ کی یوم پیدائش پر ہم نے اکٹھے پارٹی کی اور کیک کی جگہ گلاب جامن کاٹا گیا۔ فروٹ چاٹ کی جگہ صرف ایک سیب اورایک کیلا اور 4پراٹھوں کے ساتھ سادہ پانی سے ظہرانہ فرمایا گیا۔ اس بچی کا نام توذہن میں رہا لیکن اگر کبھی سامنے آئے تو پہچان لوں گی۔ اسے ہم نگوڑی کہتے تھے کیونکہ ناک کی ہڈی پر چوٹ لگنے کے باعث اس کی ناک ٹیڑھی ہو گئی تھی۔ حالات کو معمولات پر آنے میں بس دو ماہ کچھ دن لگے اور جہلم شہر نے خوف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر زندگی کو پھر سے جینا شروع کر دیا تھا۔ ہاں البتہ اس خوف نے ہماری عید ضرور خراب کی تھی۔اچھی بات یہ ہوئی کہ زلزلے نے میری آنکھیں کھول دیں۔ اور میں نے اپنا چینل فکس کر لیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *