این اے 122: الیکشن کمیشن پر دباؤ اور ضابطہ اخلاق کی دھجیاں

roshan lalانتخابات عام ہو ںیا ضمنی، ہر انتخابی عمل نہ صرف مضبوط اور مستحکم جمہوری نظام کی طرف پیش قدمی بلکہ عوام کے شعور میں اضافے اور مزید آگہی کا ذریعہ بھی ہونا چاہیے۔ لاہور کے حلقہ این اے 122 میں ضمنی الیکشن کے سلسلے میں جاری انتخابی عمل سے کیاایسی کوئی امید وابستہ کی جاسکتی ہے کہ اس سے ہمارے رویے زیادہ جمہوری اور ہمارا شعور زیادہ پختہ ہو سکے گا؟جمہوریت تو جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیر ہونے کا درس دیتی ہے مگر حلقہ این اے 122 میں جمہوری عمل کے نام پر جاری انتخابی مہم کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے یہاں زندگی اور موت کا کوئی کھیل کھیلا جارہا ہو۔ ایک دوسرے کی عزت اس احساس سے عاری ہو کر اچھالی جارہی ہے کہ جوابی کارروائی میں خود اپنی عزت بھی داؤ پر لگ سکتی ہے۔ یہ سب کچھ نیا پاکستان بنانے اور پرانے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے کے دعویدار کر ہے ہیں۔ اگر کسی کو یاد ہو تو لاہور کی بسنت اس وجہ سے مرحوم ہوئی کیونکہ تقریباً ہر پتنگ باز نے اپنی جیت کے لیے ایسی ڈور کا استعمال شروع کر دیا تھاجو مخالف کی گڈی کی نسبت عام انسانوں کے گلے زیادہ آسانی سے کاٹ سکتی تھے۔ اس طرح کے رویوں کے ساتھ اگر انتخابی مہم چلائی جائے گی تو انتخابی عمل کے ساتھ عام لوگوں کی رغبت کیا قائم رہ سکے گی؟ جو لوگ ملک میں مضبوط اور مستحکم جمہوریت کے خواہاں ہیں انہیں اس طرح کے رویوں پر نہ صرف گہری نظر رکھنا ہوگی بلکہ ان کی مذمت بھی کرنا ہوگی۔ خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے مگر جس طرح میڈیا کے اس حصہ کو انتہائی غیر سنجیدگی سے صرف سنسنی خیزی پیدا کرنے اور دوسروں کا مذاق اڑانے تک محدود کر دیا گیا ہے، اس سے کچھ زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کی جاسکتیں۔
انتخابات میں حصہ لینی والی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے قوانین کے مطابق ضابطہ اخلاق تیار کرنا اور انہیں اس ضابطہ اخلاق کا پابند بنانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ الیکشن ٹربیونل کی کارروائی کے نتیجے میں 2013 ء کے عام انتخابات کے دوران سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض حلقوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ الیکشن کمیشن کے اراکین اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے سلسلے میں کوتاہیوں کے مرتکب ہوئے۔ مبینہ کوتاہیوں کی وجہ سے الیکشن کمیشن کے اراکین کی غیر جانبداری کو مشکوک تصور کرتے ہوئے ان سے فوری طور پر عہدوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ۔ الیکشن کمیشن کے اراکین استعفے کے مطالبات کو رد کرتے ہوئے اپنے عہدوں پر تو موجود رہے مگر اپنے فرائض کی ادائیگی میں پہلے سے زیادہ مشتبہ، کمزور اور متزلزل نظر آئے ۔ اس طرح کے کمزور الیکشن کمیشن سے کیسے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو سختی سے طے شدہ ضابطہ اخلاق کا پابند بنا سکے گا۔ الیکشن کمیشن کے مشتبہ اورکمزور اراکین اس وقت سخت دباؤ میں نظر آرہے ہیں۔ انہیں دباؤ میں دیکھ کر انکے سب بڑے ناقد اور ان کو 2013 ء کے عام انتخابات میں اپنی شکست کا ذمہ دار قرار دینے والے عمران خان نے ان پر پھر سے عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے این اے 122 میں انتخابی عمل کی اہم ذمہ داریاں الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ عملہ کی بجائے فوج کو دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اس وقت طرفہ تماشہ یہ ہے کہ ایک طرف تو عمران خان الیکشن کمیشن کے اراکین کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور دوسری طرف تنقید کا نشانہ بننے والے اراکین اس حد تک دباؤ میں ہیں کہ عمران خان کی تحریک انصاف کے نامزد امیدوار علیم خان کے انتخابی مہم میں ناجائز طور پر خرچ کیے جانیو الے کروڑوں روپے کے اخراجات کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے طے شدہضابطہ اخلاق کے مطابق قومی اسمبلی کے امیدوارکی انتخابی مہم کے لیے اخراجات کی حد 15 لاکھ روپے ہے مگر علیم خان کی طرف سے ڈونگی گراؤنڈ سمن آباد میں منعقد انتخابی جلسہ کے بارے میں سنجیدہ حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ ایسا جلسہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں خرچ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔یہاں یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ علیم خان کے ہر حد کو عبور کرنے والے انتخابی اخراجات سے الیکشن کمیشن کی چشم پوشی کی وجہ کیا صرف عمران خان کا دباؤ ہے یا اسے کسی نادیدہ قوت کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ یہ سوال علیم خان کی انتخابی مہم کی کوریج کرنے والے الیکٹرانک میڈیا کے کردار کی وجہ سے بھی اٹھایا جارہا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے تقریباً ہر چینل نے علیم خان کے ڈونگی گراؤنڈکے انتخابی جلسے کی کوریج سہ پہر کے وقت جلسہ گاہ میں سجی ہوئی خالی کرسیوں سے شروع کر کے رات دیر گئے اس وقت تک جاری رکھی جب تک کرسیاں دوبارہ خالی نہیں ہو گئیں۔تحریک انصاف کی انتخابی مہم کے لیے الیکٹرانک میڈیا نے تقریباً ایسا ہی کردار کراچی کے حلقہ این اے 246 کے ضمنی انتخابات کے دوران بھی ادا کیا تھا۔ میڈیا کے اس قسم کے کردار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بلاوجہ ادا نہیں کیا جاتا۔
کسی انتخابی مہم کے دوران کون کس قسم کا کردار ادا کررہا ہے اور یہ کردار انتخابات کی شفافیت کواگر کسی طرح متاثر کر رہا ہے تو اس پر نظر رکھنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ الیکشن کمیشن کے اراکین کی نظریں اگر بے ضابطگیوں کی بجائے اپنی کرسیوں پر مرکوز ہوں توان سے انتخابی عمل کو شفاف رکھنے کی امیدیں کیسے وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اراکین اس وقت عمران خان کی مسلسل تنقید بھی برداشت کر رہے ہیں،ان کے دباؤ میں بھی نظر آرہے ہیں اور ان کے نامزد امیدوار کی انتخابی مہم کے بے تحاشا اخراجات سے بھی صرف نظر کر رہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن نے عمران خان کا یہ مطالبہ بھی تسلیم کر لیا ہے کہ نہ صرف پولنگ کے وقت فوج کا عملہ موجود ہوگا بلکہ ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کے بعد تیار کیے گئے تھیلے پولنگ سٹیشنوں سے فوج کی نگرانی میں ریٹرننگ افسر کے دفتر پہنچائے جائیں گے۔انتخابی عمل میں فوج کے اس کردار کی ادائیگی پر قومی خزانے سے کس قدر زیادہ رقم خرچ ہوگی اس بارے میں ابھی کوئی بات سامنے نہیں آسکی ۔ واضح رہے کہ قبل ازیں کنٹونمنٹ بورڈز کے علاقوں میں منعقد ہونے والے لوکل باڈی انتخابات کے دوران فوج نے اسی طرح نگرانی کی تھی جس کا مطالبہ این اے 122 کے انتخابات کے لیے اب عمران خان کر رہے ہیں۔ مگر اکثر مقامات اور خصوصاً لاہور میں فوج کی نگرانی کے باوجود تحریک انصاف کے امیدوار وں کو مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔فوج کی نگرانی کا تحریک انصاف کا مطالبہ منظور ہونے کے باوجود یہ سوال اب بھی اپنی جگہ پر موجود ہے کہ توقعات کے برعکس انتخابی نتائج آنے کی صورت میں کیا عمران خان خان کھلے دل سے اپنے امیدوار کی شکست قبول کر لیں گے یا پھر سے الیکشن کمیشن کے اراکین ان کی تنقید اور دباؤکا نشانہ بنیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *