فکری مغالطے، کابل او ر اسلام آباد

khadimسماجی لسانیات کے ماہرین نے زبان و بیان اور ابلاغ کے موضوعات پر تحقیق کے دوران ایک دلچسپ حقیقت دریافت کرلی ہے ۔ حاکمیت اور محکومیت کے دوام کیلئے ایک ابلاغی بیانیہ تراشا جاتا ہے۔ اس کو سماجی اور ثقافتی رشتوں میں پیوست کردیا جاتا ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سیاسی اختیار کسی گروہ یا ادارے کا فطری حق مان لیا جاتا ہے۔ یہ ابلاغی بیانیہ ادب، شاعری، آرٹ اور میڈیا کے ذریعے سماجی نفسیات کا حصہ بن جاتا ہے۔ اسی بیانیے کے اجزا عمومی فکری مغالطوں) (Stereotypesکے ذریعے مطلق حقیقتوں کے درجے پر فائز ہوجاتے ہیں۔ عمومی فکری مغالطوں کاسب سے نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ انسانی دماغ بھرپور صلاحیت کے باوجود متنوع مشاہدے کے بشری اوصاف سے محروم ہوجاتا ہے۔ معروضی تبدیلیوں کے باوجود اس طرح کا زاویۂ نظر لچک، تخلیق اور تحقیق کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

جب کوئی ریاست فکری مغالطوں کا استعما ل کرکے اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں کی تشکیل کرتی ہے تو ’قومی مفادات‘کے حصول کی خوش فہمی اورتمام تر نیک خواہشات دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ انتظام و انصرام اور ملکی وسائل کی تقسیم کے بارے میں ہماری اندرونی پالیسیاں اور افغانستان کے حوالے سے ہماری خارجہ پالیسی اس مجرد تصور کی بہترین مثالیں ہیں۔
اسلام آباد اور کابل کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور جعرافیائی رشتوں کی گہرائی کے باوجود تزویراتی گہرائی کی کالی گھٹائیں اب بھی نظر آرہی ہیں۔وسیع تجارتی اور اقتصادی تعاون کے امکانات کے باوجود دونوں ممالک میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کی معیشت پھیلتی جارہی ہے۔
ذرا تصور کیجئے۔ افغانستان صرف اعلیٰ تعلیم کی مد میں کئی ملین ڈالر دوسرے ممالک میں خرچ کرتا آرہاہے۔اگر تعلقات خوشگوار ہوں تو افغانستان کے طلبہ یہی رقم پاکستان میں خرچ کریں گے۔افغانستان کی بیوروکریسی اور تجارت سے وابستہ افراد ایک ملین ڈالرسالانہ صرف بھارت میں چھٹیاں منانے پرخر چ کرتے ہیں۔ یورپ،شمالی امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں چھٹیوں کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ افغانستان کے ہر شہر میں پاکستانی مصنوعات کی کھپت کے لئے منڈی موجود ہے۔وسطی ایشیا میں توانائی کے ذخائر تک رسائی کاسب سے سستا اور آسان راستہ افغانستان سے ہوکر گزرتا ہے۔
صرف یہی نہیں۔ ثقافتی طور پر تعاون اور طائفوں کے تبادلے کے امکانات جتنے پاکستان اور افغانستان کے درمیاں ہیں شاید ہی دنیامیں کسی بھی اور دوممالک کے درمیان موجود ہوں۔ تعلیمی اداروں، ثقافتی و فرہنگی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کے درمیاں تعاون، ایک دوسرے سے سیکھنے کی آسانی اور سہولت اور ایک دوسرے کی مہارتوں سے فائدہ اٹھانے کے جتنے امکانات پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود ہیں شاید ہی دنیا کے اور دو ممالک کے درمیان موجود ہوں۔
مگر جب ہم فکری مغالطوں کے شکار ہوگئے تو نہ صرف معاشی اور ثقافتی تعاون کے امکانات معدوم ہوگئے بلکہ مسلح ،انتہاپسند اورغیر ریاستی تنظیموں نے دونوں ممالک میں اپنے نیٹ ورک مضبوط کرلئے۔جب یہ تصورکرلیا گیا کہ مختصر اور کم خرچ کے ذریعے غیرریاستی تنظیموں کی مدد سے مطلوبہ تزویراتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات حاصل کئے جاسکتے ہیں تو پوری دنیا کی انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیموں نے یہاں جنگی اقتصاد کا ایک لامتناہی سلسلہ تشکیل دیا۔ پاکستان کے شمال مغرب، جنوب مشرق اور مشرقی و مغربی سرحدی علاقے اورافغانستان کے جنوبی،مشرقی اور شمالی علاقے خطے اور خطے سے باہر غیرریاستی انتہاپسند تنظیموں کے لئے محفوظ پناہ گاہیں بھی بن گئیں اور جنگی اقتصاد جیسے منشیات کا کاروبار، اسلحے کا غیر قانونی کاروبار،اغواکاری،بھتہ خوری اور اجرتی قتل کا ایک وسیع نیٹ ورک بھی وجود میں آ گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلح غیرریاستی دہشت گرد تنظیموں نے جنگی حوالے سے اور پروپیگنڈا میں مہارت کے حوالے سے یہ قوت حاصل کرلی کہ جنوبی اور وسطی ایشیاء میں واقع ممالک کے درمیان غلط فہمی پیداکرکے بڑے تنازعات پیداکرسکتی ہیں۔
جب یہ تصور کرلیا گیاکہ افغانستان کی ریاست کمزورہے جس پر اپنی مرضی کا انتظام اور سیاسی ڈھانچہ مسلط کیا جاسکتا ہے تو ریاست کی بجائے غیرریاستی عناصر کے ساتھ پینگیں بڑھائی گئیں ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں انتہاپسندبیانیے کی جڑیں مضبوط ہوگئیں اور دونوں ممالک میں سماجی اور سیاسی ارتقا کودیمک لگ گیا۔ ہم نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ اتنا عرصہ جنگ زدہ رہ کر بھی افغانستان کے اندر کوئی علیحدگی پسند تحریک نہیں چلی۔قندوزپر دہشت گرد نیٹ ورک کے دھاوابولنے کے بعد پاکستان کے اندر میڈیا اور میڈیا سے باہر کچھ عناصر نے بغلیں بجائیں مگرہم یہ مشاہدہ نہیں کرسکے کہ قندوز پرتو ایک ہفتہ انتہاپسندوں کا تسلط رہامگر پاکستان کے اندر سوات، باجوڑ،شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور خیبر ایجنسی پرکئی کئی سال تک طالبان حکومت کرتے رہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیاں فکری مغالطوں کی بنیاد پر موجود عدم اعتماد کی فضا نہ صرف ان دو ممالک کے لئے ایک مستقل خطرہ ہے بلکہ خطے کے ممالک ایرن، تاجکستان،چین اور روس کے لئے بھی خطرے کی مستقل گھنٹی ہے۔ان دونوں ممالک کے درمیاں انتہاپسندی کے خلاف مشترکہ محاذ کا قیام، اقتصادی تعاون اور ثقافتی و علمی تعاون کے وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔دوسری صورت میں تاریخ کسی کو بھی معاف نہیں کرتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *