چاند، چشمے اور چراغ کا خواب

وجاہت مسعود

wajahat masoodغالب نے مہ وشوں کے لیے مصوری سیکھنا چاہی تھی۔ اقبال نے، بایں ہمہ علم، خون جگر سے ایسا ہنر مرتب کیا تھا کہ کہ جہاں چاہا ،ناوک فگن کی تصویر کھینچ کے رکھ دی۔ ’لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب‘۔ اور فیض صاحب نے کہا ، ’اگر شر رہے تو بھڑکے، جو پھول ہے تو کھلے‘۔ ایک مطالبہ لکھنے والے کے اندر سے آتا ہے اور کچھ تقاضے مہربان ہمدم کیا کرتے ہیں۔ خاکسار نے ایک بلوچ دوست کے استفسا ر پر چاند پینٹ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس کے جواب میں بلوچستان ہی سے تین ردعمل موصول ہوئے۔ نوجوان دانشور عابد میر نے ’میں خاموشی پینٹ کرنا چاہتا ہوں‘کے عنوان سے ایک خونچکاں مضمون لکھا ۔ مضمون کیا لکھا ، پنجاب کے اہل درد کو بلوچ بیٹے نے لوٹ لیا۔ اقتباس ملاحظہ ہو ،”ہم جو بولنا چاہتے ہیں، بول نہیں سکتے، جو کہنا چاہتے ہیں، کہہ نہیں سکتے، جو لکھنا چاہتے ہیں لکھ نہیں سکتے۔ آپ ضرور چاند پینٹ کرنے کی کوشش کیجیے، مگر ہم تو ایسے میں محض زندہ رہنے کی سعی میں چپ کی چادر تان لینے پر اکتفا کرتے ہیں۔  میری دھرتی کے معصوم بچے،میرے دل دار ساتھی، میرے پیارے میرے عزیز مزید کسی درندگی کا شکار نہ ہوں، اس لیے میں تو خاموشی پینٹ کرنا چاہتا ہوں.... بدھا جیسی پروقار اور متانت بھری خاموشی، جس کے بطن سے ایک متانت بھری نسل کے جنم لینے کی امید کے ساتھ میں اس کی مسلسل تخلیق میں منہمک رہنا چاہتا ہوں.... خاموش ہونا چاہتا ہوں، اور آپ سے بھی اسی پروقارخاموشی کے ساتھ ، میری بامعنی خاموشی کو سمجھنے کی خواہش رکھتا ہوں۔“ ظفراللہ خان پشین کی مٹی ہیں۔ علم اور ذکاوت کا ایسا امتزاج جیسے سندر خانی انگور کی بیلوں تلے سفید دسترخوان پر خوبانی کا ڈھیر رکھا ہو۔ ظفراللہ نے محبت سے لکھا کہ ’ریاست اور سماج کے قضیے تو چلتے رہیں گے۔ کبھی چاند پینٹ کیجئے، کبھی برستی بوندوں کی کہانی لکھئے....“ ۔ کوئٹہ یونیورسٹی ہی سے منظور بلوچ نے بھی حکم لگایا کہ پنجابی دوست ’چاند پینٹ کرنے کی افسانہ طرازی‘ کرتے ہیں۔ منظور بلوچ بہت سنجیدہ دوست ہیں۔ ان کے شکوے کائناتی پہنائیوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ کوئی ہومر ،ورجل اور گوئٹے ہو تو انہیں شافی جواب دے ۔ ہم فانی انسان ہیں۔ خس خانہ و برفاب کہاں سے لائیں۔ کچھ بات البتہ عابد میر اور ظفراللہ خان سے ہو جائے تو بہتر ہے۔ پھر التفات کا عالم رہے ، رہے نہ رہے....
ناروے کے پینٹر ایڈورڈ منچ نے 1893 ءمیں ’چیخ ‘کے عنوان سے ایک تصویر بنائی تھی۔ یہ تصویر بیسویں صدی میں انسانی زندگی کا استعارہ ٹھہری۔ دیکھئے تخلیق کا عمل ہتھیار نہ ڈالنے کا اعلان ہے۔ بھائی عابد میر نے بلوچ دوستوں پر ہونے والے ظلم کے ردعمل میں خاموشی کا جو اعلان کیا ہے وہ ایک جذبے میں رندھا ہوا احتجاج ہے۔ تخلیق ایک مسلسل اضطراب ہے۔ تخلیق کار اپنی کاہش سے اعلان کرتا ہے کہ ظلم اور ناانصافی وحشت کے جس درجے کو بھی پہنچ جائے، اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ وجود بذات خود ناانصافی، استحصال اور تشدد کے خلاف انسان کے احترام کا مسلسل اعلان ہے۔ انسانوں کی خوشی اور فلاح خلا میں جنم نہیں لیتی، سانجھ کا تقاضا کرتی ہے۔ مظلوم کو حق ہے کہ ناانصافی کی دیوار کے سامنے خاموشی سے کھڑا ہو جائے۔ مئی 1989 ءمیں تنیامن چوک میں ٹینکوں کی قطار کے سامنے ایک نوجوان خالی ہاتھ کھڑا ہو گیا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ نوجوان اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ ربع صدی گزر گئی۔لوہے کے دیوہیکل ٹینک کے سامنے پانچ فٹ چار انچ کا گوشت پوست کا انصاف مانگنے والا ایک نہتا شخص اس وقت تک زندہ رہے گا جب تک سکھ کا گاﺅں آباد نہیں ہوتا، خوشیوں کے باغ میں جھولا نہیں ڈالا جاتا، انصاف کا چشمہ نہیں بہتا اور آزادی کی نیلم پری رقص کناں نہیں ہوتی۔ گاندھی جی نے عدم تشدد کا فلسفہ متعارف کروایا تو یورپ میں لارڈ کرزن ، قیصر ولہم اور کلے مینشو کا طوطی بولتا تھا۔ تارپلین کے دبیز کپڑے سے بنے جنگی جہاز عسکری نصاب میں داخل ہو رہے تھے۔ جنرل گڈیرین نے لکڑی سے بنائے گئے ابتدائی ٹینک کو ناقابل تسخیر جنگی ہتھیار قرار دیا تھا۔ گوئرنگ ایک اساطیری ہوا باز تھا اور امیر البحر ونسٹن چرچل نے موہن داس کرم چند کو ننگا فقیر قرار دیا تھا۔ ہندوستان کے اس نیم برہنہ سنت نے ساونتوں کو شکست دی ۔ ہٹلر، مسولینی اور سٹالن بیسویں صدی کا متن نہیں ، محض حاشیہ ہیں۔ بیسویں صدی گاندھی ، مارٹن لوتھر کنگ اور نیلسن منڈیلا کے ناموں سے عبارت ہے۔ پچھلے سو برس میں انسانیت نے تمام پیش رفت امن، مساوات اور عدم تشدد کے پرچم تلے کی  ہے۔ یہ درست ہے کہ انسانی جسم اذیت کے ایک خاص درجے کی تاب نہیں لا سکتا لیکن اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ انسانی ذہن کو تشدد کا کوئی درجہ فتح نہیں کر سکتا۔ البتہ شرط یہ ہے کہ جب فرد انسانی کو بے بس کر دیا جائے تو انسان کی آواز سنائی دیتی رہے۔ سیاست انصاف کی لڑائی ہے۔ اس لڑائی میں خاموشی کام نہیں آتی ، آواز کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایڈورڈ منچ کو کینوس پر ’چیخ‘ اتارنا پڑتی ہے۔ پکاسو کو ’گورنیکا ‘ پینٹ کرنا ہوتی ہے۔ سوئٹزر لینڈ کے منوہن یاہودی نے نازی استبداد کے بارہ برس کے دوران وائلن نہیں بجایا ۔دوسری عالمی جنگ کے ہر محاذ پر فسطائیت کے خلاف اٹھنے والی ہر بندوق یاہودی کے وائلن بجانے کا حق مانگ رہی تھی۔ لیکن پھر 1947ءمیں منوہن یاہودی نے برلن مین اپنا وائلن اٹھایا اور ہزاروں جرمنوں کے سامنے سر بکھیرے۔
انسانی تاریخ کے کینوس پر بندوق ابھی موجود ہے لیکن انسانیت کا خواب بندوق نہیں، وائلن ہے۔ ’گورنیکا‘ تاریخ کا محضر ہے لیکن آنے والے پکاسو کے کینوس کا مقسوم گندم کا کھیت ہے۔ سہاگن کا آنچل ہے۔ بچوں کی ہنسی ہے۔ رینائر کے کینوس پر اترنے والی اپسرا ہے۔ عابد میر خاموشی پینٹ کرنا بھی چاہے تو لاہور سے آواز اٹھنی چاہیے کہ خاموشی کو زبان دی جائے۔ آواز کے حق سے انکار کیا جائے گا تو خاموشی صرف کوئٹہ پر نہیں اترے گی ، لاہور اور کراچی میں بھی خاموشی کا عذاب آئے گا۔ 1958 ءکا مارشل لا لگا تو ن۔ م ۔ راشد نے کہا تھا، ’ اس ملک سے آوازوں کا رزق اٹھ گیا ہے‘ ۔ ناصر کاظمی نے لکھا تھا ’ان سہمے ہوئے شہروں کی فضا کچھ کہتی ہے‘ ۔ آواز کا رزق انسان کا حق ہے۔ ظلم سہتا ہوا حبشی خاموش بھی ہو جائے تو ابراہم لنکن کے سینے کی حرارت سے غلاموں کی آزادی کا اعلان برآمد ہوتا ہے۔
میں عابد میر کے اس جملے میں طنز کا کوئی پہلو نہیں پاتا کہ مجھے اپنے ملک سے محبت ہے ۔ میری اپنے ملک سے محبت ہی کا تقاضا ہے کہ میں بلوچ دوستوں کی خاموشی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہوں۔ ہمیں پاکستان کے ہر گوٹھ اور گاﺅں میں آوازوں کا زمزمہ درکار ہے۔ یہ احساس تکلیف دہ ہے کہ ہمیں اس بارہ سالہ بچی کے لیے ماتم کرنا پڑتا ہے جسے روٹی پکانے میں کوتاہی پر باپ قتل کر دیتا ہے اور معصوم رمشا مسیح کے لیے احتجاج کرنا پڑتا ہے جو ایک مذہبی پیشوا کی اپنی گروہی اکثریت سے جنم لینے والی رعونت کا شکار ہوتی ہے۔ افغانستان میں طالبان کا ٹڈی دل اترا تو بہت سے ساز توڑ ڈالے گئے۔ صوفیا کی مجلسوں پر پابندی عائد ہو گئی۔ 2002ءکے موسم بہار میں افغانوں نے زمین میں دفن کیے ہوئے اپنے ساز پھرسے نکالے۔ ذکر کی مجلسوں کے لیے اجازت ملی تو غزنی کی گلیوں میں تصوف سے شغف رکھنے والے مسجدوں کی طرف لپک رہے تھے اور ان کی آنکھوں میں آنسوﺅں کی جھڑی بندھی تھی۔ انسانی آزادی کے خواب میں عبادت اور رباب کے لئے بیک وقت جگہ موجود ہے۔ عبادت اور موسیقی سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتا۔
جبر اور استبداد کے نتیجے میں خاموشی پینٹ کرنے کا مقام آجائے تو اس تصویر کا ہر زاویہ ناانصافی کی گواہی دیتا ہے۔ چاند پینٹ کرنے والا خاموشی کے خلاف احتجاج لکھنا چاہتا ہے۔ صرف اپنے لیے نہیں، سب کے لیے آواز مانگتا ہے تاکہ بارش کی بوندوں کو راگ کی بندش مل سکے، نیلے گلاب پر تتلی ناچ سکے، برہا کی پکار کو وصل کی سرگم نصیب ہو۔ سپاہی اور فنکار میں فرق کی حقیت یہی ہے کہ سپاہی کی جیب میں بھی کسی کی تصویر رکھی ہوتی ہے۔ محاذ پر یہ تصویر سینے سے لگائے رکھنے کا مطلب ہے کہ آنگن کا خواب سلامت ہے۔ آنگن کا تلازمہ آوازوں کی گونج ہے ، ماتم کی خاموشی نہیں۔ چاند پینٹ کرنا جرم نہیں۔ چاند کوئٹہ پر بھی چمکتا ہے، شام کے ان قصبوں پر بھی جہاں اس وقت آگ بھڑک رہی ہے اور افغانستان کی ان پہاڑیوں پر بھی جہاں ایک اورجنگ کا ایندھن جمع کیا جا رہا ہے۔جنگ ختم کرنے کے لیے بندوق ایک عارضی حکمت عملی ہے ۔ چاند، چشمے اور چراغ کا خواب مصور کا ’موضوع سخن‘ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *