نولکھا

shakila sher aliمجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بچپن میں ہم سب بہن بھائی بہت فرمائش سے اپنی امی سے'نولکھا'نامی ایک مزیدار سی ڈش بنوایا کرتے تھے۔ یہ تو ہمیں بہت بعد میں پتہ چلا کہ یہ تو بچے ہوئے دو تین سالن اور رات کی بچی ہوئی روٹی کا حلیم نما ملغوبہ ہے جسے نئے سرے سے تڑکا لگا دیا جاتاہے۔ قارئین میرے اس کالم کو بھی ایک طرح کا نولکھا ہی سمجھ لیں کہ مختلف واقعات پر میں نے جو تبصرہ آرائی کی تھی، ان سب کو میں نے ایک جگہ یکجا کر دیاہے مثلاً چیک ٹرانزیکشن ٹیکس پر تبصرہ کچھ یوں تھا :
اے پیارے پاکستان کے پیارے لوگو ! آپکو یہ نوید ہو کہ آپ کی اپنی منتخب کردہہر دلعزیز حکومت نے آپکی خدمت کے لیئے ایک اور معرکہ آرا سنگ میل عبور کر لیا ہے - اور وہ یہ کہ اب آپ کے بنک چیکوں پر چھ فیصد کے حساب سے کٹوتی ہوا کرے گی -
لو جی آپ یونہی کہتے رہتے ہو کہ حکومت عوام کے لیئے کچھ نہیں کرتی، اب آپ جتنے زیادہ چیک کاٹیں گے، حکومت اس سے 38 ارب کمائے گی اور پھر آپ کی نئی گاڑیوں کے لئے نئی سڑکیں بنائے گی مگر آپ اببھی خوش نہیں تو کیا کیا جاسکتا ہے؟حکمران تو کماحقہ کوشش کر رہے ہیں - آپ کو اب بھی اگر پہلی ترجیح کے طور پر سکول،ہسپتال، فیکٹری اور نوکری چاہیئے تو پھر آپ کی سیاہ بختی پر میری طرف سے گریہ و زاری تو بنتی ہے ناں !
اب رہ گئے پیارے وزیراعظم اور ڈار صاحب تووہ بیچارے تو پردیسی ہیں پھر بھلا پردیسیوں سے کیسا بیر؟ ارے آپ حیران کیوں ہو رہے ہیں ؟ اب دیکھئے ناں ! ڈار صاحب کے بیٹے دوبئی میں، ان کا بزنس دوبئی میں، پاکستان میں تو انکی سالانہ آمدنی صرف پونے دو لاکھ ہے،اس پہ وہ بےچارے کیا ٹیکس ادا کرتے پھریں؟گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا؟ ان سے زیادہ تو میں اور آپ ہی مالدار ہیں- آپ انہیں زیادہ تنگ کریں گے تو انکے بیٹے ہیں ناں دوبئی میں ! بعینہ یہی حال نواز شریف کا ہے(سمدھیانہ ہوتو ایساہو) دونوں نے بوریا بستر باندھ لیا اور سدھار لئے زرداری صاحب کی طرح تو پھر آپ دیکھتے رہیئے گا اور سر دھنئے گا کیونکہ پھر کوئی نہیں آنے کا آپ کی حا لت بدلنے کو ! ابھی تو آپ یہ سوچ رہے ہیں ناں کہ میں ایک لاکھ روپے کے چیک پر 600 روپے حکومت کو کیوں دوں؟گاڑی میں پٹرول کیوں نہ ڈلوا ﺅں یا پھر دو کلو مرغی کا گوشت کیوں نہ لے لوں؟ بیگم کے سوٹ کی سلائی کیوں نہ دے دوں؟ بس ہم عوام بیں ہی خود غرض ہر وقت ہمیں اپنی پڑی رہتی ہے - ترقی تو ہمارے مقدر میں ہی نہیں -
جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ آیا تو تجزیہ کچھ یوں تھا :
پاکستان کی68سالہ سیاسی تاریخ میں عدلیہ کا کردار اس ایک مصرعہ میں سمویا جا سکتا ہے،
"فقیہ شہر منتظر رہا امیرشہر کے اشارہ ابرو کا"
مثالیں بہت ہیں،1947ءسے ڈھونڈنا شروع کیجیئے۔ 1954/1955 میں مولوی تمیزالدین کیس میں جسٹس منیر کا فیصلہ گورنر جنرل غلام محمد کے حق میں آیا۔ 1977 میں نصرت بھٹو کیس میں جسٹس انوارالحق کا فیصلہ نظریہ ضرورت کے تحت ضیا الحق کے حق میں آنے پر مرد مومن کے طوالت اقتدار کا باعث بنا، 1979 میں سپریم کورٹ کے ذریعے بھٹو کا عدالتی قتل، 1999میں ایک بار پھر مشرف کے لئے سپریم کورٹ(بشمول چوہدری افتخار) کی طرف سے 'نظریہ ضرورت 'کا تحفہ.... سو ، صاحبان کہاں تک سنو گے؟کہاں تک سناﺅں؟؟
فیس بک پر کسی نے لکھا کہ مہندی اور بارات کی رسوم غیرشرعی ہیں تو جو فوری خیالات ذہن میں آئے،وہ یہ تھے :
شادی کی رسومات مثلاً مہندی،مایوں اور سہرا بندی وغیرہ کے بارے میں بحث کہ یہ غیر شرعی و غیر اسلامی ہیں،بالکل غیر ضروری ہے کیونک میرے خیال میں یہ سب اگر سادگی سے کیا جائے تو ہر گز خلاف اسلام نہیں - ویسے یہ رسومات ہمارے کلچر کا حصہ ہیں اور کلچر کا رشتہ زمین سے بھی ہوتا ہے،صرف مذہب سے ہی نہیں۔ مٹی سے جڑی ثقافت کے اپنے رواج ہوتے ہیں۔ میں شلوار قمیض کیوں پہنتی ہوں؟ عربی چوغہ کیوں نہیں زیب تن کر لیتی؟ کبھی نوٹ کیا ہے کہ سکھ خواتین نے بھی شلوار قمیض پہہنی ہوتی ہے میں اونٹ کا گوشت کیوں نہیں کھا سکتی،بھینس کا دودھ مجھے ہضم ہو جاتا ہے،بھیڑکے دودھ سے مجھے ابکائی آ جا تی ہے جب کہ ایک عرب یہ دونوں چیزیں استعمال کرتا ہے اور اسے ہضم بھی ہو جاتی ہیں اس کی وجہ اپنی اپنی مٹی کی تا ثیر ہے ۔ پس ثابت ہواکہ زمین سے جڑے حقائق اور مٹی سے پھوٹتی ثقافت سے رشتہ نہیں توڑا جا سکتا- ہاں ان رسومات کی ادائیگی میں اسلام کی روح کے مطابق اصراف کیئے بغیر،ان سے بھرپور لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے
تو قارئین اسے کہتے ہیں ' نولکھا '۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *