چائنا کا منٹو

muhammad Nadeemمحمد ندیم

اردو ادب کے حوالے سے یہ سال بہت اچھا رہا فلم منٹو ریلیز ہوئی اور اب "ماہ میر" ریلیز کے لیے تیار ہے معروف شاعر، ادیب، فلم رائٹر اور ڈائریکٹر سرمد صہبائی میر تقی میر کی زندگی پر "ماہ میر" کے نام سے فلم بنا چکے ہیں اور نومبر کے وسط میں ریلیز متوقع ہے اس کی کہانی بھی سرمد صہبائی صاحب ہی نے لکھی ہے فلم میں میر تقی میر کا کردار فہد مصطفیٰ کر رہے ہیں
اب بات کرتے ہیں فلم منٹو پر، جس طرح منٹو کے افسانوں پر تبصرہ کرنا آسان نہیں بالکل اسی طرح فلم منٹو پر بات کرنا آسان نہیں۔ موجودہ حالات میں فلم بنانا اور وہ بھی ادبی شخصیات پر ایک قابل تعریف کام ہیلیکن اگر ان ادبی شخصیات میں سے انتخاب منٹو کا ہو تو یہ فیصلہ فلم دیکھنے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے کہ فلم بنانے والا تعریف کے قابل ہے یا نہیں۔ کہیں منٹو صاحب کو رحمتہ اللہ علیہ کی کھونٹی پر تو نہیں لٹکا دیا ؟ فلم کے ہدائت کار اور اس کا مرکزی کردار "منٹو" سرمد کھوسٹ نے ادا کیا جو کہ اپنے کردار اور منٹو کے ساتھ انصاف کرنے میں ناکام رہے۔ یہ منٹو صاحب کے آخری سات سالوں پر فلم ہے جس میں منٹو صاحب کے افسانوں کا تڑکہ لگا کر پیش کیا گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس فلم کو صرف منٹو صاحب کی زندگی پر فلمایا جاتا ناکہ ان کے افسانوں کا ٹریلر دکھایا جاتا افسانوں کے لیے علیحدہ سے کوئی اور سلسلہ شروع کیا جا سکتا تھا فلم کے گانے اور اس میں شامل کیے گئے افسانے نکال باہر کیے جائیں تو بمشکل سے ایک گھنٹہ بچتا ہے جس میں پورے منٹو کا آدھا چہرہ بھی نظر نہیں آیا اتنے کم وقت میں حاضرین کیسے منٹو صاحب سے درست طور پر واقف ہو سکتے ہیں۔ منٹو صاحب اپنی زندگی کے بیالیس سال سات ماہ اور آٹھ دن زندہ رہے اور فلم میں انہیں مکمل دو گھنٹے اور بیس منٹ نہ مل سکے۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ اس فلم میں چائنا کے منٹو کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جو لوگ سعادت حسن منٹو سے پیار کرتے ہیں کم از کم انہیں تو یہ فلم نہیں دیکھنی چاہیے۔
کئی جگہوں پر فلم کے مصنف نے زیب داستان سے کام لیا ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ فلم کا سکرپٹ ان اہل قلم کو دکھا دیا جاتا جو اب بھی حیات ہیں جنہوں نے اپنے روز و شب منٹو صاحب کے ساتھ گزارے یا جنہوں نے منٹو صاحب پر کام کیا۔ منٹو کے چاہنے والوں نے منٹو پر لکھے گئے خاکے پڑ ھ کر اپنے ذہنوں میں جو خاکہ قائم کر رکھا ہے وہ اس فلم میں کہیں بھی دکھائی نہیں دیا وہ اہل قلم جنہوں نے منٹو پر کام کر رکھا ہے انہیں بہت مایوسی ہو گی۔ میں جس منٹو کو جانتا ہوں وہ مجھے تو اس فلم میں نظر نہیں آیا۔ ہمارے معاشرے کی اکثریت منٹو کو فحش نگار سمجھتی ہے لیکن اب لوگ فلم میں منٹو صاحب کو شرابی کے روپ میں بھی دیکھیں گے۔ شراب منٹو صاحب کی تخلیقی ضرورت تھی یا ان کی کمزوری یہ ایک الگ بحث ہے لیکن شرابی کا جو لیبل اس فلم کی بدولت منٹو صاحب پر لگا وہ شاید کبھی نہ اترے۔
دوستوں کی ایک محفل میں شراب کے پس منظر میں سانپ اور انسان کی کہانی منٹو صاحب بیان کرتے دکھائی دئیے جبکہ یہ منٹو کے بھانجے حامد جلال نے منٹو کی موت کے بعد لکھے خاکے میں بیان کی ہے
فلم کے شروع میں کہانی کار عصمت چغتائی کے بارے میں بتانا چاہ رہے تھے لیکن غلطی سے واجدہ تبسم کا ذکر کر گئے منٹو کے افسانہ بو اور عصمت چغتائی پر ایک ساتھ مقدمہ چلا تھا منٹو نے یہ افسانہ 1944 میں لکھا تھا جبکہ واجدہ تبسم کا زمانہ بعد کا ہے ۔ منٹو ضدی تھا ۔ اس نے اپنی کہانی کھول دو کا پلاٹ خراب نہیں کیا اور اسی ضد نے ان پر عدالت کے دروازے کھول دئیے۔ حکومت اس کے ایک افسانے کو فحش قرار دیتی تو منٹو ضد میں آ کر ایک اور افسانہ لکھ دیتا ۔سرمد کھوسٹ کے مطابق یہ فلم منٹو صاحب کے قیام پاکستان کے بعد کی کہانی بیان کر تی ہے فلم میں منٹو صاحب افسانہ "ہتک" لکھتے دکھائی دئیے جبکہ منٹو صاحب نے یہ افسانہ 1944 میں لکھا تھا
فلم کے ایک منظر میں منٹو صاحب کی بیٹی بیمار ہے اور منٹو صاحب چوہدری صاحب سے پیشگی معاوضہ لے کر دوائی کی بجائے شراب خرید لاتے ہیں منٹو نے اپنی کتاب یزید کے دیباچے میں لکھا تھا کہ" اگر میری ایک بچی بھی بیمار پڑ جائے تو مجھے اس کے علاج کے لیے بھیک مانگنے پر کوفت ہوتی ہے " وہ کوفت منٹو صاحب میں نظر تو آئی لیکن منٹو صاحب کا پیسوں سے دوائی خریدنے کی بجائے شراب خرید لانا بے یقینی سا لگا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ انہیں اپنی بچی کی فکر نہ ہو۔
منٹو صاحب علاج کے سلسلے میں پاگل خانے میں داخل رہے لیکن جو منظر اس فلم میں دیکھایا گیا وہ چونکا دینے والا تھا منٹو صاحب آرام سے کرسی پر بیٹھے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے بشن سنگھ اور چند دیگر پاگلوں کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں کہ ہسپتال کا عملہ ان کو بازوؤں سے اٹھا کر زبردستی لے جانے کی کوشش کرتا ہے منٹو صاحب سوال کرتے ہیں کہ کہاں لے جا رہے ہو مجھے، میں تم پر کیس کر دوں گا منٹو صاحب چلاتے رہ جاتے ہیں اور وہ منٹو صاحب کو زبردستی گھسیٹ کر ان کے بستر پر لے جاتے ہیں جہاں انہیں زبردستی الیکٹرک شاک لگائے گئے شراب نوشی کی عادت سے چھٹکارہ پانے کا یہ طریقہ علاج سمجھ سے باہر ہے۔
جس طرح پبلشروں نے اپنی کتابیں بیچنے کے لیے منٹو کے متنازعہ افسانے شامل کیے۔ وہی افسانے اس فلم میں شامل کیے گئے ہیں منٹو کے افسانوں کے ایک ہی رخ کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے کہا تھا کہ یہ ہماری تنقید کی بدقسمتی اور ہمارے پڑھنے والوں کے ساتھ ظلم عظیم ہے کہ منٹو کو "رنڈیوں کا افسانہ نگار" اور "فحشیات کا ماہر" یا بہت سے بہت "فسادات کے موضوع پر چند افسانوں کا مصنف کہہ کر ٹال دیا جائے اسی طرح ہم لوگوں نے داغ کو یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کہ وہ بھی کوئی شاعر تھوڑی ہیں صرف رنڈیاں ان کا کلام گاتی تھیں۔ اس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ داغ کا تو کچھ نہیں بگڑا لیکن ہمارے یہاں ایسے شعرا کا بھی فقدان ہونے لگا جو صاف اور رواں زبان میں دو مربوط مصرعے موزوں کر سکیں۔
فلم کے ایک منظر میں جج صاحب منٹو کے افسانہ کو فحش قرار دے کر پچیس روپے جرمانہ کی سزا سناتے ہیں وہ منظر بہت دلچسپ ہو جاتا ہے جب عدالتی کاروائی کے بعد جج صاحب منٹو صاحب سے آٹو گراف لیتے ہیں۔ منٹو کی تحریروں پر فحاشی کا پانچواں مقدمہ اس کے افسانہ اوپر نیچے اور درمیان پر 1952ء میں قائم ہوا تھا منٹو فحاشی کے مقدمات سے زچ ہو چکا تھا ۔ چنانچہ اس نے عدالت میں پیش ہوتے ہی اقرار جرم کر لیا جس جج نے منٹو صاحب کو سزا سنائی ان کا نام مہدی علی صدیقی تھا ان کی خودنوشت "بلا کم و کاست" 2002ء میں کراچی سے شائع ہوئی اس مقدمے کا احوال اس طرح بیان کرتے ہیں کہ
’’سنہ 1953 کا زمانہ تھا میں اپنے کام میں مصروف تھا اجلاس اہل معاملہ سے بھر ہوا تھا اتنے میں میرے پیشکار نے مجھ سے کہا :ان صاحب کو اپنے کیس کی جلدی ہے
میں نے سر اٹھا کر دیکھا ایک میانہ قد خوش شکل آدمی قدرے بیمار مگر زیادہ پریشان شیروانی کے اوپر کے بٹن کھلے ہوئے۔ گلے میں گلوبند لٹکا ہوا ، رکتی ہوئی آواز میں مجھ سے مخاطب تھا
میں سعادت حسن منٹو ہوں لاہور سے آیا ہوں اور بہت بیمار ہوں ۔مجھے جرم سے اقبال ہے ۔جلد فیصلہ کر دیجئے۔
ایک صاحب منٹو کے پیچھے کھڑے تھے بالکل اس طرح ایسے منٹو کو حراست میں لئے ہوں یہ ان کے ضامن تھے یا ان کے ضامن کے فرستادہ تھے تا کہ منٹو کو اپنے سامنے مقدمہ سے فارغ کرائیں ۔
میں نے کہا: آپ لوگ تشریف رکھیں
منٹو نے کہا: جی
میں نے پھر کہا: آپ تشریف رکھیں
منٹو بادل نخواستہ پیشکار کے بینچ پر بیٹھ گئے میں نے ان کے مقدمے کی مثل اٹھائی اور مطالعے میں مصروف ہو گیا منٹو پر الزام تھا "اوپر نیچے اور درمیان" لکھنے اور شائع کرنے کا مجھے ان کے مقدمے کا علم کچھ عرصہ سے تھا میں نے اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کیا تھا
میں نے ادبی مشاغل کبھی ترک نہیں کیے مگر افسانوی ادب اور خصوصاً اردو افسانوی ادب کے متعلق میرا علم حاضر نہ تھا اس لیے میں نے دو چار افسانے ہی پڑھے منٹو کے مضامین کے جتنے مجموعے مل سکے میں نے ان کا بغور مطالعہ کیا البتہ اس خاص افسانے اور تنقیدوں کے پڑھنے سے احتراز کیا اس لئے کہ میں پہلے سے کوئی رائے قائم نہ کر لوں آپ اندازہ کیجئے کہ جب منٹو نے اقرار جرم کی آڑ لی تو مجھ پر کیا گزری ہو گی
اس درمیان میں میں نے منٹو کو کنکھیوں سے دیکھنے کی کوشش کی مگر وہ بینچ سے غائب تھا اور بیتابی سے اجلاس کے باہر برآمدے میں ٹہل رہے تھے پھر اندر آئے اور کہنے لگے
"اب میرا کیس ختم کیجئے"
میں نے کہا: تشریف رکھیے یہ کہہ کر میں نے مقدمات سرسری کے رجسٹر کی خانہ پری شروع کر دی منٹو بینچ پر بیٹھ گئے مگر برابر پہلو بدلتے رہے اندرجات ختم کر کے میں نے حسب ضابطہ ان کا اقبال جرم قلمبند کر لیا سب کا خیال تھا کہ میں فوراً بھاری سا جرمانہ عائد کر دوں گا مگر منٹو کو خصوصیت سے بڑی ناامیدی ہوئی جب میں نے کہا:
منٹو صاحب میں تجویز کل سناؤں گا
وہ مصر ہوئے کہ حکم فوراً دیا جائے۔ ان کے خیال میں ان کے اقبال اور مجسٹریٹوں کے وجود کا مقصد ہی فوت ہوا جا رہا تھا اور میں چاہتا تھا کہ افسانہ پڑھ لوں اس پر غور کر لوں یہ جانچ لوں کہ وہ قانون کی تعریف کے لحاظ سے واقعی فحش ہے یا نہیں۔ یقین کیجئے کہ حقیقی انصاف میں خلوص فکر و عمل کو بڑا دخل ہے خودرائی اور لفظی ضابطہ پرستی انصاف کے منافی ہیں یہ محض رنگ زمانہ ہے کہ جو ہر غرض پر قربان کر دیا جاتا ہے۔
قصہ مختصر منٹو کو قہر درویش برجان درویش دوسرے دن تک انتظار پر آمادگی ظاہر کرنا پڑی دوسرے دن اجلاس میں بیٹھ کر میں نے مختصر سی تجویز لکھی ۔ منٹو مع اپنے ساتھی کے اسی طرح بے تابی میں حکم سننے آئے تھے میں نے پوچھا:
منٹو صاحب آپ کی مالی حالت کیسی ہے ؟
کہنے لگے: بہت خراب
میں نے پوچھا: آج تاریخ کیا ہے؟
کسی نے کہا: پچیس
میں نے کہا: منٹو صاحب آپ کو پچیس روپے جرمانہ
پہلے وہ سمجھے نہیں پھر اپنے دوست سے پوچھنے لگے یہ تاریخ پوچھتے ہیں یا فیصلہ سناتے ہیں؟
مگر ضامن بدستور مستعد تھے وہ فوراً جرمانہ ادا کر کے چلے گئے اور منٹو باہر برآمدے میں ٹہلنے لگے کچھ دیر بعد منٹو اور ان کے ساتھی پھر کمرے میں نظر آئے
میں نے کہا: ارشاد ؟
ان کے ساتھی نے فرمایا ہم آپ کو تکلیف دینے آئے ہیں ۔
میں نے بلا کسی تکلف کے دعوت قبول کر لی۔ اجلاس میں بیٹھ کر کسی رسمی رد و قدح کا موقع نہیں رہتا اور پھر میں خؤد منٹو سے بے تکلف ملاقات کا خواہش مند تھا کیونکہ میری دانست میں پریم چند کے بعد منٹو اردو کا سب سے بڑا افسانہ نویس تھا۔
میں شام کو دفتر سے سیدھا زیلین کافی ہاوس پہنچ گیا۔ کافی ہاوس کھچا کھچ بھرا ہوا تھا میں سیڑھیوں کے پاس کھڑا تھا کہ منٹو اور ان کے ساتھی آ گئے۔ منٹو سر خوش تھے مگر بالکل ہوش میں۔ بات کرتے کرتے رک جاتے مگر تسلسل کلام نہ ٹوٹتا کبھی مجھ سے مخاطب ہوتے اور کبھی بیچ میں اپنے ساتھیوں سے میرے اوپر تنقیدی جملے کہے جاتے مگر ہر لفظ خلوص میں ڈوبا تصنع سے پاک تھا۔ دنیا نے اچھے اور برے کا جو معیار قائم کر رکھا تھا وہ رسوم قیود سے آزاد تھا مگر ایک مستقل معیار زمانے کے ساتھ بدلنے والا نہ تھا۔ غرض اس وقت مجھے اپنی عمر میں پہلی مرتبہ ایک حقیقت پرست، بے ریا اور بے باک آرٹسٹ کا یسا نقشہ نظر آیا جو وہ آج تک دماغ میں محفوظ اور زندہ ہے اور زندگی بھر رہے گا گفتگو طویل مگر دلچسپ تھی
کہنے لگے: آپ شراب پیتے ہیں؟
میں نے کہا: جی نہیں
ملا ہیں بالکل؟
جی نہیں مسلمان۔
ہنسنے لگے۔ ان کے ساتھی نے میرے لیے کافی منگوائی مجھے معلوم ہوا کہ یہ لوگ کسی بار سے دلچسپ صحبت چھوڑ کر میری خاطر آئے ہیں۔ میں نے معذرت کی کہ دراصل میزبانی تو مجھے کرنی چاہیے کہ مقامی آدمی ہوں ۔
منٹو نے کہا: جی نہیں۔ آپ تو مہاجر معلوم ہوتے ہیں ۔
میں نے کہا: پھر بھی ہوں تو کراچی میں۔
پھر مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ نے ہمیں اجلاس میں بیٹھنے کے لیے کیوں کہا ؟ مجھ سے تو کسی مجسٹریٹ نے ایسا برتاؤ نہیں کیا
میں نے جواب دیا بداخلاقی کو عدالتی آداب کا جزو نہیں سمجھتا۔
اس پر فوراً ہنسے اور اپنے ساتھی سے کہنے لگے: آدمی تو شریف معلوم ہوتا ہے
کچھ دیر بعد کہنے لگے: میں نے آپ کی تجویز نہیں پڑھی۔ کیا لکھا ہے آپ نے ؟
میں ان کے ہاتھ میں نقل دے دی غور سے پڑھنے اور ختم کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں سے اس طرح مخاطب ہوئے جیسے میں موجود نہیں ہوں: پڑھا لکھا آدمی ہے
اچھا جی آپ نے کہاں سے تعلیم پائی ہے؟
میں نے اپنے تعلیمی اسناد سنائے ۔
پھر ہنسے اور کہنے لگے: دیکھا نا میں نے کہا تھا کہ بہت پڑھا لکھا اور انگریزی اچھی لکھتا ہے بہت اچھی لکھتا ہے
کیوں جی آپ نے مجھے سزا کیوں دی؟
اس وقت مجھے احساس ہوا کہ یہ شخص پکا آرٹسٹ ہے منٹو کو کوئی احساس نہیں تھا کہ انہوں نے کوئی فحش چیز لکھی ہے۔ انہوں نے ایک افسانہ لکھا تھا انہوں نے مجھے بتلا دیا کہ وہ بڑی حد تک واقعات پر مبنی تھا وہ کہتے رہے کہ اگر افسانہ فحش ہے تو وہ کیا کریں وہ واقعی فحش تھا آج کل کی سوسائٹی فحش ہے وہ تو صرف عکاس ہیں اور آئینہ پر برے چہروں کو غصہ آیا ہی کرتا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ انہوں نے ایک لفظ بھی فحش استعمال نہیں کیا اور یہ بالکل امر واقعہ تھا ان کی بحث کا جواب میں اسی جوش اور صراحت سے دینے کے لیے بالکل تیار تھا ۔میں نے ٹالنے کے لیے کہا:
محض فحش الفاظ ہی معیار نہیں ہوتے ۔
کہنے لگے: پھر کیا معیار ہے حقیقت چھپائی جائے آپ مجھے سچ بولنے کی سزا دیتے ہیں
اس وقت گو میں نے صاف جواب دینا مناسب نہیں سمجھا کہ حقیقت اور اظہار حقیت میں کچھ نہ کچھ فرق تو ہوتا ہی ہے اور رکھا ہی جاتا ہے ورنہ ستر پوشی کا کیا جواز ہے ؟ وضائف جنسی کی ادائیگی کے لیے انسان اوٹ کیوں دھونڈتے ہیں؟ رمزیت اور فنکارانہ متانت کو ادبی محسن میں کیوں شمار کیا جاتا ہے ؟ ادیب فوٹو گرافر پینٹر ہوتا ہے اور فوٹو گرافر بھی اعضا و افعال جنسی کی تصویریں لیتے ہوئے نہیں پھرتے۔ میں نے پھر ٹال کر جواب دیا:
یہ میں آپ کو پھر کبھی بتلاؤں گا کہ میں نے آپ کو سزا کیوں نہیں دی ۔
منٹو نے کہا: آپ وعدہ کر لیجئے
میں نے کہا: وعدہ ہے۔‘‘
منٹو کے زیر استعمال رہنے والا ٹائپ رائٹر اور ان کے اپنے رسم الخط میں لکھا گیا قبر کا کتبہ بھی فلم میں کہیں دکھائی نہیں دیا فلم کا اختتام اتنا بے یقینی تھا کہ یوں لگا جیسے وقت سے آدھا گھنٹہ قبل اچانک سے ختم ہو گئی ہو سعادت حسن منٹو کے بھانجے حامد جلال نے "منٹو ماموں کی موت" کے نام سے ایک خاکہ لکھا جس میں ان موت کے وقت کا تفصیلی احوال ہے اس خاکے میں سے کچھ مواد شامل کیا جانا چاہیے تھا
’’اس وقت منٹو ماموں کے ہوش ہواس بالکل بجا تھے اور ہسپتال کا نام سنتے ہی وہ بول اٹھے "اب بہت دیر ہو چکی ہے مجھے ہسپتال نہ لے جاو اور یہیں سکون سے پڑا رہے دو"
گھر کی عورتوں کے لیے یہ منظر ناقابل برداشت تھا انہوں نے رونا شروع کر دیا یہ دیکھ کر منٹو ماموں فوراً مشتعل ہو گئے اور انہوں نے غضبناک آواز میں کہا "خبردار جو کوئی رویا" یہ کہہ کر انہوں نے اپنا منہ رضائی سے بند کر لیا
منٹو کا یہ اصلی روپ تھا جس شخص کی زندگی کا کوئی گوشہ آج تک دنیا کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہا تھا وہ کس طرح برداشت کر سکتا تھا کہ لوگ اسے مرتا ہوا دیکھیں منٹو ماموں مجسم غیظ وغضب بنے ہوئے تھے معلوم نہیں وہ اپنے آپ سے ناراض تھے یا شراب سے جوان کی قبل از وقت موت کی ذمہ دار تھی
ایمبولینس آنے سے پہلے صرف ایک بار یا دو بار انہوں نے اپنے منہ سے رضائی ہٹائی انہوں نے کہا " مجھے بڑی سردی لگ رہی ھے اتنی سردی شاید قبر میں بھی نہیں لگے گی میرے اوپر دو رضائیاں ڈال دو "کچھ دیر توقف کے بعد ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک نمودار ہوئی انہوں نے آھستہ سے کہا "میرے کوٹ کی جیب میں ساڑھے تین روپے پڑے ھیں ان میں کچھ اور پیسے ملا کر تھوڑی سی وہسکی منگا دو"
شراب کے لئے ان کا اصرار جاری رہا ان کی تسلی کے لیے ایک پوا منگا لیا گیا انہوں نے بوتل کو بڑی عجیب اور آسودہ نظروں سے دیکھا اور کہنے لگے " میرے لیے دو پیگ بنا دو" اور یہ کہتے ہوئے درد اور شدید تشنجی دورے کے باعث وہ کانپ اٹھے منٹو ماموں کی آنکھوں میں اس وقت بھی اپنے لیے کوئی شائبہ موجود نہیں تھا انہیں معلوم تھا کہ ان وقت آ پہچا ہے لیکن ایک بار بھی اور ایک لمحے کے لیے بھی انہوں نے اپنے اوپر جذباتیت نہیں طاری ہونے دی انہوں نے اپنے بچوں یا کسی اور کو اپنے پاس نہیں بلایا
ایمبولینس جیسے ہی دروازے پر آ کر کھڑی ہوئی انہوں نے شراب کا پھر مطالبہ کیا ایک چمچہ وہسکی ان کے منہ میں ڈال دی گئی لیکن شاید ایک قطرہ مشکل سے ان کے حلق سے نیچے اتر سکا ہو گا باقی شراب ان کے منہ سے گر گئی اور ان پر غشی طاری ہو گئی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ انہوں نے اپنے ہوش و ہواس کھوئے تھے انہیں اسی حالت میں ایمبولینس میں لٹا دیا گیا
ایمبولینس ہسپتال پہنچی اور ڈاکٹر انہیں دیکھنے کے لیے اندر گئے تو منٹو ماموں مر چکے تھے دوبارہ ہوش میں آئے بغیر راستے ہی میں ان کا انتقال ہو چکا تھا۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *