چین کا ایک بچہ پالیسی ختم کرنے کا فیصلہ

chinaچین میں حکمراں کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے ایک عشرے قبل شروع کی جانے  والی ایک بچے کی پالیسی اور تنقید کا نشانہ بنائے جانے والے لیبر کیمپ نظام کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لیبر کیمپس کو ‘ مشقت کے ذریعے دوبارہ تعلیم دینے کے عمل ‘ سے بھی تعبیر کیا جاتا رہے۔ اسے کمیونسٹ پارٹی پر تنقید کرنے والے افراد کو سزادینے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب اسے مقامی افسران استعمال کرتے ہیں جو ان کا اتھارٹی کو چیلنج کرتے ہیں یا کرپشن اور دیگر جرائم میں ملوث ہوتے ہیں۔

پیُو زیکیانگ، جو بیجنگ کے ممتاز قانون دان ہیں نے غیرقانونی نظام کے خاتمے کا خیر مقدم کیا ہے۔ وہ ان کیپمس کا نشانہ بننے والے کئی افراد کیلئے قانونی مدد کرتے رہے ہیں۔

‘ حکومت نے حال ہی میں کئی اقدامات کئے ہیں جو قانون کے خلاف ہیں، انسانی حقوق کا احترام نہیں کرتے، نہ ہی اظہار کی آزادی کا، لیکن لیبر کیمپس کے خاتمے سے اب پولیس کیلئے لیبر کیمپس میں لوگوں کو جکڑ کر بٹھانا بہت مشکل ہوجائے گا،’ پیو نے کہا۔

انہوں نے اسے ایک ترقیاتی قدم بھی قرار دیا۔

چین میں اب جو قانون رائج ہے اس کے تحت شہر میں رہنے والے جوڑے صرف ایک بچے کو ہی جنم دے سکتے ہیں جبکہ دیہاتوں میں رہنے والے خاندان کو دوسرا بچہ پیدا کرنے کی اجازت صرف اس صورت میں ہے کہ پہلے لڑکی پیدا ہو۔

نئی پالیسی کے تحت وہ والدین ایک اور بچہ پیدا کرسکیں گے جن کے پاس ابھی صرف ایک ہی اولاد ہے۔

چین نے 80  کے عشرے میں ایک بچہ فی خاندان کی پالیسی متعارف کرائی تھی جس کے تحت لاکھوں خاندانوں کو غربت کے چنگل سے نکلنے میں مدد ملی تھی ۔ لیکن اس پابندی سے اسقاطِ حمل کے واقعات بڑھے اور عوام نے ترجیحاً بیٹوں کو ہی جنم دینے کا سوچا اور لڑکیوں والے حمل ضائع کئے گئے ۔

اب اس سے ایک سنگین مسئلہ یہ پیدا ہوا ہے کہ چینی معاشرے میں مرد و عورتوں کا تناسب بگڑگیا ہے۔ چین میں تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ نوجوانوں کو شادی کیلئے لڑکیاں نہیں مل رہی ہیں۔

چین میں ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو جرمانے، ملازمت سے برخواستگی اور جائیداد کی ضبطگی جیسی سزائیں بھی دی گئی ہیں۔

اس سے قبل ایک چینی تھنک ٹینک نے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ایک بچہ پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے 2015 تک ایک جوڑے کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *