رائٹ اور رانگ سائیڈ آف دی ہسٹری!

Yasir Pirzadaجیسے کچھ عورتوں کو طلاق لینے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ وہ غلطی پر تھیں(عورتوں سے معذرت کے ساتھ) اسی طرح کچھ قوموںکو تباہی کے دہانے پر پہنچ کے پتہ چلتا ہے کہ وہ تاریخ کی غلط سمت میں کھڑی تھیں۔بد قسمتی ہے آج ان قوموں میں ایک قوم ہماری بھی ہے۔ہم تباہی کے دہانے کے قریب پہنچنے کے باوجود بھی مطمئن بیٹھے ہیں۔ وجہ اس اطمینان کی یہ ہے کہ آج تک ہمیںاپنے کسی فیصلے پر پشیمانی کا اظہار کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی کیونکہ ہمارے اندر ان فیصلوں کا ٹھنڈے دل سے تجزیہ کرنے کی بجائے ڈھٹائی سے ان پر ڈٹے رہنے کا ناقابل تسخیر جذبہ پایا جاتا ہے ۔
یوں تو ہماری تاریخ جیمز بانڈ کی فلموں اور نسیم حجازی کے ناولوںسے مرعوب اسٹیبلشمنٹ کی مضحکہ خیز پالیسیوںسے اٹی پڑی ہے تاہم ان تمام فیصلوں میںہمارا سب سے غیردانشمندانہ فیصلہ افغان جنگ میں کودنے کا تھا۔چونکہ ہم اپنے آپ کو بہت چالاک سمجھتے تھے(اور ہیں) اس لئے ہم نے سوچا کیوں نہ سوویت یونین کے خلاف’’ جہاد ‘‘میں پیسہ اور اسلحہ امریکہ کا لگوایا جائے اور ’’لیبر‘‘ چونکہ ہمارے ہاں سستی تھی اس لئے وہ ہم نے جہادیوں کی شکل میں مہیا کر دی، باقی کا کام ہم نے مذہبی رہنمائوں کے سپرد کردیا اور لگے انتظار کر نے اس وقت کا جب نیل سے لے کر تا بخاک کاشغر ہمارا طوطی بولتا۔ طوطی تو خیر کیا بولنا تھا۔ افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بج گئی، سوویت یونین ٹوٹنے کے باوجود بھی منی سپر پاور رہا۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ امریکہ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر سوویت یونین کے خلاف لڑنے کا ہمارا فیصلہ غلط تھا۔ جب ہمیں ہوش آیا تو اس دوران جیمز بانڈ کی نئی فلم ریلیز ہو چکی تھی، ہم نے وی سی آر پر وہ فلم دیکھی اور حسب سابق ایک نئی حکمت عملی وضع کی۔ اس مرتبہ ہم نے سوچا کہ جن جہادیوں پر ہم نے اتنی محنت کی ہے کیوں نہ ان سے کوئی کام لیا جائے۔ چنانچہ ہم نے انہیں نئے محاذوں پر بھیجنے کا فیصلہ کیا،ان محاذوں میں کشمیر اور افغانستان سرفہرست تھے۔ کشمیر کے بارے میں ہمارا خیال تھا کہ وہاں ہم سات لاکھ بھارتی فوج کو فقط چندہزار مجاہدین کی مدد سے ’’انگیج‘‘ رکھ سکیں گے ،اس طرح بھارت کا کشمیر میں فوج رکھنے کا خرچہ اتنا بڑھ جائے گا کہ با لآخر اس سے پوری انڈین آرمی متاثر ہوگی ،بھارت میں پہلے ہی آزادی کی بے شمار تحریکیں چل رہی ہیں،کشمیر کی تحریک آزادی بھارت کی کمر توڑ کر رکھ دے گی اور ہم اسپائیڈر مین کی طرح لال قلعے کی دیوار پر چڑھ جائیں گے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اپنے ملک میں ایک جذباتی ہیجان برپا رکھا جائے، جہاد کشمیر کو گلوریفائی کیا جائے۔ ہمارے ان اسٹرٹیجک فیصلوں پر عملدرآمد ہوسکے۔ نتیجہ اس تمام ایڈونچر کا یہ نکلا کہ اپنے ہی ملک میں انتہا پسندی کو عروج حاصل ہو گیا ،عدم برداشت کی فضا پیدا ہو گئی ،عقل کی بجائے قوم نے ہر معاملے میں جذبات سے کام لینا شروع کر دیا ،لیڈرا ن پہلے ہی کم ہمت تھے انہوں نے قوم کو صحیح راہ پر ڈالنے کی بجائے ان کے جذبات کو مزید ہوا دی تاکہ ان کی سیٹ پکی رہے ،اورایک وقت وہ آ گیا جب ملک میں مختلف گروہوں نے اپنی اپنی آرمی بناکر خود ہی جہاد کے فیصلے کرنے شروع کر دئیے ،نتیجہ اس کا ہولناک تباہی کی صورت میں نکلا۔یوںہمارا یہ فیصلہ بھی تاریخ نے غلط ثابت کر دیا ۔
تاریخ کے فیصلے کا دارومدارکسی بھی معرکے میں کامیابی یا ناکامی پر نہیں ہوتابلکہ چند دہائیوں بعد اس معرکے کے نتائج خود بخود عیاں ہو جاتے ہیں اور تاریخ اپنا فیصلہ سنا دیتی ہے ۔چودہ سو سال قبل امام حسین ؓ،یزیدی لشکر کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے ،دنیاوی لحاظ سے اس وقت یزید فاتح تھا مگر تاریخ کا فیصلہ اس کے برعکس آیا، تاریخ میں امام عالی مقام ؓ آسمان پر روشن ستارے کی طرح چمک رہے ہیں جبکہ یزید ،شمر اورابن زیاد نفرت کا استعارہ ہیں ۔اسی طرح ٹیپو سلطان بھی بیرونی سامراج کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوا ،گو کہ اس وقت وہ انگریزوں سے جنگ ہار گیاتھا مگر تاریخ میں امر ہو گیا جبکہ میر جعفر اور میر صادق غدار ٹھہرے ۔جو لوگ ٹیپو سلطان کو ایک درمیانے درجے کا جنگ باز سمجھتے ہیں انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ تاریخ میں اس کی سپاہ گری یاد نہیں رکھی گئی بلکہ سامراجی طاقت کے خلاف اس کی جدو جہد ضرب المثل بنی ۔اگر مہاتما گاندھی اور قائد اعظم سامراج کے خلاف جدو جہد کی وجہ سے دو مختلف قوموں کے ہیرو ہو سکتے ہیں تو ٹیپو سلطان کا شمار بھی اسی کیٹیگری میں ہوتا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گزنہیں کہ فقط بہادری یا سپہ سالاری ہی تاریخ میں یاد رکھی جاتی ہے ،تاریخ یہ دیکھتی ہے کہ کون حق کے ساتھ کھڑا ہوا اور کس نے باطل کا ساتھ دیا ،کون ظالم کا ساتھی بنا اور کس نے مظلوم کا سر کچلا ۔ہٹلر سے بڑا جنگی ہیرو بھلا کون تھا جس نے تمام یورپ کو ادھیڑ کر رکھ دیا ،اس کی فتوحات کسی بھی جرنیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھیں مگر تاریخ نے فیصلہ اس کے خلاف دیا ،آج وہ بھی پوری دنیا میں نفرت کی مثال ہے۔ ایک اور مثال سر سید احمد خان کی ہے ،انہیں اپنے وقت میں کیسے کیسے نفرت انگیز طعنے سہنے پڑے ،مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ مسلمانوں کو انگریزی تعلیم کی طرف مائل کرنا ،مذہب کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنا اور تفسیر کے نئے اصول وضع کرنا، سر سید کے ایسے کارنامے تھے جن پر آج ہم بجا طور پر فخر کرتے ہیں ۔ان کے مخالفین کا آج کوئی نام لیوا نہیں ،جبکہ سرسید ہمارے ہیرو ہیں ۔سرسید واز آن دی رائٹ سائیڈ آف دی ہسٹری۔
آج بھی تاریخ لکھی جا رہی ہے،گو کہ اس وقت یہ فیصلہ صادر کرنا مشکل ہے کہ کون تاریخ کی درست سمت میں کھڑا ہے اور کون غلط سمت میں ،تاہم اگر اندازہ ہی لگانا ہو کہ تاریخ کا فیصلہ کس کے حق میں آئے گا تو صرف اتنا دیکھ لیں کہ کون ظلم کا ساتھی ہے اور کون مظلوم کا۔ملالہ یوسف زئی کی کتاب کو لوگ بھول جائیں گے ،صرف یہ یاد رکھا جائے گا کہ ملالہ ایک استعارہ تھا ظلم کے خلاف ،انتہا پسندی کے خلاف ،سفاکی اور بربریت کے خلاف ،تاریخ یہ دیکھے گی کہ ملالہ کے ساتھ کون کھڑا ہو ا اور اس کی مخالفت کس نے کی ؟ کس نے ظالم کا ساتھ دیا اور کس نے مظلوم کا؟ اسی طرح جو لوگ آج دہشت گردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑے ہیں ،ان کے صدقے واری جاتے ہیں ،ان کے دہشت گردی کے حملوں کوبھول چوک کہتے ہیں اورریاست اور نہتے عوام کے خلاف لڑنے والوں کوببانگ دہل دو ٹوک انداز میں شہید کہتے ہیں۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ اس وقت وہ لوگ تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے تھے اور آج ایک مرتبہ پھر وہ رانگ سائیڈ آف دی ہسٹری پر ہیں ۔آج کے لیڈران اس لحاظ سے خوش نصیب ہیں کہ انہیں تاریخ نے موقع دیا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کر سکیں کہ انہیں کس سمت میںجانا ہے ،دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنی ہے یا دہشت گردوں کے ترلے کرنے ہیں ،فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے، رائٹ اور رانگ سائیڈ آف دی ہسٹری کا فیصلہ !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *