یہ گھڑی محشر کی ہے

Najam Sethiجماعت ِ اسلامی کے سربراہ سید منور حسن نے تحریک ِ طالبان پاکستان کے لیڈر حکیم اﷲ محسود ، جو وزیرستان میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں اپنے انجام تک پہنچا، کو شہید قرار دے کر بہت سے پاکستانیوں کے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچائی ہے۔ حکیم اﷲ محسود دنیا کا انتہائی مطلوب دہشت گرد تھا اور اس کے سر کی قیمت پچاس کروڑ روپے رکھی گئی تھی۔ اس پر ہزاروں بے گناہ نہتے شہریوں، جن میں مرد، عورتیں اور بچے شامل ہیں، کو نہایت سفاکی سے ہلاک کرنے کا الزام تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے ہزاروں سیکورٹی اہلکاروں کا خون بھی حکیم اﷲ کی گردن پر تھا۔
وزیر ِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی زبانی سامنے آنے والا حکومت کا ردعمل خاصا کمزور تھا، اگرچہ وزیراعظم نواز شریف نے اس کی تلافی کرنے کی کوشش کی لیکن دیر ہو چکی تھی۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ تھی یہ کہ تحریک ِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے بہت سے مبہم الفاظ استعمال کرتے ہوئے مزید ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی۔اس پر مستزاد رویہ میڈیا کے کچھ حلقوں کی طرف سے دیکھنے میں آیا جب اُنھوں نے محض خودنمائی کے لئے ایک سیدھے سادے اور دوٹوک معاملے کو پیچیدہ بنا کر عوام کو مزید کنفیوژن کا شکار کر دیا۔
اس پر آئی ایس پی آر نے مجبور ہو کر مختصر مگر جامع الفاظ میں منور حسن کی سرزنش کی کہ اُنھوں نے وطن کے لئے جان دینے والے سپاہیوں کی قربانیوں کو پس ِ پشت ڈال کر ریاست کے ایک مجرم کو شہید کیوں کر قرار دے دیا ہے۔ اس پر جماعت ِ اسلامی نے معذرت کرنے کے بجائے الٹا آئی ایس پی آر پر ’’سیاست میں ملوث ہونے‘‘ کا الزام لگادیا۔اسے مکافات ِ عمل ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ جماعت ِ اسلامی جنرل ضیاء کے دور سے بننے والے ’’ملٹری ملّا آلائنس‘‘ کا لازمی حصہ رہی تھی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سول حکومتوں کے مختلف ادوار میں کئی ایک مواقع پر آئی ایس پی آر نے سیاست میں بالواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت کا ارتکاب کیا ہے اور ایسے بیانات دئیے ہیں جن سے اجتناب کیا جا سکتا تھا لیکن اس پر کبھی بھی جماعت ِ اسلامی کی طرف سے احتجاج سامنے نہیں آیا ہے۔ اب چونکہ سیاہی اپنے ہاتھ پر لگی ہوئی ہے، اس لئے وہ ہر کسی کا دامن آلودہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
حکیم اﷲ کی ہلاکت، منور حسن کے بیان اور آئی ایس پی آر کے ردعمل کے بعد حکومت اور اپوزیشن کا رویہ نہ صرف مبہم بلکہ کمزور بھی ہے۔ چوہدری نثار جن مذاکرات کے ڈرون حملے کی وجہ سے سبوتاژ ہوجانے پر غم وغصے سے نڈھال ہو رہے تھے، اب قوم کو علم ہوا ہے کہ اُن کا تو ابھی آغاز ہی نہیں ہوا تھا۔ جس پراسرار تین رکنی وفد کی روانگی کی بات کی جارہی ہے، اس کا ڈرون گرنے تک تحریک ِ طالبان کے فرشتوں کو بھی علم نہ تھا۔ اس دوران پی ٹی آئی کی طرف سے نہایت افسوسناک ردعمل سامنے آرہا ہے کیونکہ وہ ابھی تک پارٹی پالیٹکس کرتے ہوئے قومی مفاد کو نظر انداز کر رہی ہے۔ اب یہ محرم کے بعد خیبرپختونخوا کے عوام کو مشتعل کرکے نیٹو سپلائی لائن بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ملک میں انتشار پھیلاکر اپنے لئے سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ جس دوران پاکستان کی سیاسی جماعتیں ابہام اور کنفیوژن کا شکار ہیں، صرف تحریک ِ طالبان پاکستان ہی اپنے موقف میں دوٹوک اور اٹل دکھائی دیتی ہے۔ اُنھوں نے مولانا فضل اﷲ کو اپنا قائد منتخب کرلیا ہے۔ یہ ایک کھلی دھمکی ہے کہ ٹی ٹی پی پرامن مذاکرات کے بجائے کھلی جنگ کی طرف جائے گی۔ اب اس کی طرف سے مبہم مذاکراتی عمل کے بجائے پاکستان کے شہری علاقوں میں نہایت سفاکی سے حملے کئے جائیں گے۔ ناقابل ِ یقین حد تک افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومت محسود کی ہلاکت سے فائدہ اٹھا کر قبائلی علاقوں میں بھرپور فیصلہ کن اپریشن کرنے کے بجائے ابھی بھی دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیک کر پنجاب کو معافی دینے کی استدعا کررہی ہے۔
پوری دنیا کے دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ خودکش حملہ آوروں کو روکنا یا ان کے خلاف شہریوں کو تحفظ دینا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک ریاست درست اطلاعات کی بنیاد پر پیش بندی کے طور پر اُن کے ٹھکانوں پر کارروائی نہیں کرتی تاہم اسلام آباد میں ارباب ِ اختیار کا خیال ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف دفاعی حصار قائم کرکے یا انسدادِ دہشت گردی فورس کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرکے یا کچھ قانون سازی کرکے ان کو روک لیں گے....تاہم یہ ان کی خام خیالی ہے۔ خودکش حملہ آوروں کو اس طریقے سے نہیں روکا جاسکتا بلکہ ان کے خلاف ان کے ٹھکانوں پر اور ان کے نظریات کا پرچار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا پڑے گی۔ جس دوران اسلام آباد اور راولپنڈی میں موجود صاحبان ِ اختیار بے سروپا باتوں میں الجھے ہوئے ہیں، وقت کی طنابیں ہمارے ہاتھوں سے سرک رہی ہیں اور ہماری سلامتی سخت خطرے سے دوچار ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب سیاسی حکومت کو سامنے آکر قوم کی رہنمائی کرنا تھی اور اس کے پاس یہ موقع بھی ہے کیونکہ آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی انتیس نومبر اور چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری گیارہ دسمبر کو اپنے اپنے منصب سے سبکدوش ہورہے ہیں۔ ان کے جانشین کے آنے پر سیاسی حکومت سویلین ایگزیکٹو کی عملداری کو مستحکم کرسکتی ہے۔
اس وقت اگر پاکستان کو ایک ناکام ریاست بننے سے بچانا ہے تو یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔قوموں کو اہم فیصلے انتہائی نازک حالات میں ہی کرنا پڑتے ہیں تاہم اس کے لئے دلیر، صاحب ِ بصیرت اور مخلص قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کا کردار بھی اہم ہوتا ہے کہ وہ سویلین حکومت کے ہاتھ مضبوط کرے تاکہ وہ ان چیلنجز کا سامنا کرسکے۔ یہ احتساب کا وقت ہے کہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ ہم سے کہاں پر غلطیاں سرزد ہوئیں اور اب انہیں کیسے درست کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح دفاعی اداروں اور سیاسی قیادت کے درمیان بھی قومی معاملات پر یکسوئی درکار ہے تاکہ معاشرے کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خطرے سے بچایا جاسکے تاہم بدقسمتی سے ایسے امکانات بہت روشن نہیں ہیں۔ حکومت یا اپوزیشن کی صفوں سے ایسے ٹھوس اشارے نہیں مل رہے ہیں کہ وہ معاملات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے قوم کو اس گرداب سے نکالنے کے لئے سنجیدہ ہیں۔ درحقیقت وہ میڈیا پر آکر زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ وہ صرف کچھ وقت گزارنا چاہتے ہیں لیکن خدشہ ہے کہ یہ بحران اس طرح نہیں ٹلے گا۔ ابھی سے مختلف قوتوں نے ملک میں قیادت کے بحران پر باتیں شروع کر دی ہیں۔ حکمران جماعت کو معاملات سے گریز کی پالیسی ترک کرتے ہوئے اگلے قدموں پر آنا ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *