شیو سینا کی سیاست کا المیہ: سرحد کے آر پار

asghar nadeem Syedآج جب دو دولت مند ہاتھی آپس میں گتھم گتھا تھے اور گھاس کا نقصان ہو رہا تھا تو ہمیں وہ پارٹی یاد آرہی تھی جس کی گود میں ہم نے نوعمری کی آنکھ کھولی تھی۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ جوان ہوئے۔ سمجھتے تھے کہ وہ ایک نظریاتی پارٹی ہے۔ سیاسی تربیت کے مراحل سے گزر رہی ہے ۔ ملک میں عام آدمی کی آواز بن سکتی ہے۔ واضح طور پر ملک میں طبقاتی فرق کے خلاف عوام کے مزاج کو تیار کر رہی ہے۔ اس پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کا ہم نے آغاز بھی دیکھا اور انجام بھی۔ دکھ کا سمندر تو پوری قوم ہی نے پار کیا ہو گا۔ آج گمشدہ پیپلز پارٹی کو اس لیے یاد نہیں کر رہا کہ میرا کوئی ناسٹلجیا اس سے وابستہ ہے بلکہ اس لیے یاد کر رہا ہوں کہ اس کے ساتھ ہی ہماری سیاست سے سیاسی اقدار، جمہوری مزاج، عوامی مسائل، قومی و فکری مسائل اور نظریاتی وابستگی کے تمام سلسلے بھی رخصت ہو گئے۔ اگرچہ یہ عمل رفتہ رفتہ مکمل ہوا۔ اب لگتا ہے یہ مکمل ہو گیا ہے اور ہماری سیاست میں کبھی بھی سیاسی اقدار اور جمہوری مزاج واپس نہیں آپائے گا۔ گزشتہ روز کے ضمنی الیکشن نے اس پر مہر ثبت کر دی ہے کہ ہم صرف شخصیات کے اچھے یا برے ہونے کی بنیاد پر ہاریں گے یا جیتیں گے۔ ایک طرف غداری کی تہمت تھی تو دوسری طرف کرپشن کی دہائی تھی۔ ایسے میں ایک سیٹ کے لیے کروڑوں روپے بہا دیے گئے۔ کسی نے عوام کا نام نہیں لیا۔ کسی نے نظریاتی سوچ کا سہارا نہیں لیا۔ کسی نے ان مسائل کو نہیں دیکھاجو لاہوریوں کے ساتھ ساتھ تمام پاکستانیوں کے معاشرے کے بنیادی مسائل ہیں۔
ایسے میں اگر ذوالفقار علی بھٹو کی یاد آئی بھی ہے تو اس وجہ سے کہ آج پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسا سیاسی لیڈر نہیں ہے جس کی تربیت عالمی سیاسی تناظر میں سیاسی اصولوں پر ہوئی ہو۔ سب اتفاقی حادثوں کی پیداوار ہیں۔ کسی نے تاریخ، سیاسیات، معاشیات ، قانون اور اخلاقیات کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی۔ کسی کا مزاج جمہوری نہیں ہے۔ کوئی عالمی سطح کا دانشور اور مدبر نہیں ہے۔ سب کا پس منظر بزنس اور کاروبار ہے۔ ایسے میں پیپلز پارٹی کا گم ہو جانا اپنی جگہ المیہ تو ہے لیکن اس سے بھی بڑا حادثہ یہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ کے لیے سیاسی کلچر سے محروم ہو چکا ہے۔ اب کسان، مزدور، کلرک، نچلا درمیانہ طبقہ اور درمیانے طبقے کی آواز ہمیشہ کے لیے دبا دی گئی ہے۔ اب لینڈ مافیا، ٹھیکیدار مافیا، تاجر مافیا اور اس طرح کے کاروباری طبقے ہی ملک کی تقدیر کا فیصلہ کیا کریں گے اور ان کے مفادات کے لیے اسمبلیاں بنیں گی۔
عجیب اتفاق ہے کہ یہ سب پاکستان کے ساتھ ہوا ہے تو کچھ کم ہندوستان کے ساتھ بھی نہیں ہوا۔ بظاہر کارپوریٹ مافیا نے مودی سرکار کو لانے میں جو جال بچھایا تھا خود اس میں پھنستے جا رہے ہیں کہ مودی صاحب نے اپنی بغل سے ان کا نہیں، اپنا ایجنڈا نکال کے اس پر کام شروع کر دیا ہے جس پر اس وقت ہندوستان کی سیکولر مزاج کی سوسائٹی شدید اضطراب کا شکار ہو چکی ہے اور یہ سوسائٹی معمولی نہیں۔ یہ پورے بھارت میں بہت مضبوط فکری اور سیاسی بنیادیں رکھتی ہے۔ یہ سول سوسائٹی ردعمل کے طور پر مودی حکومت کو ترکی بہ ترکی جواب دینے میں مصروف ہے۔ جب مودی نے یہ نعرہ لگایا کہ ’مسلمانو! ہندوﺅں سے لڑ لو یا غربت سے لڑ لو‘۔ تو گویا عملاً مودی صاحب نے ہندو اور مسلمانوں کی واضح تفریق کر کے سیکولر انڈیا کا خواب جو کچا پکا تھا، ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کی کوشش کر دی۔
اور جو کچھ آج صبح ہوا ہے وہ سیکولر بھارت کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔ بھارت کے ادیبوں، فنکاروں، تاریخ دانوں، سیاسی مفکروں، طالب علموں اور علم دوستوں کے لیے بہت مشکل مرحلہ ہے۔ آج صبح ممبئی کے نہرو سنٹر میں خورشید محمود قصوری اپنی کتاب ”نہ عقاب نہ فاختہ“ کی تقریب رونمائی جو شام چار بجے ہونی ہے، کے سلسلے میں اپنے میزبان سدھندرا کلکرنی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے لیے پہنچے تو شیو سینا کے لوگوں میں سے کسی نے میزبان کلکرنی کے چہرے پر سیاہی پھینک دی جس سے ان کا چہرہ مکمل طور پر بلیک ہو گیا۔ کلکرنی صاحب نے اسی چہرے کے ساتھ قصوری صاحب کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے پوری دنیا کو مودی حکومت کا اصل چہرہ دکھا دیا۔ یہ احتجاج اتنا مو¿ثر ثابت ہوگا کہ شاید مودی سرکار کے لیے بھارت کی مضبوط جمہوریت کو سنبھالنا مشکل ہو جائے۔ اس موقع پر خورشید محمود قصوری نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ممبئی آنے کا مقصد امن کی کوششوں کو معنی خیز بنانا ہے۔ یہی اس کتاب کا مقصد بھی ہے۔ یہ بھی بتایا کہ ان کے والد نے یہاں سے تعلیم پائی اور آزادی کی جدوجہد میں سزا بھی کاٹی۔ اب شام کو یہ تقریب کیسے ہوتی ہے اور دنیا کو اس سے کیا پیغام جاتا ہے ۔ ایک بات تو طے ہے کہ تقریب میں بڑی تعداد میں لوگ پہنچیں گے۔اتنی زیادہ تعداد بھی ہو سکتی ہے کہ مودی حکومت اور شیوسینا کے لیے شرمندگی کا سامان پیدا کر دے۔ ہماری نظر میں سدھندرا کلکرنی کو امن کی کوششوں کے لیے عالمی سطح کا ایوارڈ ملنا چاہیے۔
اس خطے کے مقدر میں انتہا پسندی، جہالت، توہم پرستی، تنگ نظری، مذہبی اور فرقہ وارانہ تشدد کی بنیادی وجہ ایک ہی ہے کہ ظلم کو دیکھ کر خاموش رہنا اور اسے برداشت کرنا ایک بنیادی غلطی ہے۔ جس طرح ہندوستان کی سوسائٹی ردعمل میں آگئی ہے ایسے پاکستان میں کم ہوتا ہے۔ یہاں بھی اقلیتوں پر ناروا حملے ہوتے ہیں۔ سول سوسائٹی بولتی ہے مگر سوئی بھی رہتی ہے۔ علم اور رواداری کے لیے کام کرنے والوں کو مل کر کھڑے ہونا ہو گا۔ اس وقت ہمارے سوال کچھ اور ہیں۔ اس وقت پاکستان اور ہندوستان کس کنارے لگتے جا رہے ہیں اور دونوں جانب کے روشن خیالوں، انسان دوستوں کے لیے دیوار سے لگنے سے بچاﺅ کے کیا طریقے ہو سکتے ہیں۔ کیا زمانہ حال کی فصل کے بیج ماضی میں بوئے گئے تھے اور وہ بیج کیا تھے۔ کن کن لوگوں یا طبقوں نے بوئے۔ شاید میرے لیے اس وقت یہ گتھی سلجھانا آسان نہ ہو۔ میں صرف ادب کے راستے سے اگر سعادت حسن منٹو کی تحریروں میں جھانکوں تو جواب مل جاتے ہیں۔ چاہے ان کا افسانہ ’شہید ساز‘ ہو یا ’ٹیٹوال کا کتا‘ یا ’سیاہ حاشیے‘ یا ’انکل سام کے نام‘ یا ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ یا وہ تحریریں جو پاکستان پہنچ کر انہوں نے لکھی ہیں۔ آپ اس بہانے وہ سب پڑھ لیں۔
ہمارے ہاں جو ہوا، وہ دو چار برس کی بات نہیں ہے اور جو ہوا ہے اسے صرف ضیاالحق کے کھاتے میں ڈال کر ہم مطمئن نہیں ہو سکتے۔ اب تک ہم یہی تساہل پسندی ظاہر کرتے رہے ہیں۔ بہت کچھ موروثی بھی تھا۔ اس سے بھی زیادہ وہ کلچر جو ضیاالحق کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ ان بدعنوانیوں، مافیاز اور طرح طرح کی بددیانتی کو پورا ماحول فراہم کرنے میں سب شریک ہو گئے کہ پیسہ کسے برا لگتا ہے۔ اب اگر ہماری سیاست کو اس کا تڑکا لگ چکا ہے تو حیرت کس بات کی۔ یہ تو حمام ہے جس میں سب مل جل کر رہتے ہیں۔ بہت ہو گیا تو پارٹی بدل کر ادھر کھڑے ہو گئے۔ حمام تو بدل نہیں سکتا کہ یہ سب کو راس آچکا ہے۔ اب کل جو مقابلہ ہوا اس میں میڈیا نے بھی وہی کیا جو دو بڑے تاجر کر رہے تھے۔ میڈیا نے سوچا اگر یہی سودا سیاست دان بیچ رہے ہیں تو وہ کیوں نہ بیچیں۔ قیمے والے نانوں کی طرح جمہوری اقدار کا قیمہ بیچ چوراہے میں بیچا گیا۔ آخر تو میڈیا بھی اسی حمام میں رہتا ہے۔
پیپلز پارٹی کا نقصان صرف سیاسی جماعت کا نقصان نہیں ہے۔ ملک میں صحت مند سیاسی کلچر، جمہوری اقدار اور سیاسی رواداری کا نقصان ہے جو کبھی پورا نہیں ہو گا۔ یہ جماعت جس طرح ضائع کی گئی ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اتنے کمیٹڈ جیالوں کی جماعت کو اتنے سستے بھاﺅ ضائع کیا گیا۔ اس کا فکری تجزیہ تو شاید کوئی کرے۔ ہم سردست دو باتیں کریں گے۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت اس پارٹی کی شہادت نہیں تھی۔ پارٹی زندہ تھی اور اسے زندہ رکھا جا سکتا تھا لیکن آصف علی زرداری نے دو بڑی غلطیاں کر دیں۔ پہلی یہ کہ انہوں نے سیاسی ورکر کو نکال کر اپنے کاروباری دوستوں کو سیاست کا چوغہ پہنا کے اسمبلیوں اور وزارتوں پر براجمان کر دیا جو ان کے لیے دل و جان سے کام کرنے میں مصروف ہو گئے۔ دوسری بڑی غلطی بلاول کو کچا پکا سیاست میں اتار دیا۔ کچے آم کو بھی جب پال میں رکھا جاتا ہے تو اس بات کا اطمینان کر لیا جاتا ہے کہ درخت پر اس کی مدت پوری ہو چکی ہے۔ بلاول کو لکھی تقریر تھما کر میدان میں اتارنے سے بڑی اور کوئی غلطی نہیں ہو سکتی۔ اسے پہلے عالمی سطح پر مدبر بننے کے مراحل سے گزارا جاتا۔ مختلف علوم کے مطالعے کی مدد سے عالمی فورم پر ڈائیلاگ کرایا جاتا۔ اس کی عالمی منڈی میں قیمت لگوائی جاتی۔ اس کی شہرت کو جو نقصان ہو گیا، وہ پورا نہیں ہو سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *