کپتان کو اب سوالوں کا سامنا کرنا ہے

وصی بابا

wisi babaاپنے خبریوں کی کھچائی مجھ پر فرض تھی لیکن ان کی منحوس خبریں درست ثابت ہوئیں۔ علیم خان ہار گئے۔ خبری بہت تفصیل سے جزیات بتا رہے تھے بلکہ ایک نے تو سردار ایاز صادق کی مستقل اڑی ہوئی صورت کا راز پہلے مجھ سے دریافت کیا پھر خود ہی آشکار کر دیا۔
ایاز صادق کو الیکشن مہم کے آغاز میں کھلا چھوڑ دیا گیا تھا۔ خرچہ کرنے سے موصوف کو حکیم نے پرہیز بتایا ہے اب تک ان کا الیکٹورل ماضی یہ ہے کہ جب الیکشن نازک مراحل میں داخل ہوتا ہے تو سرمایہ دارں کی پارٹی سمجھی جانے والی مسلم لیگ نوں کراہتی ہوئی ان کی مدد کو لپک کر آتی ہے۔
سپیکر کا عہدہ ایسا ہے کہ اس پر منتخب ہونے والے کو اگلے الیکشن میں اسمبلی کا منہ دیکھنا کم ہی نصیب ہوتا ہے۔ ایاز صادق بھی اپنے حلقے سے رابطے میں نہیں رہے تھے۔ انکے ساتھ جو دوسرا ہاتھ ہوا۔ وہ یہ تھا کہ محسن لطیف کو صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دیکر دوبارہ ان پر لاد دیا گیا۔ محسن لطیف کا تعلق پہلوانوں کے خاندان سے ہے۔ انہوں نے منتخب ہونے کے بعد شہزادگی اختیار کر لی تھی اور پلٹ کر حلقے میں نہیں آئے تھے۔
مسلم لیگ نون کو اس حلقے میں کرنا کچھ بھی نہیں تھا بس اتنا تھا کہ اپنے ناراض لوگوں کو اکٹھا کرنا تھا۔ لاہوری راضی بھی ہوں تو ان کی رنگ بازیاں دیکھنے والی ہوتی ہیں جبکہ یہاں صورتحال یہ تھی کہ لاہور کی اہم مارکیٹوں کے اس حلقے میں ود ہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کی وجہ سے تاجر طبقہ بھی بری طرح ناراض تھا۔ ایاز صادق کو ہر کارنر میٹنگ سے قبل اتنی منتیں کرنی پڑتی تھیں کہ خظاب کے دوران ان کا اترا چہرا دور سے دکھائی دیتا تھا۔
اس سب کے باوجود مسلم لیگ نون اس حلقے میں ایک لکھیا پارٹی ہے۔ اسے ہرانے کے لئے یہ جادوئی ہندسہ پار کرنا ضروری ہے۔
الیکشن کو بنایا علیم خان اور چوھدری سرور کے ٹیم ورک نے ۔ اس حلقے سے جیت قریب قریب ناممکن تھی اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شریف فیملی اقتدار میں آنے کے بعد سے لگاتار لاہور میں کام کر رہی ہے انکی جڑیں بہت گہری ہیں وہ اپنے شہر کے مزاج شناس ہیں۔ لوگوں کے کام کئے ہیں سارے ترقیاتی منصوبوں اور جدید سہولیات کا آغاز لاہور سے ہوتا ہے۔ ان کے مخالفین بھی بے شمار ہیں۔ کپتان نے انہیں چہرہ فراہم کر دیا ہے لیکن ابھی سیدھی فتح حاصل کرنا دور ہے۔
لوگ اتنے پاگل نہیں ہوتے کہ اپنے ذاتی نقصان پر نظریات کو ترجیح دیں وہ بھی اس صورت کہ ان کا اعلان صرف جگالی کرنے کو ہی ہوتا ہو۔ تبدیلی کے نعرے متوجہ کرتے ہیں جلسوں میں دھمالوں کا بھی اثر ہوتا ہے لیکن جیتنے کے قابل ووٹ لینا ایک الگ سائنس ہے جو سنجیدگی کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ علم ایک دن میں حاصل بھی نہیں ہوتا اس کے حامل کے لئے بھی اسی شعبے میں چالیس سال کی مہارت کو چیلنج کرنا جو کشٹ اٹھانا مانگتا ہے ابھی مسلم لیگ نون کے بے تاب مخالفین کے لئے محال ہے۔
پھر بھی ضمنی الیکشن کے نتائج میں علیم خان اور چوھدری سرور جیت گئے ہیں جنہوں نے اتنے صفر اکٹھے کر لئے تھے اور ایسی مہم اٹھائی کہ جیت ہار کا فرق مٹا دیا۔ بہت معذرت کے ساتھ عمران خان کو بدترین شکست ہوئی ہے۔ ان کا بیانیہ زمین بوس ہو گیا ہے صرف اتنا ہی نہیں ہو، ان کی پارٹی میں تبدیلی کے خواہشمند بھی اگر مر نہیں گئے تو نڈھال پڑے ہیں۔
کپتان نے متبادل پارٹی ہونے کے اپنے دعوے کو برباد کیا ہے۔ وہ لاہور میں ہر وقت دکھائی دئے ہیں۔ اوکاڑہ میں ان کے امیدوار کی ضمانت ضبط ہوئی ہے۔ یہ موقع تھا کہ چوھدری سرور کو اوکاڑہ پارسل کیا جاتا جہاں انکی برادری اتنی ضرور ہے کہ یہ سیٹ نکال لی جاتی۔ یہ صرف ایک سیٹ نہیں تھی اگر لاہور میں ایک بارسوخ باوسائل شخص کو ٹکٹ دیا گیا تھا تو اوکاڑہ میں بے وسیلہ امیدوار میدان میں جھونک دیا گیا تھا۔ یہ اچھا بیلنس ہوتا اگر ایک سی توجہ دی جاتی تو پی ٹی آئی نتائج کے بعد ایک مختلف پارٹی ہوتی زیادہ پرامید اور زیادہ پراثر۔
کسی کو صوبائی سیٹ جیتنے والے شعیب صدیقی کا پروفائل معلوم ہے ؟ اس کا پتہ کر لیا جائے تو اس انگل کی کہانی بھی معلوم ہو جائے گی جس کے کھڑے ہونے کا کپتان کو انتظار رہا دھرنے کے دوران۔ شعیب صدیقی لو پروفائل میں رہ کر سیٹ نکال گئے ہیں وہ بھی پرائے خرچے پر اس کے ساتھ ہی ووٹر نے محسن لطیف کے غیر عوامی پن کو مسترد کر دیا ہے۔ کپتان کی دھاندلی کہانی بھی مسترد ہو گئی ہے اگر کسی کو بھول گیا ہو تو کپتان اس حلقے میں پچاس ہزار جعلی ووٹ بھگتائے جانے کا زکر کرتا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن پر ابھی بہت اعتراضات ہو سکتے ہیں لیکن یہ ادارہ سرخرو نکلا ہے۔ دھاندلی کے الزامات کے ساتھ اور بغیر نتیجہ ایک سا ہی آیا ہے تقریبا۔
کپتان کو اب نئے بیانیے کی ضرورت ہے کہ اوکاڑہ میں امیدوار کی بھرپور مدد نہ کر کے نئے آنے والوں کو مزید سوچنے پر مجبور کر دیا ہے جب کہ اب ان نئے آنے والوں کو یہ بھی سوچنا ہے کہ علیم خان وسائل کے بھرپور استعمال کے باوجود سیٹ نہیں نکال سکے۔ اب پی ٹی آئی کو اپنے اندر ایک تنظیمی بحران سے نپٹنا ہوگا اور کپتان کو بے شمار سوالات کا سامنا کرنا ہوگا جو اس کے ساتھی اٹھائیں گے، جو اس کے اندر سے اٹھیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *