ایک کم معروف شخص کی خودنوشت کے پہلے صفحے

ڈاکٹر مجاہد مرزا
mujahid Mirza (1)
اس روز نئی کلیاں نہیں چٹکی تھیں۔ نہ ہی خوش گلو پرندوں کے جھنڈ نے اس گھر میں بیری کے درخت پر آ کے گیت گائے تھے۔ کسی بارش کے ہونے کی اطلاع بھی نہیں ہے۔ صبح صادق ٹوٹتے ہوئے تارے بھی دکھائی نہیں دیتے۔ لوگ اس وقت خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں اور جس ایک کمرے کے گھر میں کوئی بچہ پیدا ہو رہا ہو تو ماسوائے زچہ کی دبی دبی کراہ کے ویسے ہی تشویش کا سکوت طاری ہوتا ہے۔ گھر کی لڑکیاں نیم کے پتوں ملا پانی گرم کر رہی ہوتی ہیں اور لڑکے کان لپیٹے سونے کی اداکاری کرتے ہیں۔ ہاں تب ایسا ہی ہوا ہوگا۔ ان ہونی باتیں یا محیرالعقل واقعات تو روایت بن جانے والوں کی پیدائش کے واقعے کے ساتھ بعد میں منسوب کیے جاتے ہیں ویسے ہی جیسے ایک عام شخص کے مرنے کے بعد لوگ یاد کرتے ہیں کہ کل وہ یہ بات کر رہا تھا یا یہ کہ مرنے والے نے کل کوئی خاص پکوان فرمائش پر تیار کروا کے کھایا تھا۔ اگر وہ دار فانی سے کوچ نہ کر گیا ہوتا تو اس عام سی بات یا عمومی واقعے کی نہ تو یاد باقی رہتی اور نہ ہی اس کی کوئی اہمیت ہوتی۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دار حیات میں ہر نئی زندگی کے وارد ہونے پر کچھ نئی کلیاں کہیں نہ کہیں ضرور چٹکتی ہوں۔ کچھ پرندے ضرور اس کے آنے کی نوید دیتے ہوں۔ شہاب ثاقب آسمان کی وسعتوں میں ٹمٹما کر بجھتے ہوں۔ کتے بھونکتے ہوں یا بندھے ہوئے جانور ہڑبڑا جاتے ہوں۔ مگر اتنے بہت سے عام لوگوں کی پیدائش سے منسلک ان باتوں پر بھلا کون توجہ دیتا ہے۔ ایسی باتیں تو زلزلہ یا طوفان کے گذر جانے کے بعد ہی یاد کی جاتی ہیں یا بہت ہی بڑے لوگوں کی تعظیم و توقیر کو چار چاند لگانے کے لیے ایسے واقعات گھڑ لیے جاتے ہیں۔ ممکن ہے ایسے واقعات سنانے والوں کو واقعی لگتا ہو کہ ایسے ہی ہوا تھا۔
میری پیدائش کی تو تاریخ کا بھی صحیح طور پر علم نہیں ہے۔ بڑے بھائی مرزا محمد شمیم کی حادثاتی موت سے پہلے جو 1988 میں ہوئی تھی میں یہی سمجھتا رہا کہ پندرہ اپریل ہی ہوگی کیونکہ سبھی دستاویزات میں 1951 کی یہی تاریخ درج ہے۔ ان کی ناگہانی موت کے بعد ان کی ایک ذاتی ڈائری کا سراغ لگا تھا جس میں انہوں نے کچھ بچوں کی تاریخ پیدائش درج کر لی تھی۔ اس طرح معلوم ہوا کہ اس معمولی واقعے کی تاریخ وقوع چھ جنوری تھی۔
اپریل کی ہلکی ہلکی ٹھنڈ والی صبح تھی یا جنوری کی یخ بستہ اندھیری صبح، پر گھر کی چار لڑکیاں جن کی عمریں بالترتیب 18 برس، 13 برس، 12 برس اور 5 برس رہی ہوں گی، اسی کمرے سے جڑے برآمدے میں دبکی ہوئی بیٹھی ہوں گی اور گھر کے تین بڑے لڑکے کسی ہمسائے کی بیٹھک میں جا بیٹھے ہوں گے۔ لڑکوں کا زچگی کے مقام کے نزدیک ہونا معیوب تو ہے ہی اور پھر شرمساری کا باعث بھی کیونکہ ان کی ماں قریشی فاخرہ ایک اور بچے کو جنم دے رہی تھی۔ اگرچہ میں آخری بچہ نہیں تھا۔ دیگ کی کھرچن تو ہمارا سب سے چھوٹا بھائی ثابت ہوا تھا جسے بڑے بھائی پیار سے ”کشن“ یعنی کھرچن کہا کرتے تھے۔ بہرحال میں باقی بہنوں اور بھائیوں کی طرح پیدا ہونے والا عام بچہ نہیں تھا اس لیے کہ میری پیدائش سے پہلے میری ماں کے دو پسندیدہ بچے لڑکا ضرار اور لڑکی عذرا وفات پا گئے تھے۔ والدہ خالی خالی سی ہو کے رہ گئی تھیں۔
میرے ماں باپ کی تو ویسے کبھی نہیں بنی تھی وہ دونوں مختلف اور متضاد قطبین تھے۔ ان کی ثقافتیں مختلف تھیں۔ ان کے مزاج مختلف تھے۔ ان کے وطیرے اور انداز بھی قطعی مماثل نہیں تھے۔ باپ گھوڑے اور کتے پالنے کے رسیا اور مذہب کو محض مذہب سمجھنے والے شخص۔ ادب اور مطالعے سے جن کا دور کا واسطہ نہیں تھا۔ شکار کے شائق، اکھڑ مزاج اور غصیلے، ناک بھوں ہمیشہ چڑھے ہوئے۔ گھر اور بچوں سے نالاں البتہ اپنی آمدنی ضرور دے دیا کرتے تھے۔ والدہ شعر و شاعری کے ذوق سے مرصع.... اردو ادب سے علاقہ.... بات بات پر شعر و محاورہ۔ وعظ و نصیحت اوڑھنا بچھونا۔ انتہائی مذہبی، عبادت گذار جن کے خیال کے مطابق گھر میں کتا ہو تو رحمت کا فرشتہ گھر میں نہیں اترتا تھا۔ نرم خو لیکن ہٹ دھرم۔ اپنی کہی بات کو حرف آخر سمجھنے والی اور ہنسوڑ لیکن میں نے انہیں بے تحاشا روتے بھی دیکھا ہے۔
ایسے بعدالمشرقین کے باوجود ہر دوبرس بعد ایک بچے کے جننے کی منطق میری سمجھ میں بہت دیر تک نہیں آئی تھی۔ جب میں بڑا ہو گیا اور ماں سے میری دوستی ہو گئی جن کے ساتھ میں وہ باتیں بھی کر لیا کرتا تھا جو دوسرے بچوں کو کہنے کی جرات نہیں ہوتی تھی تو اس منطق کی توجیہہ کے سوال کا جواب انہوں نے، بہت ہی دکھ بھرے لہجے میں ایک ہی فقرے سے دیا تھا،” بچے تو کتے بلیاں بھی جن لیتے ہیں“۔ میں کانپ کر رہ گیا تھا۔ میں خاص بچہ تھا جس کے ہونے کی میری ماں کو خواہش تھی۔ وہ دو بچوں کی موت کا خلا پر ہونے کی خواہاں تھیں۔ میں ماں کی دعاو¿ں کے طفیل اس کے بطن میں وارد ہوا تھا۔
میری زندگی لکھے جانے کے الف سے میری ابتدا ہوئی تھی یا استقرار حیات سے، یہ تو معلوم نہیں ہے لیکن دنیا میں آنے کے بعد کی میری پہلی چیخ سے ماں کو لگا ہوگا کہ اللہ نے اس کی سن لی ہے۔ میری بارہ سالہ بہن خالدہ ادیب خانم بغیر دوپٹے کے گلی میں بھاگتی ہوئی بھائیوں کو بتانے گئی تھی کہ ننھا پیدا ہو گیا ہے۔ اس لفظ کو مجھ پر مڑھ دیا گیا پھر میں عمر بھر ننھا ہی رہا۔ عملی طور پر بھی۔ سب خوش ہو گئے کہ چلو اب والدہ کا حزن و الم کم ہو جائے گا۔
صبح کو سکول میں خالدہ نے اپنی ہم جماعت بچیوں کو بتایا تھا کہ ان کے ہاں جو ننھا پیدا ہوا ہے وہ بالکل گنجا ہے۔ جس مغز میں غوں غاں کی بجائے سوچ بچار، حیرت اور تشکیک کے بیج گڑے ہوں، اس پر منڈھی کھوپڑی پر بال بھلا کیسے اگ سکتے تھے۔ میں تو رحم مادر میں ہی سوچ سمندر میں غلطاں رہا ہوں گا۔
آپ اپنے شہر میں ہی اجنبی بننا پڑا
میری ماں کو مجھ سا بے مایہ ہی کیوں جننا پڑا
بے بال ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اور پیدائشی خصوصیت میرے منہ کے دہانے کے بائیں جانب، نچلے ہونٹ سے نکلتے ہوئے ایک سرخ دھاگے کی تانت کے آخری سرے پر موتی کی مانند ایک ابھار تھا جو ٹھوڑی کے ایک سرے پر ادھر ادھر جھولتا رہتا تھا۔ میری والدہ آرٹسٹ مزاج اور حسن پرست تھیں، انہیں یہ "قدرتی موتی" میرے ہونٹوں پر جھولتا بہت اچھا لگتا تھا لیکن بظاہر تو یہ نقص اور اضافت تھا چنانچہ ایک بار جب والدہ ادھر ادھر ہوئیں تو بڑی بہن نے قینچی کا استعمال کرکے میری زندگی کی پہلی جراحی کر کے اس موتی کو میرے منہ سے چھڑا دیا تھا۔
شروع کی خوشی سے فارغ ہو کر میرا نام رکھنے کی باری آئی۔ میری والدہ نے اللہ سے مجھے مانگنے کے عوض اپنے طور پر میرا نام "غلام محمد" رکھنا چاہا تھا لیکن سب نے اس دیسی قسم کے نام کی مخالفت کی۔ مجھ سے پہلے بھائیوں کے نام شفیق، شمیم اور شعیب تھے۔ میرے بعد پیدا ہونے والے بھائی کا نام اویس رکھا گیا۔ میری ہمشیراو¿ں کے نام شکیلہ، ضمیرہ، خالدہ اور نسرین تھے۔ بچہ تو میں ماں کا تھا لیکن بھائی تو سبھی کا تھا۔ میری ماں نے پینترا بدلا اور کہا چلو اس کا نام ”قیس“ رکھ دو۔ ایک قیس مجنوں قرار دیا گیا تھا، دوسرے امراو¿القیس کا نام بھی اچھے پیرائے میں لیا جانا مشکل تھا۔ بڑے بھائی نے کہا شکیل رکھ دو۔ تایا مرحوم نے خط لکھا تھا کہ عتیق رکھ دو لیکن منجھلے بھائی مرزا محمد شعیب نے نظم لکھ دی:
میرا نام مجاہد ہوگا
الا للہ کا شاہد ہوگا
تاروں پہ ڈالوں گا کمندیں
چاند پہ دوڑاو¿ں گا سمندیں
یوں میرا نام مجاہد قرار پا گیا۔ آج تو گلی گلی، قریہ قریہ نام کے اور کام کے دونوں طرح کے مجاہد بکھرے پڑے ہیں لیکن 1051 میں یہ نام تقریباً ناپید تھا۔ ویسے مجھے اپنا نام کبھی پسند نہیں رہا۔ بارہا اسے بدل کر کچھ اور مثال کے طور پر ”طغرل“ کر دینا چاہا لیکن اس نام کا اور میرا ساتھ ویسے ہی رہا جیسے میری ماں اور میرے باپ کا ساتھ۔ نہ چاہتے ہوئے، پسند نہ آتے ہوئے مسلسل۔ ایک نام نعیم بھی تھا جو بڑے سے چھوٹے بھائی مرزا محمد شمیم نے تجویز کیا تھا اور منظور نہ ہونے پر سات برس بعد یہ نام انہوں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو دے دیا تھا۔ ہاں البتہ ایک بار میں نے چھٹی جماعت میں سہ یا شش ماہی امتحان کے پرچے پر اپنا نام ” مرزا محمد نعیم بیگ چغتائی“ لکھ دیا تھا جس پر مجھے ، ماسٹر سلیم الدین صاحب نے ڈنڈا لہراتے ہوئے متنبہ کیا تھا:
”ابے مرغے (مرزے) اپنا نام صحیح لکھا کر“۔ پھر میں نے کبھی نہیں لکھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *