انسانیت مذہب سے ماورا ہے...

mehr janانسانیت مذہب سے ماورا ہے.... یہ وہ جملہ ہے جسے سن کر لبرل طبقہ عش عش کر اٹھتا ہے۔ ان کے قلم سے لعل و جواہر اور شہد کے چشمے پھوٹنے لگتے ہیں اور مذہب کے پرستار دانشوروں سے جب یہ لوگ بولتے یا ان پہ گرجتے ہیں تو ان بے چاروں کے سامنے آئیں بائیں شائیں کے سوا کچھ زاد راہ نہیں بچتا۔ لیکن انہی لبرل طبقہ سے جب یہ پوچھا جائے کہ کیا انسانیت یا سچ سے ریاست ماورا ہوتی ہے تو پھر ان کی حالت دیدنی ہوتی ہے ۔ سوال پوچھنے والا خود ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ سوال کن سے پوچھا گیا ہے ، لبرل طبقہ سے یا کسی ملا سے؟ پھر آپ کے سوالات کے جوابات کے لیے گوئٹے ، ورجل یا ہومر کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیںلیکن کیا سچ بولنے کے لیے اتنی لفاظی درکارہے ہم نے تو سچ کو لفظوں کے بغیر سارتر کے عمل میں دیکھا ہے، فرانز فینن کے فن میں دیکھا ہے چی گویرا کی جنگ میں دیکھا ہے ۔ ہمیں ہومر ، ورجل یا گوئٹے کی لفاظی کی کیا ضرورت جو سچ کو ریاستی صحیفوں میں چھپانے کی کوشش کریں۔ جو سوالات اس مکالمہ میں ا±ٹھائے گئے ہیں ان میں سے کتنوں کا علمی بنیادوں پر جواب دیا گیا ؟ اسے منہ کا جھاگ قرار دینا ، بلوچ اور غیر بلوچ سوچ کو تقویت دینا یا چاند کو ریاستی پینٹ کرنا اگر جواب ہے تو پھر ان قدامت پرستوں کو اتنی داد تو دوں جو کم ازکم اپنی تحریروں میں شازو نادر مان تو لیتے ہیں کہ الحاق بہر حال جبری ہوا ہے۔
مکالمہ یہاں سچ اور تاریخ کے بارے میں ہورہا ہے اور سچ کسی کا بھی اپنا اپنانہیں ہوتا۔ یہ کبھی بھی نہیں ہوگا کہ چونکہ ہم بلوچ ہے تو ہماراسچ غیر بلوچ سچ سے مختلف ہوگا۔ اس لیے سلیگ ہیریسن سے لے کر مار ٹن جیسے غیر بلوچ دانشورں کا حوالہ جات دیے گئے۔ کیبنٹ مشن میں جناح کے دلائل کہ قلات ریاست برصغیر کا کبھی بھی حصہ نہیںرہی۔ دو قومی نظریہ یا اقبال کے جیسے مفروضوں پر خورشید کمال عزیز (کے کے عزیز) سے لے کر فرزند اقبال کے حوالہ جات زیر بحث لائے گئے۔ یہ سوال بار بار پوچھا گیا کہ اگر زبردستی عیسائی نہ بننے پہ قتل ناجائز ہے تو پھر زبردستی پاکستانی نہ بننے پر مسخ شدہ لاشوں کے تحفے کیا نوکریاں مانگنے پر دیے جارہے ہیں ؟ مگر پورے مکالمہ میں اگر کسی ایک سوال کا جواب دیا گیا تو ہمیں بتایا جائے ۔ فقط منہ کا جھاگ کہنے سے یا ہومر اور ورجل کو ڈھونڈنے سے ریاست کے پاپ چھپائے جاتے تو ہارون رشید اور اوریا مقبول ہی کافی تھے ۔ اس کام کے لیے کم ازکم ان کے پاس مذہب کا تو جواز ہے جس کی کشتی بنگلہ دیش کی صورت میں ڈوب چکی ہے۔ اسے برہمی کا نام دیں یا جذبات کا ۔لیکن سچ سچ ہی ہوتا ہے اور اپنا راستہ خود تلاش کرتا رہتا ہے ۔ اسے مطالعہ پاکستان کے اوراق میں چھپایا نہیں جا سکتا۔ اگر انسانیت مذہب سے ماورا ہے جو کہ واقعی ہے تو اسی طرح سچ اور تاریخ بھی ریاست سے ماورا ہے ۔ہم کسی بھی قوم کی تاریخی شناخت کو فقط مفروضات کی بنا پر ریاست کی بھٹی میں نہیں جھونک سکتے اور اگر جھونکا گیا بھی تو اتنی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنا چایہے۔ جبر کو جبر لکھنا اور کہنا چاہیے وگرنہ نسیم حجازی کی لفاظی کو بھی حقیقت پسندی کا نام دیناچاہیے۔ ہمیں کسی کے علم و ہنر سے کوئی غرض نہیں ۔ فقط یہ التجا ضرور ہے کہ کسی بھی قوم کی تاریخ کو ریاست کے صحیفوں میں نہیں چھپانا چاہیے....

انسانیت مذہب سے ماورا ہے...” پر ایک تبصرہ

  • اکتوبر 14, 2015 at 10:46 AM
    Permalink

    بہترین جناب !
    آپکا شکریہ

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *