غیرت کےنام پرجرائم کی تشویشناک صورت حال

honour6نوشین نقوی

عورتوں کے خلاف ہونے والے تشدد کی مختلف شکلوں میں سے ایک شکل غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم ہیں،غیرت کے نام پر قتل، جسمانی اور ذہنی ایذا رسانی، گھر تک محدود رکھنا یا قید میں رکھنا، امتیازی رسومات، اور پسند کی شادی نہ ہونے دینا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اور اس کے لئے مقامی روایات کو جواز بنایا جاتا ہے جو غیرت کے تصور کے تحفظ کی تشریح عورت پر مرد کی بالا دستی کے ذریعے کرتی ہیں۔اس وقت انسانی حقو ق کی بہت سی تنظیمیںایسے امتیازی اور روایتی طرزِ عمل کے خاتمے کے لئے کام کر رہی ہیںجن رویوں کی وجہ سے پاکستانی خواتین اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہو رہی ہیں ۔ حال ہی میں آنے والی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بھی کم عرصے میں 80کے قریب خواتین اور مرد غیرت کے نام پر قتل کئے گئے جن میں زیادہ تعداد عورتوں کی تھی۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے حال ہی میں تیزاب سے جلانے، جنسی طور پر ہراساں کرنے اور غیرت کے نام پر قتل کے خلاف کئی بِل پاس کئے ہیںجس سے معاشرے میں موجودان سماجی برائیوں کے خلاف ارکانِ پارلیمنٹ کے ارادوں کا پتہ چلتا ہے۔لیکن اس کے باوجود اس حقیقت سے مفر بھی ممکن نہیں ہے کہ تمام تر کوششو ں کے باوجود پاکستان میں سن 2012 ء کے دوران عورتوں پر تشدد کے 7516 کیس رجسٹرڈ ہوئے تھے۔جو دراصل رونماہونے والے واقعات کی تعداد سے بہت کم ہیں کیونکہ ایسے واقعات کو خاندانی معاملات کہہ کر گھر کی چار دیواری سے باہر ہی نہیں نکلنے دیا جاتا۔جس کا نتیجہ زیادہ تر عورت بھگتتی ہے اور کئی بار جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ صرف لاہور میں پولیس نے رواں برس یکم جنوری سے 31اگست تک جنسی تشدد کے 113 مقدمات درج کئے تھے۔ اسی عرصہ کے دوران پنجاب کے دارالحکومت کی پولیس نے اجتماعی جنسی تشدد کے 32مقدمات درج کئے۔ اس ہفتے کے اوائل میں کوہاٹ، خیبرپختونخواہ میں تین خواتین کو ان کے خاندان کے افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ ایچ آر سی پی کی جانب سے میڈیا مانیٹرنگ کے مطابق، اس سال جولائی کے اختتام تک کم از کم 44خواتین پر تیزاب پھینکا گیا جن میں سے سات زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگئیں۔ تقریباً 44خواتین کو آگ لگائی گئی جن میں سے 11ہلاک ہوئیں۔ اس سال جولائی کے اختتام تک تقریبا 451خواتین کو عزت کے نام پر قتل کیا گیا۔ 2012میں یہ تعداد 918تھی۔ 2012میںپاکستان میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے قومی سطح پر ایک جامع ریسرچ کی تدوین شروع کی جس میں 2140 سٹیک ہولڈرزکے غیرت کے نام پر جرائم کی اقسام اور ان جرائم کے خاتمے میں انصاف کے رسمی اور غیر رسمی اداروں کے کردار کے بارے میں تاثرات کو شامل کیا گیا۔اس ریسرچ کی بنیاد مقدار اور تعداددونوں طرح کے ڈیٹاکو سامنے رکھ کر مرتب کی گئی ۔جس کے سامنے آنے والے نتائج نا قابلِ بیان حد تک افسوس ناک ہیں۔حال ہی میں ہم نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے اس بارے میں بات چیت کی جو پیشِ خدمت ہے۔ ڈاکٹر احمد علی سراج (خطیب اعلیٰ وزارتِ اوقاف کویت) پاکستان میں ایسے واقعات کو اسلام کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جو بہت افسوس ناک ہے،حقیقتاً ایسے واقعات اسی لئے رونما ہوتے ہیں کہ ہم لوگ اسلام اور اسلامی تعلیمات سے دور ہو چکے ہیں۔اسلام فلاح کا دین ہے جو بطور انسان عورت اور مر د کی برابری کی بات کرتا ہے۔اگر بطور انسان مرد یا عورت سے کوئی غلطی یا جرم سرزدہو جاتاہے تو اس کی سزا بھی دونوں کے لئے واضح طور پر بنا کسی ابہام کے بیان کی گئی ہے۔یہ معاشرتی برائیاں ہیںجو رسم و رواج کے طاقتور ہونے کی وجہ سے مضبوط ہو رہی ہیں۔اللہ تبار ک و تعالیٰ،قرآن ِپاک یا نبی کریمؐ کی تعلیمات میں یہ شامل نہیں ہوسکتا کہ کسی انسان کا خون نا حق بہا دیا جائے۔بطور انسان ہمیں اپنے ارد گرد بہتری پیدا کرنے کی ضرورت ہے،جس میں سب کو اپنا کردار ادا کر نا چاہئے۔ سلمان عابد (ماہر انسانی حقوق) بنیادی طور پر اس عمل کا نہ تو مذہب سے تعلق ہے نہ ہی قانون سے اور نہ ہی معاشرے سے۔بلکہ یہ صرف اس وجہ سے مضبوط جڑیں رکھتا ہے کہ ہمارے ہاں رسم و رواج بہت مضبوط ہیں۔ ہم رسم و رواج کا بہانہ بنا کر کسی پر بھی چھری پھیرنا اپنا حق سمجھتے ہیں ،یہ عمل عموماً جن الزامات کو بنیاد بنا کر کیا جاتا ہے ،وہ جھوٹ اور بہتان پر مبنی ہوتے ہیں،جس کی گنجائش اسلام میں نہیں ہے۔ہم نے دیکھا ہے کہ گرچہ ایسے واقعات میں مرد اور عورت دونوں کو قتل کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود عورت کے قتل کی تعداد زیادہ ہے۔محض ذاتی تسکین کی خاطر کسی انسان کے قتل کی اجازت کوئی مذہب نہیں دے سکتا اور اسلام میں تو اس بارے میں کوئی تصور بھی نہیں ہو سکتا۔اس لئے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہو رہا کہ ایسے معاشرے میں رہتے ہوئے جسے ہم اسلامی معاشرہ کہتے ہیں ہم سب کو ایسے واقعات کے خلاف بھرپور آواز اٹھانی چاہئے۔ عافیہ سلام (ٹرینر اور ماہر انسانی حقوق) غیرت تو ایک بہانہ ہے انسانوں کے بیہمانہ رویوں کی وضاحت کا۔قتل سے غیرت کا کوئی تعلق نہیں ہے ،یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے،جو نسلوں کو برباد کر دیتا ہے،ایک ایسی عورت جس کو قتل کردیا جاتا ہے اس کے بچے بھی اس کی سزا بھگتتے ہیں۔ معاشرہ ایسی عورت ،جو بیچاری جانے کس بے گناہی کی سزا وار ٹھہرائی جاتی ہے،اس کا پورا خاندان تاحیات اس جرم کی سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوجاتاہے۔خوفناک بات یہ ہے کہ اس جرم میں مجرم(مرد)خود ہی جج بھی بن جاتا ہے جو عورت کو سزا دینے کا فیصلہ سنا سکتا ہے۔اس رویے کو تعلیم سے بدلا جانا چاہئے اور برائی کو جڑ سے مٹانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر نوشین حامد (رکن صوبائی اسمبلی پنجاب) قانون کی حکمرانی کو نافذ کرنے کے لئے حکمرانوں کی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ غیرت کے نام پر ہونے والے قتل برصغیر میں نئے نہیںہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ اسلامی قوانین کی عوامی اور پالیسی سازی دونوں میں واضح تشریح نہیں کی جاتی جس وجہ سے معاملات بگڑتے ہیں۔میرا خیال ہے کہ ہمیں اپنی سوچ اور ذہنیت کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ایسے واقعات میں چونکہ قریبی رشتہ دار اور عزیز ملوث ہوتے ہیںاس لئے اس بات پر بھی دھیان رکھنے کی ضرورت ہے کہ باہمی تعلقات میں اخلاق اور محبت کو بڑھائیں۔انسانیت کو اہمیت دیں،ایک دوسرے کی غلطیوں کو بڑھاوا دینے کی بجائے ان سے نظر ہٹانا سیکھ لیں تو ہم بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔ جسٹس (ر) ناصرہ اقبال ہمیں ایسے معاملات کے اقتصادی پہلوئوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ یہ غیرت سے زیادہ اقتصادیات کا مسئلہ ہے۔ہم 2004ء میں بننے والے قانون کی بات کرتے ہیں۔کچھ پارلیمینٹیر ین اس کا کریڈٹ بھی لیتے ہیںاور اسمبلیوں میں اس بات کا ذکر بھی ہوتا ہے۔مگر ایک تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ اس قانون کی وجہ سے غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم میں بہت کم فرق پڑا ہے۔ہمیں قانون کو مضبوط کرنے اور اس پر سختی سے عمل کروانے پر توجہ دینی چاہئے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ہوسکے۔ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی (ویمن ونگ جماعت اسلامی) غیرت اور جرم کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے ،یہ مرد کی غیرت کی بے حرمتی ہے کہ اسے جرم کے ساتھ نتھی کر دیا جائے ۔عورت کو تو’’النساء عماد البلاد ‘‘ کہا گیا ہے ۔عورت تہذیبوں کی عمارت کا بنیادی ستون ہوتی ہے،مگر آج عورت کو جس ظلم ،جبر،تشدد اور قتل و غارت کاسامنا ہے،ہم سب کو مل کر اس کے خلاف جدو جہد کرنے کی ضرورت ہے،کیونکہ جو آج عورت کے ساتھ ہو رہا ہے وہ تو زمانہ جاہلیت میں ہوا کرتا تھا،اب سازش کرنے والے عورت پر ہونے والے مظالم کو اسلام کے ساتھ جوڑتے ہیں ،جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔حقائق ہم سب جانتے ہیں،بس سامنے لانے کی ضرورت ہے جس میں سب کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہئے۔ بشریٰ خالق (سماجی کارکن) افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں انسانی اور عورتوں کے حقوق مرد کی غیرت سے مشروط ہیں۔غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کوہمارے سماج اور ریاستی قوانین کی جانب سے تحفظ حاصل ہے ،جس کی وجہ سے ایسے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے جرائم کے خاتمے کے لئے اقدامات کرے ۔کہنے کو ہم اکیسویں صدی میں داخل ہو گئے ہیں آج بھی ہمارے ہاں فرسودہ رسم و رواج کی جڑیں قانون سے مضبوط ہیں،جس کا شکار ہماری عورت روز ہو رہی ہے۔ فرزانہ ممتاز ( سائوتھ ایشیا پارٹنر شپ پاکستان) عورت کو غیرت کے ساتھ جوڑنا کوئی نیا تصور نہیں ہے ،بلکہ عورتوں سے جائیداد بچانے ،انہیں دبا کر رکھنے کے لئے اور ان پر زندگی تنگ کرنے کے لئے صدیوں سے غیرت کے نام پر انہیں تشدد اور ظلم سہنا پڑ رہا ہے۔آج کی عورت کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ابھی بھی اسے اسلام سے قبل کے زمانے میں سانس لینا چاہئے ۔خدا کرے کہ اس سوچ میں تبدیلی آئے لیکن ابھی اس میں بہت وقت لگے گا۔ہم جب پسماندہ علاقوں کی عورتوں کی حالت دیکھتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے،ان علاقوں کے لوگوں میں شعور بیدار کرنا چاہئے کہ وہ اپنی حالت صرف خود ہی بدل سکتے ہیں۔ ٭٭٭٭ آج عورت کے ساتھ وہی ہو رہا ہے جو زمانہ جاہلیت میں ہوا کرتا تھا، اسلام دشمن عناصرعورت پر ہونے والے مظالم کو اسلام کے ساتھ جوڑتے ہیں ،جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ،مقامی روایات اور رسم و رواج کو جواز بناکر پاکستانی خواتین کوبنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *