جذبات میں کیا رکھا ہے؟

Manzoor balochطاقت کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے، طاقت کا اپنا کلچر ہوتا ہے طاقت کسی سچائی کو نہیں مانتی، کیونکہ سچائی کی حیثیت اس دیو کے سامنے بے شک چڑیا کی سی ہو لیکن اسی میں اس دیو کی موت کا سامان ہوتا ہے۔
اقتدار کے پاﺅں ریت کے ہوتے ہیں۔ وہ خود چل نہیں سکتا تو جھوٹ کے پاﺅں ایجاد کرتا ہے۔ پھر اس جھوٹ کی پرورش کے لیے اعلیٰ ذہنوں کو اس پر مامور کیا جاتا ہے۔ جو خوش نما فقروں اس اور لوچ بھری باتوں سے چاند کے استعمار سے اور تاریخی طور پر طاقت کے حتمی ہونے کے نظریات سے اسے پہناوا پہناتے ہیں
یہ اعلیٰ ذہن ہوتے کیا ہیں؟ان میں کوئی چی گویرا سارتر، برٹرینڈر سل، منٹو نہیں ہوتا کیونکہ باغی لوگ طاقت کی مشینری کے پرزوں میں ڈھل نہیں سکتے۔ اس مشینری میں ڈھلنے کی عدم صلاحتیں پھر جون ایلیا، حبیب جالب، ضمیر نیازی، اقبال احمد خان، عطا شاد کی صورت میں جنم لیتی ہے۔یہ لوگ ساری زندگی خون تھوکتے ہیں، اذیتیں سہتے ہیں اور سسک سسک کر مر جاتے ہیں لیکن یہی غم کے مارے انسانیت کا جھومرہوتے ہیں۔
کوئی امداد نظامی، ڈاکٹر انعام الحق کوثر، نسیم حجازی، ڈاکٹر صفدر محمود، ہارون رشید، نذیر ناجی، عطا الحق قاسمی، ارشاد احمد حقانی، مشاہد حسین سید تاریخ میں امر نہیں ہوتاوہ روز مرہ کاجیون جیتے ہیں کیونکہ کرامات سے پہلے کرب سے گزرنا ہوتا ہے۔
لاکھوں انسان روز جنم لیتے ہیں روز مر جاتے ہیں سبھی کو یاد نہیں رکھا جاتا،سبھی کے لیے تاریخ اپنا دامن نہیں پھیلاتی ہے۔
گوشہ سچائی کے دعویدار بہت ہوتے ہیں لیکن ان میں چند لوگ ہی کسی دوسرے کے درد پر کرب اور تکلیف محسوس کرتے ہیں ورنہ تو اکثریت استعاروں سے کام چلا لیتی ہے۔ اس لیے تو ساحر کہتا ہے۔ تو کیا غلط کہتا ہے؟ کہ....
کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوست
سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا
اجمل کمال صاحب ....پچھلے چھ دہائیوں سے بلوچ کے لیے کون رویا ہے کہ اب میری بے سروپا اور برہم فتویٰ بازی ....ملفوف تحریروں سے بلوچوں کے لیے ہمدردی کا قحط پڑے گا۔ اور بہنے والے آنسو رو کے جائیں گے۔آپ درست کہتے ہیں۔اور وجاہت مسعود صاحب بھی....کہ میری تحریریں برہمی ظاہر کرتی ہیں ان میں استدلال کم اور جذباتیت زیادہ ہوتی ہے۔رونا دھونا ہوتا ہے۔ فتویٰ بازی ہوتی ہے۔ شرفا کے شاید دستار بھی زد میں آتے ہوں گے۔ کیا کروں بلوچستان بھی تو سدا روتا ہی رہتا ہے۔ آپ اور آپ کے ہمنوا سب درست کہتے ہیں اس لیے کہ میں ایک جاہل، ان پڑھ، گنوار، تہذیب تمدن وشائستگی سے عاری قوم سے تعلق رکھتا ہوں۔ کیونکہ بھوک آداب کے سانچوں میں ڈھل نہیں سکتی جہاں روٹیاں دس اور بھوکے بیس ہوں وہاں اخلاقیات کاکیا کام؟
منطق، استددلال، دلیل، بدھا کی متانت بھری سنجیدگی سے گندھی ہوئی تحریریں آپ لوگوں کا خاصا ہوسکتی ہیں کیونکہ آپ لوگ تہذیب وشائستگی کے امین ہیں آ پ جمہوری اور لبرل لوگ ہیں آ پ لٹریچر کی نوک پلک سنوارتے ہیں لیکن مجھ جاہل کو کون سمجھائے کہ لٹریچر میں بھلا جذبات کا کیا کام؟ لٹریچر کی پیکنگ، فنشنگ اور مارکیٹنگ کیے ہوتی ہے؟ میں کیا جانوں....؟
ارے بھئی.... لٹریچر،دانش وری اورسندرخانی انگورکی لذت سے معمور تحریریں تو آپ جیسے اہل ذوق اہل نظر کاکام ہیں۔
میں صدیوں کا بھوکا چاند میں روٹیاں ہی دیکھوں گا کیونکہ میری قوم چاند کو پینٹ کرنے کے تہذیبی عمل تک ابھی نہیں پہنچی ہے۔
آپ درست کہتے ہیں کہ ہم جاہل لوگ تاریخ اور اس کے فلسفہ کو کیا جانیں ہم تو اپنی ماﺅں، بہنوں اور بیٹیوں کوزندہ زمین میں گاڑھ دیتے ہیں۔
ہماری سابق ناجائز ریاست کاسربراہ خان آف قلات بھی تو انگریز کا بوٹ پالشیا تھا۔ ہم جذباتی لوگ تو نوا ب اکبر خان بگٹی کو بھی شہید قرار دیتے ہیں۔
وجاہت مسعود صاحب!آپ ہم جیسے جاہلوں، جذباتی، منطق سے دور لوگوں سے کیوں توقع رکھتے ہیں کہ ہم کسی گاندھی، منڈیلا، مارٹن لو تھر کنگ کو جنم دیں گے۔ ہمارا ہیرو تو نواب اکبرخان ہی ٹھہرے گا۔ کیونکہ ہم جاہل جو ٹھہرے
اجمل کمال صاحب!آپ درست کہتے ہیں کہ بلوچوں کے دانش ور بھی جذباتی ہوتے ہیں۔ کیا صبادشتیاری کو پتہ نہیںتھا کہ وہ بے موت مارا جائے گا اور ایک پروفیسر کا احتجاجی ریلیوں میں شرکت سے کیاتعلق؟ اسے کس نے کہا کہ وہ اپنا صدارتی میڈل واپس کردے....؟ وہ جب اس میڈل کو طوق لعنت سمجھے گا۔ تو کسی گٹر کے پاس کسی گلی کی نکڑ پر اس کی لاش ہی ملے گی۔
بلوچ کیا!اس کی بساط کیا؟بنگالیوں کا حشر ہمارے سامنے ہے۔ کل ہی کی تو بات ہے ان کے دانش وروں کو آپ لوگوں نے کیا کیا نام نہیں دئیے ؟ ان کا کیا کس طرح سے مذاق نہیں اڑایا گیا۔ جدوجہد ان کی تھی۔ لاٹھیاں انہوںنے کھائی تھیں قحط نے ان کے لاکھوں زندگیوں کو پھونک ڈلا تھا۔لیکن ان کی جدوجہد کے وارث اب کراچی اور لاہور کے شرفا ہیں۔ جن میں اہل نظر بھی ہیں، اہل فن بھی ہیں، اہل سیاست اور تاجران لفظ ومعانی .... جب سارتر نے الجزائر کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ تو اس نے الجزائر کے لوگوں سے ان کی آبادی اور ان کا محل وقوع نہیں پوچھا تھا۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم جاہلوں کا واسطہ کسی سارتر سے نہیں پڑا ہے۔
اجمل کمال صاحب آپ نے(طنزاً)بہر حال آپ کی علمیت کے پیش نظر اسے آپ کا حسن ظن قر ار دوں گا کہ آپ نے مجھ جیسے گنوار پرنسل پرستی کی پھبتی کسی لیکن میں کیا کروں میری کھال اس لیے کھینچا جارہی ہے کہ میں اپنے انتخاب سے کسی بلوچ کے گھر میں پیدا نہیں ہوا میرا جنم ہی میری سب سے بڑی تقصیر اور سب سے بڑا گناہ ہے اور بقول مقبول عامر
فقیہ شہربولا بادشہ سے
بڑا سنگین مجرم ہے یہ آقا
اسے مصلوب ہی کرنا پڑے گا
کہ اس کی سوچ ہم سے مختلف ہے
کسی نے درست کہا ہے کہ سچائی کوتین مرحلوںسے گزرنا پڑتا ہے۔پہلے مرحلے میں اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں اسے تشدد سے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔لیکن تیسرے مرحلے میں سچائی اپنے آپ کو منواہی لیتی ہے۔
اجمل صاحب آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے سوچ ناقص ہمارے منہ میںجھاگ اور ہمارے خیالات کسی گراری میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آپکی ان باتوں پر کوئی بھی آپ کو مورد الزام نہیں ٹھہرائے گا اس لیے کہ آپ کا تعلق غالب قوم سے ہے۔ اور جب کبھی کوئی قوم مغلوب ہوتی ہے۔ تو پہلااوار اس کے وجود پر کیا جاتا ہے۔ یعنی اس کے کلچر اور ادب پر اس کو یقین دلایا جاتے ہے کہ تمہارا کلچر، تمہارا ادب، تمہاری سوچ دقیا نوسی ہے۔ تمہاری سوچ میں تعصب، نفرت اور جاگیر دارانہ رعونت کے اجزا شامل ہیں اس لیے آپ جیسے مہذب لوگوں کا حق بنتا ہے کہ ہمیں تہذیب و تمدن سکھا ئیں ۔ ہم کو علم، منطق، استدلال اور دلیل سے آگاہی دیں۔ کیونکہ جب انگریز نے ہندوستان (سونے کی چڑیا)پر قبضہ کیا تو وہ بھی بد قماش، جاہل اور تہذیب سے عادی ہندوستانیوں کو تہذیب سکھانا چاہتا تھا۔ اور وہ اسے سفید آدمی کا تہذیبی فریضہ سمجھتا تھا۔
جب عیسائی مشنری افریقہ پہنچے تو ان کے ہاتھوںمیں بائبل تھا۔ جب افریقیوں کی آنکھیں کھلیں تو ان کے ہاتھوں میں بائبل اور ان کی زمینیں عیسائیوں کے قبضے میں تھیں۔
کیا انگریز جہاں جاتے،رہتے، کھیلتے اور ناﺅ نوش کرتے، وہاں پر جملہ لکھا ہوا نہیں ہوتا کہ Dogs and Indians are not allowed آج آپ لوگوں نے بھی ایک تہذیبی فریضہ اپنے آپ اٹھا رکھا ہے۔ کہ آپ کے زیرسائے بلوچ تہذیب سے آشناہوں گے۔ اور اس کے بدلے ان کا سونا چاندی، ان کے پہاڑ، سمندر تیل وگیس پر آپ کا تصرف ہوگا۔
صورت خان مری اپنی کتاب میں50 ءکی دہائی کا واقعہ لکھتے ہیں کہ ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے چند چیدہ افراد کسی نہ کسی طرح اسلام آباد تک پہنچے کہ انہیں بھی گیس کے کنکشن دئیے جائیں افسرشا ہی نے یہ کہہ کہ ان کی درخواست کو مسترد کر دیا کہ یہ جاہل اور ان پڑھ لوگ ہیں ۔ کہیں گیس استعمال کر کے اپنے گھروں کو جلا نہ ڈالیں۔۔
دادادینی چاہیے ان افسران کی وان کی پیش گوئی کتنی درست ثابت ہوگئی۔ پچاس سال بعد ہی سہی جاہل، منطق سے دور برہم بگٹی اپنی گیس سے اپنے گھروں کو جلا رہے ہیں۔ اور ان کا بوڑھا سردار 79 سال کی عمر میں اسی گیس کی خاطر مزاحمت کے دوران مزدوروں کے بیٹوں کے ہاتھوں ماراگیا۔
سردار عطا اللہ مینگل کے جوان سال بیٹے کو غائب کر کے مار دیا گیا۔ اور آج تک سردار صاحب کو یہ بھی بتانے کی زحمت محسوس نہیں کی جاتی کہ ان کے لخت جگر کی قبر کہاں ہے؟ سردار مینگل کا قصور یہ تھا کہ اس نے بلوچستان میں”جمہوریت“کے ذریعے آٹھ ماہ کی حکومت کی تھی۔
ڈاکٹر عنایت بلوچ نے جب اپنی ڈاکٹریت کا تھپسز لکھنا چاہا تو انہوںنے محسوس کیا کہ وہ پاکستان میں یہ کام نہیں کرسکتے وہ جرمن چلے گئے۔ ان کی کتاب پر پابندی عائد ہوئی۔ اور جب ان کی والدہ کاانتقال ہوا توان کو جنازے میں شرکت کی اجازت بھی نہیں ملی۔
یہاں منطق استدلال،ادب کے نام پر ہمارے لبرل، جمہوری پسند دانش ور جس طرح سے بلوچوں پر برس رہے ہیں اس حوالے سے دیکھا جائے تو حامد میر، عطا الحق قاسمی، ہارون رشید اور نذیر ناجی، جیسے قدامت پسند بہت بہتر نظر آتے ہیں۔ جو کم از کم اس بات کا تواعتراف کرتے ہیں کہ حب الوطنی کی سند اور ٹھیکہ تو اہل پنجاب نے اٹھارکھا ہے۔ بارہا حب الوطنی کے امتحان میں بنگالی، بلوچ، سندھی اورپشتون فیل ہوتے رہے ہیں۔ چند ایک نے نقل کر کے حب الوطنی کے امتحان میں کامیابی کی کوشش کی۔ تو اسے بھی کچھ نہیں ملا۔
کم از کم لبرل اور جمہوریت کی قوالی کو راگ درباری میں گانے والے کبھی غلطی سے کوئی سر غلط بھی لگائیں۔ اور مان بھی جائیں کہ ہمارا اور آپ کا رشتہ آقا اور غلام کا ہے۔جہاںتک میرا تعلق ہے۔ تواجمل کمال صاحب اور وجاہت مسعود صاحب آپ دونوں کواس غلط فہمی کو دور کرنا چاہیے کہ میں کوئی دانش ور ہوں۔
جی نہیں!دانش وری میرے بس کی بات نہیں ہاں البتہ اپنے جذبات اور احساسات سے بے ایمانی نہیں کرسکتا۔ ان جذبات اور احساسات کے ساتھ، جن کو آپ سطحیت، تعصب، نسل پرستی، منہ کے جھاگ، فتوی بازی کا نام دیتے ہیں۔ لیکن مجھ جیسا جاہل بھی کیا کرے جب اس نے ساحر لدھیانوی سے سن رکھا ہو کہ صرف جذبات ہیں، جذبات میں کیا رکھا ہے۔
واقعی جذبات کی کوئی اہمیت نہیں یہاں تو کوئی چاندی کی دیوار بھی نہیں توڑ سکتا جنہیں اپنے علم ودانش پر ناز ہے۔ان میں سے کتنے ہیں جو میرشکیل الرحمان، لاکھانی، نظامی جیسے لوگوں کے تنخواہ دار ملازم نہیں ہیں۔ یہ شکیل الرحمان، نظامی، لاکھانی جیسے سرمایہ دارحکمران طبقات اور اشرافیہ کے اس حصے سے تعلق رکھتے ہیں جو مل جل کر مغلوب اقوام کے وسائل کو لوٹ مار کرتے ہیں اگر بلوچ اپنے وسائل کے مالک ہوتے۔ توان پر بھی سرمایہ ہن کی طرح برس رہا ہوتا۔ اور نہ جانے کتنے اجمل کمال، وجاہت مسعود، بلوچ خانوں اور نوابوں کے شاہی محل سے وابستہ ہو کر اسی طرح فلسفہ، منطق اور ادب کی دال بگھار رہے ہوتے۔
اگر ہمیں اردو یا پنجابیوں سے محبت ہے۔ تو اس کی وجہ محمد رفیع، فیض احمد فیض، ساحدلدھیانوی، منٹو، بیدی، حبیب جالب، احمد سلیم، شعیب عادل، طارق فتح، جون ایلیا جیسے لوگ ہیں۔
ہم جاہل سہی، بد اخلاق سہی، گنوار سہی، لیکن رفیع کی آواز کا جادو، فیض، جالب، جون، ساحر کی شاعری کی مہک، منٹو کی راست گوئی، بیدی کا فن، احمد سلیم، شعیب عادل اور طارق فتح کا خلوص ہمارے دلوں میں ایک جوش، ولولہ، اور نرمی بھی پیدا کرتاہے۔
مجھ جیساجاہل کیاکرے جب منٹو ہی کہتا ہے کہ گالی دو ذرا سلیقے سے، پتھر مارو ضرور لیکن ڈھنگ کے ساتھ ۔ میں سہہ لوں گا ۔ منٹو ہی کہتا ہے کہ سچ بولنے والے کبھی میٹھی باتیں نہیں کرسکتے۔ منٹو کے ہی الفاظ ہیںنیم کے پتے کڑوے سہی، لیکن خون صاف کرتے ہیں۔

جذبات میں کیا رکھا ہے؟” پر بصرے

  • اکتوبر 14, 2015 at 7:18 PM
    Permalink

    محترم دوست آپ کو خوش امدید کہتے ہیں آتے رہیں.لکھتے رہیں اک پشتو کہاوت کے مطابق آنے جانے سے محبت بڑھتی کبھی تم آنا کبھی ہم پہنچینگے

    Reply
  • اکتوبر 15, 2015 at 12:08 AM
    Permalink

    کچھ عرصۂ پہلے ایک دیہاتی صاحب کو لاہور کی سیر کروانے نکلا تو شروع عمدا لاہور کی کچی بستیوں سے کیا، کچی تنگ اور کیچڑ زدہ گلیاں جو بھبھوکے مار رہی تھیں اور ان میں کودتے پھاندتے بھوکے ننگے بچے دیکھ کر انھیں یقین نہیں ہوا کہ یہ لاہور ہوسکتا ہے۔ بہرحال انکی فرمائش پر جب لاہور کی پوش آبادیوں میں لے کر گیا تو انکی دیدنی حالت دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ ایک دیہاتی اس قدر حیران و پریشان ہوسکتا ہے کہ دنیا ایسی بھی ہوتی ہے۔ یہ زمین و آسمان کا فرق لاہور میں محض دو چار کلومیٹر کے فاصلے سے دیکھا جاسکتا ہے (بلکہ بعض دفعہ تو قد آدم دیواروں کے پار بھی)۔ آپ تو سونے چاندی اور پیتل کے پہاڑوں پر جمی ہوئی لالچی نظروں سے خشمگیں نظر آتے ہیں مگر میں نے اپنے ہاتھ سے سونا چاندی اگتے ہاتھوں کو یا تو رات کو بھوسے میں سے چنے اکٹھے کرتے دیکھا ہے یا مرچوں کے سالن سے بھوک مٹاتے۔ ہاں کچھ بھوکے بھی سوتے ہیں۔
    انٹرنیٹ پر ایک رپورٹ پڑھی کہ پنجاب کے چالیس فیصدی بچے جزوی خوراک کی کمی اور سولہ فیصدی انتہائی خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ یہ کون بچے ہیں؟ ان کی مائیں انہیں کیوں بھوکا سلاتی ہیں؟؟ کیا انھیں خود شرم نہیں آتی کہ پیٹ بھر کر سوجاتی ہیں اور اپنے لعل بھوکے سلاتی ہیں؟؟ یا کہیں ایسا تو نہیں کہ خود تو پیٹ پر سل رکھ کر صبر کرجاتی ہیں اور جو روٹی کے ٹکڑے ملے ان سے اپنے لخت جگروں کے پیٹ پالنے کی ناکام کوشش کرتیں ہیں؟؟
    یہ کون لوگ ہیں؟؟ آخر کیوں ہیں یہ بھوکے؟ وہ جو پہاڑوں کے پار سونے اور چاندی کے ذخیروں پر قبضہ چاہتے ہیں؟ یا یہ وہ ہیں جن کے ہاتھ جو سونا اور چاندی اگاتا ہے اس کے بھی حقدار نہیں؟ دراصل یہ وہ بدنصیب ہیں جنہیں درست طور پر پنجابی ڈھگا کہا جاتا ہے۔ ڈھگے ہی تو ہوئے، بھوکے ننگے یہ، ساتھ دوسری قوموں کے نزدیک چور اور لٹیرے بھی یہ، نہ ان کا کوئی نوحہ لکھنے والا، کیوں کہ پنجابی کا کونسا نوحہ؟؟ یہ تو سینکڑوں میل دور جا کر چند سو روپے کی مزدوری کرتے ہوئے بھی اگر گولی کا نشانہ بھی بن جائے تو استعماری مزدور۔
    منظور بلوچ صاحب میں آپ سا دانشور نہیں اور نہ ہی میرے الفاظ آپ کے جتنے کرب لیے ہوئے ہیں مگر میں نے دیہی پنجاب بہت قریب سے دیکھا ہوا ہے اور یہاں بسنے والے بیسیوں تھر اور بلوچستان بھی دیکھے ہوئے ہیں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا نوحہ لکھنے والا کوئی نہیں، ان کی بھوک پر شور مچانے والا کوئی میڈیا نہیں۔ سچ ہے پنجابی نرا ڈھگے کا ڈھگا ہی رہا۔

    Reply
    • اکتوبر 20, 2015 at 9:09 AM
      Permalink

      ملک عمید الرحیم صاحب ! آپکے جذبات قابل قدر ہیں مگر یہ سچائی کبھی جھٹلای نہیں جاسکتی کہ بلوچستان پر جس قسم کے پانچ سفاکانہ ملٹری آپریشن قیام پاکستان کے فورا بعد سے آج تک کیے گیۓ ایسا ایک بھی آپریشن پنجاب میں نہیں ہوا اور یہ آپریشن کرنے والی فوج کا ٩٩ نہیں تو ٩٨ فیصد پنجاب سے تعلق رکھتا ہے
      آج آپ دیہی پنجاب کی بھوک اور ننگ پر اتنے ناراض ہیں اگر کل آپکو ہر دوسرے گھر سے گمشدہ بیٹوں کی ماؤں کے بین سنائی دیں ، مسخ شدہ لاشوں پر روتی پیٹتی بہنیں دیکھائی دیں تو دل پر ہاتھ رکھ کر سچ سچ بتائیں کہ آپ غربت کو روئیں گے یا لاشوں کو ؟؟؟
      آپکے پاس ٦٨ سال تھے کہ آپ چیختے اس بات پر کہ یہ گیس جو پنجاب اور کراچی کے چولہے جلارہی ہے بلوچستان کی ماؤں بہنوں کو دستیاب کیوں نہیں ؟ گزری کل کو چھوڑیں آج بھی کوئی پنجابی ھی اٹھتا ہے اور "کالا باغ ڈیم " کی رٹ لگاتے ہوۓ نہیں سوچتا کہ پختونخواہ اور سندھ کے عوام کے جذبات پہلے اور آپکی بجلی ، پانی ، کھیت ، کھلیان بعد میں ! اپنے گرد "طواف " کرنے والی اکثریت نے اپنے تکبر اور لالچ سے پنجاب کے ایسے حساس اور محبت کرنے والے پنجابیوں کو بھی بے عزت کیا ہے جو دوسرے علاقوں میں رہنے والے بھائیوں کا غم محسوس کرتے اور اپنے دل میں رکھتے ہیں !

      Reply
  • اکتوبر 17, 2015 at 1:13 AM
    Permalink

    Baloch Sahib! Please do not presume that all Punjabis are oppressors. What you call the Baloch grievances are the grievances of the Baloch people with whom I,a Punjabi, have no problem in identifying. But Baloch Sardars are an entirely different category.who have their own vested interests. A common Punjabi is against all Punjabi oppressrs and exploiters. We expect a common Balich to do the same . we have common enemies and unitedly we can hope to succeed.

    Reply
  • اکتوبر 20, 2015 at 8:52 AM
    Permalink

    ادا منظور بلوچ ! ہمارے جذبات کی ترجمانی کرنے پر ہم آپکے ممنون ہیں مگر یہ زخم زخم الفاظ اور یہ لہو لہان لہجہ کچھ حساس لوگوں کے علاوہ نہ کسی کی سمجھ میں آئے گا نہ کسی دل پر چوٹ لگاۓ گا
    پر آپ اپنی کوشش جاری رکھیں ایسا نہ ہو کہ تاریخ میں ایسا کچھ لکھا جاۓ " پاکستان کی 62 فیصد عوام بے خبری میں ماری گئی اوریہی پوچھتی رہی کہ ہمارا قصور کیا تھا ہم تو خود مظلوم ، محکوم ، بےبس تھے ہمیں تو کچھ خبر ھی نہیں "

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *