پاکستان اسٹاک ایکسچینج: 100 انڈیکس 1324 پوائنٹس گرنے پر کاروبار روک دیا گیا

پاکستان میں اسٹاک مارکیٹ کو ایک مرتبہ پھر مندی کا سامنا ہے اور جمعرات (12 مارچ) کو کاروبار شروع ہونے کے بعد سہ پہر تک کے ایس ای 100 انڈیکس میں ایک ہزار 324 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔

اس حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو عالمگیر وبا قرار دینے اور امریکا کی جانب سے یورپ پر سفری پابندی عائد کرنے کے پیشِ نظر مقامی اسٹاک مارکٹ پر عالمی منڈیوں کی صورتحال کے اثرات ہیں۔

اس سے تین روز قبل پیر کے روز کے ایس ای 100 انڈیکس نے ایک دہائی سے زائد عرصے میں ایک دن میں ہونے والی سب سے بڑی کمی کا سامنا کیا تھا۔

آج صبح 12 بج کر 4 منٹ پر کے ایس ای 100 انڈیکس 3.02 فیصد کم ہو کر 36 ہزار 567.61 کی سطح پر آگیا تھا۔تحریر جاری ہے‎

تاہم اس کے بعد بھی مارکیٹ میں مزید مندی کا رجحان سامنے آیا اور دوپہر 2 بجکر 7 منٹ پر اس میں 3.24 فیصد یعنی ایک ہزار 248 پوائنٹس کی کمی ہوئی جو کچھ ہی دیر میں ایک ہزار 324 پوائنٹس تک پہنچ گئی۔

دوپہر 2 بجکر 12 منٹ پر مارکیٹ میں اچانک 13 سو سے زائد پوائنٹس کمی کے بعد 100 انڈیکس 36 ہزار 349 پوائنٹس پر آگیا، جس کے بعد کاروبار کو 45 منٹ کے لیے روک دیا گیا۔

ماہرین نے ڈان کو بتایا کہ نئے قوانین کے مطابق اگر کے ایس ای 30 انڈیکس 4 فیصد یا اس سے زائد گرے اور 5 منٹ تک یہ سلسلہ برقرار رہے تو کاروبار کو 45 منٹ کے لیے روک دیا جاتا ہے۔

لہٰذا مارکیٹ میں مندی کے دوران کے ایس ای 30 انڈیکس 4.36 فیصد یا 708 پوائنٹس کی کمی سے 16 ہزار 220 ہوگیا۔

قبل ازیں سے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے اے کے ڈی سیکیورٹیز کے نائب سربراہ علی اصغر پونا والا نے کہا کہ 3 چیزیں منفی رجحان میں اضافہ کررہی ہیں جو مارکیٹ میں منفی رجحان کا باعث بن رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج منفی رجحان کی بڑی وجہ کورونا وائرس سے متعلق سفری پابندیاں، خطے اور بین الاقوامی منڈیوں کے ذریعے پھیلنے والا خوف ہے۔

خیال رہے کہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس جو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کو عالمگیر وبا قرار دینے کے اعلان کے ردِ عمل میں سرخ ہوگئی تھیں، امریکی صدر کی جانب سے سفری پابندیوں کے اعلان کے بعد گویا آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑیں۔

ٹوکیو مارکیٹ میں 5 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی جبکہ ہانگ کانگ میں صبح کے وقت 3.8 فیصد کمی ہوئی، سڈنی مارکیٹ 7 فیصد نیچے آئی جبکہ بینکاک تقریباً 8 فیصد، اسی طرح سیئول، ویلینگٹن، ممبئی اور تائے پی میں 4 فیصد کمی ہوئی، سنگاپور اور جکارتہ میں 3 فیصد مندی دیکھنے میں آئی اور شنگھائی مارکیٹ نے 1.3 فیصد کی کمی دیکھی۔

مقامی مارکیٹ کے حوالے سے علی اصغر پونا والا کا کہنا تھا کہ جب پاکستان میں پہلی کارپوریشن نے ایک کورونا وائرس کے کیس کا اعلان کیا تو اس کا اثر انتظامیہ پر بھی پڑا جو مارکیٹ میں دیکھا گیا۔

اس کے ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی روپے کا عدم استحکام بھی ایک کردار ادا کررہا ہے اور خطرے کے رجحان کا سبب بن رہا ہے۔

مزید وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حتیٰ کے نسبتاً مستحکم سیکٹرز مثلاً بینکس میں 'کافی منافع بخش کام جاری تھا'۔

اس ضمن میں نیکسٹ کیپیٹل لمیٹڈ کے فارن انسٹیٹیوشنل کے سربراہ محمد فیضان نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ رجحان کی موجودہ صورتحال کی وجہ عالمی فروخت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'عالمی منڈیوں میں فروخت جاری تھی اور بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'عالمی سطح پر مجموعی طور پر پائے جانے والے منفی رجحان کا اثر پاکستان میں بھی ہورہا ہے'۔

امریکا کی جانب سے سفری پابندیوں کے اثرات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'سفری پابندیاں مارکیٹ پر اثر انداز نہیں ہوتیں بلکہ عالمی تجارت میں رکاوٹیں مارکیٹ پر اثر ڈالتی ہیں'۔

خیال رہے کہ پیر کے روز کاروبار کے آغاز کے چند منٹ بعد ہی کے ایس ای 100 انڈیکس 2 ہزار 302 پوائنٹس گر گیا تھا جس کے باعث مارکیٹ سے 184 ارب روپے کے بھاری سرمایے کا صفایا ہوگیا تھا۔