حلقہ 122 اور اربن کلاس

tariqاربن کلاس کو مطمئن کرنا اور رکھنا ایک مشکل کام ہے۔ یہ بات اجمل شاہ دین نے کہی تھی۔ ہم چند دوست اجمل شاہ دین کے دفتر میں بیٹھ کر حلقہ 122 کا انتخابی نتیجہ سن رہے تھے۔ اربن کلاس کی خواہشات اور شکایتیں بے شما ہوتی ہیں اور یہ اربن کلاس اگر لاہور جیسے شہر کی ہو۔ میں نے اس خیال سے ملتی جلتی دو تین پوسٹیں اپنی فیس بک پر اپ لوڈ کی تھیں۔ ایک یہ کہ لاہور کے اس ضمنی الیکشن پر وہ تجزیہ نگار بڑھ چڑھ کر بول رہے ہیں جو لاہور کے مزاج اور لاہور کی سائیکی سے ناواقف ہیں۔ وہ لاہور میں پیدا نہیں ہوئے اور یہاں کی گلیوں ، بازاروںمیں گھوم پھر کر بڑے نہیں ہوئے۔ ان سے بنیادی غلطی یہ ہو رہی ہے کہ وہ دیہی علاقوں پر قابل عمل انتخابی فارمولوں کو لاہور کی اربن کلاس پر نافذ کر رہے ہیں اور اس انتخابی معرکہ کو بھی برادری اور ذات پات کی عینک سے دیکھ رہے ہیں۔ 70ءیا80 ءکی دہائی میں شاید یہ ممکن تھا اب نہیں۔
اربن کلاس یا مڈل اور اپر مڈل کلاس اپنی زندگی اور روزمرہ معاملات کو میسر سہولیات کی انتخابی مہم کا پیمانہ بناتی ہے اور یہ اربن کلاس اپنی خواہشا ت اور شکوے شکایات میں کس قد ر سخت اور کٹھور واقع ہوئی ہے، 122 کا نتیجہ اس کا آئینہ دار ہے۔ میاں شہباز شریف لاہور کو ایک جدید ماڈرن شہر بنانے پر دن رات کام کر رہے ہیں ۔ ہم جیسے لوگ جب یورپ سے لاہورآتے ہیں تو لاہور کی ترقی یافتہ شکل دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے سکتے۔ اس کے باوجود اسی لاہور کی اربن کلاس دل کھول کر مسلم لیگ (ن) کو ووٹ ڈالنے پر تیار نہیں۔ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔
2013 ءکے عام انتخابات میں ڈاکٹر یاسمین راشد میاں نواز شریف کے مدمقابل 54000 ووٹ لے اڑی تھیں لیکن جب اوکاڑہ یا ہری پور کی بات آتی ہے تو فتح کا تناسب ہزاروں میں چلا جاتا ہے۔ اوکاڑہ میں تحریک انصاف کے امیدوار کی ضمانت ضبط ہو گئی جبکہ ہری پور کے پی کے کا حصہ ہے جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ سٹنگ گورنمنٹ کا ضمنی الیکشن جیتنا مشکل ہوتا ہے اور وسطی مدت کے ضمنی الیکشن جیتنا اور بھی مشکل ۔ ووٹرز کی امنگیں اور ناامیدی دونوں عروج پر ہوتی ہیں اور حکومتیں خواہ صوبائی یا وفاقی اپنے نامکمل ایجنڈے کے بیچ منجدھار میں کھڑی ہوتی ہیں۔ اس ماحول میں ہارنے والوں کا یہ مقدمہ کہ حکومتوں نے اپنے پورے وسائل یا حکومتی مشینری انتخابات میں جھونک دی، ووٹرز کی توہین کے مترادف ہے۔
لاہور کی اربن کلاس عابد شیر علی کو جب انتخابی جلسہ میں تقریر کرتے سنے گی تو جس نے ووٹ دینا بھی ہے وہ بھی شیر کو ووٹ نہیں دے گا اس لیے کہ یہ اربن کلاس لوڈ شیڈنگ اور بجلی کے مہنگے بلو ں کے ہاتھوں سخت تنگ ہے اور عابد شیر علی براہ راست ان دونوں ایشوز کا ذمہ دار ہے۔ مجھے حیرت ہے وہ کون عقل مند تھا جس نے عابد شیر علی کو لاہور میں آکر انتخابی مہم چلانے کا مشورہ دیا۔
اچھا اسی اربن کلاس کی ان بے شمار ناآسودہ خواہشات اور شکایات کے باوجودایک خوبی بھی ہے خاص طور پر اگر اسے لاہوریوں کے مزاج اور سائیکی کے حوالے سے دیکھا جائے اور جوکہ ان کی ذہنی بلوغت اور جمہوریت پسند سپرٹ کی آئینہ دار ہے۔ یہ کلاس اپنے فیصلے بار بار اور فوری طور پر تبدیل نہیں کرتی۔ یہ اپنے فیصلوں میں جامد نہیں لیکن عجلت پسند بھی نہیں۔ ایک بار فیصلہ کرتی ہے تو پھر پورا وقت دیتی ہے تاکہ اپنے فیصلے کے نتائج دیکھ سکے۔ 2013 ءکے عام انتخاب اور 2015 ءکے ضمنی انتخاب دونوں میں حلقہ 122 کا اوسط نتیجہ چیک کر لیں۔ انیس بیس کے فرق کے ساتھ تقریباً ایک جیسا ہے یعنی لاہور کی اربن کلاس یہ چاہتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو 2013 ءمیں جو مینڈیٹ ملا ہے وہ اپنی مدت پوری کرے تاکہ پانچ سال بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ثابت ہو سکے۔ میاں نواز شریف اپنی پہلی دو حکومتوں کے حوالے سے یہ شکوہ کرتے ہیں کہ انہیں اپنے ایجنڈے پر کام کرنے اور اسے مکمل کرنے کا پورا موقع نہیں دیا گیا اوراہل لاہور بھی غالباً یہی چاہتے ہیں ۔ایک بار میاں صاحب کو یہ موقع مکمل طور پر دے دیا جائے تاکہ وہ اپنی سعی کر کے دیکھ لیں۔
یاد رہے وہ لوگ جو اس ہار اور جیت پر بے شمار تاویلیں گھڑ رہے ہیں دراصل وہ دانشور ننہ صرف اس اربن کلاس کی سائیکی کو سمجھنے سے قاصر ہیں بلکہ اس کی توہین بھی کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جنہو ںنے تحریک انصاف کو ووٹ دیا اور وہ لوگ جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا انہیں یہ کہنا کہ انہوں نے یہ ووٹ کسی ترغیب ، لالچ یا دھوکے کے تحت دیا ہے۔ ان کے ساتھ دباﺅ تو ہے ایک ہی جیسی ووٹر لسٹوں پر دونوں جماعتیں ایک سیٹ ہار جاتی ہیں ، ایک جیت جاتی ہیں تو پھر اس نئے بہانے کی ضرورت کیا ہے۔ بات سیدھی ہے ارب کلاس نے محسن لطیف کو مسترد کر دیا کیونکہ اس نے اس اربن کلاس سے رابطہ توڑ لیا تھا جبکہ اسی اربن کلاس نے ایاز صادق کو منتخب کر لیا کیونکہ اسے عمران خان کا بیانیہ پسند نہیں آرہا تھا کہ اس کا الیکشن چوری ہو گیا تھا اور دھاندلی کے ذریعے ڈاکہ ڈالا گیا تھا۔ اب عمران خان کو چاہیے اس بیانیے سے دست کش ہو جائیں۔
اس ضمنی الیکشن کے نتیجہ کو ایک اور زاویہ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔ لوگ اس ملک میں سیاسی استحکام چاہتے ہیں ۔ یہ بات پکی ہے اگر تحریک انصاف یہ الیکشن جیت جاتی ہے تو پھر عمران خان نے وسطی مدت کے الیکشن کا نعرہ لگا دینا تھا اور تحریک چلانی تھی اور لوگ یہ نہیں چاہتے اور ہمارا خیال ہے عمران خان صاحب کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ان کی احتجاج اور دھرنوں کی سیاست کو مکمل طور پر مسترد کیا جا رہا ہے اور ان کے دھرنے کے بعد سے یہ آٹھواں انتخابی معرکہ ہے جو وہ ہار چکے ہیں۔ غالباً لوگ بھی یہی چاہتے ہیں کہ وہ پارلیمانی سیاست کریں ، ریفارمز لے کر آئیں او رکے پی کے کو ایک ماڈل صوبہ بنا کر دکھائیں۔
آخری بات جو میاں نواز شریف کے لیے بہت اہم ہے وہ اہل لاہور کا ان کے لیے اپنی محبت کا ایک بار پھر ثابت کرنا ہے۔ بجلی کے مہنگے بلوں، لوڈ شیڈنگ، بیروزگاری، مہنگائی اور بے شمار شہری مسائل کے باوجود لاہور کے لوگوں نے ایک بار پھر میاں صاحب پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ تاجر طبقہ ناراض تھا، ڈاکٹرز ناراض تھے، ملازم طبقہ ناخوش تھااورعمران خان کی مقبولیت نے لاہور کے عوام کے ایک بڑے حصے کو جکڑ رکھا تھا۔ الیکشن کمیشن سے چند روز قبل تک لاہور کی سڑکوں پر سوائے پی ٹی آئی کے جلوسوں اور موٹر سائیکل برداروں کے اور کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ عین ضمنی الیکشن کے دن جس طرح لیگی ووٹر اور سپورٹر سڑکوں پر نکلا ہے وہ میرے لیے حیران کن منظر تھا۔ میں نے یاسر پیرزادہ ، گل نوخیز اختر اور باقی دوستوں سے یہی سوال کہ یہ لوگ کہاں سے نکل آئے ہیں اور پھر یہ سارے نوجوان ہی ہیںاور ہمارا یک ہی جواب تھا۔ یہ لوگ میاں نواز شریف کی محبت میں نکلے ہیں کہ اگر آج مسلم لیگ (ن) یہ الیکشن ہار گئی تو پھر ان کی حکومت بھی جاتی رہے گی۔
اور غالباً اہل لاہور نے میاں صاحب کو یہ آخری موقع دیا ہے اور وارننگ بھی جاری کر دی ہے چنانچہ اس جیت پر ڈھول بجانے کی بجائے اس کا سنجیدگی سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ گڈ گورننگ اور لوگوں کی ناآسودہ خواہشات اور شکایات پر توجہ دیں، بڑے بڑے پراجیکٹس لگائیں لیکن چھوٹے چھوٹے مسائل پر بھی غور کریں۔ اس لیے کہ آنے والا وقت کڑا ہے اور ایک تگڑا میڈیا اور ایک تگڑی جماعت آپ پر نظریں جمائے بیٹھی ہے وہ آ پ کو آرام سے حکومت نہیں کرنے دیں گے۔ عمران خان کے اس بیانئے کے مقابل آپ کو اپنا مثبت بیانیہ لانا ہو اور اس پر تیز رفتاری سے عمل کرنا ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *