راجہ اور گدھا

abdul Majeedزمانہ طالب علمی کے دوران کسی محفل میں اردو ادب کی بات چھڑتی تو چند مخصوص کتابوں اور مصنفین کا تذکرہ ضرور ہوتا۔ ان کتابوں میں شہاب نامہ سر فہرست تھی۔شعور کی دہلیز پر پہنچے تو اس کتاب اور صاحب کتاب کی حقیقت آشکار ہوئی۔ ہمارے ایک استاد کے مطابق ’شہاب نامہ دراصل بارہ مسالوں کی چاٹ ہے۔اس میں قاری کو مزاح بھی ملتا ہے، تلقین بھی، افسانہ، تصوف اور کچھ تاریخ بھی۔‘ قدرت اللہ شہاب کا شمار ملک کے ان مصنفین میں ہوتا ہے جو تمام عمر افسر شاہی کا حصہ رہے۔ وہ تین سربراہان مملکت کے سیکرٹری رہے۔
تقسیم ہند کے بعد مہاجرین کو الاٹمنٹ کرنے والے محکمے میں تعینات رہے اور ’یا خدا‘ نامی ایک افسانہ تحریر کیا جسے ’ادب برائے ادب‘ کا چھابہ لگانے والوں نے تقسیم کے موضوع پر ترقی پسند افسانوں سے افضل قرار دیا۔
اپنے عروج کے دور میں موصوف ایوب خان کے دست راست سمجھے جاتے تھے اور انہوں نے اردو لکھاریوں کی ایک گلڈ (Guild) تشکیل دی، جو ادیبوں کے سالانہ جلسے حکومتی خرچ پر منعقد کرواتی تھی۔ قدرت اللہ شہاب سمیت جن آٹھ ادیبوں کے دستخطوں سے ادیبوں کا کنونشن بلانے کا اعلان نامہ جاری ہوا، ان میں سے ایک کے سوا سب سرکاری ملازم تھے اور ان میں سے بھی دو فوجی اہل کار تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس گلڈ کی بدولت ایوب خان کی حکومت نے اپنے آپ کو صحافتی تنقید سے محفوظ کر لیا اور اسی بہانے ادب کی درگاہ پر بھی پھول چڑھ گئے۔ شہاب نامہ میں مصنف نے اعتراف کیا کہ گلڈ نے ادیبوں کی فلاح وبہبود کے لئے جو منصوبے بنائے، وہ سب ناکام ہو گئے۔ گلڈ کی آڑ میں ایوب خان کی ’بنیادی جمہوریت‘ اور   1962ءکے آئین کی تعریف ’ساقی‘، ’نقش‘ اور ’افکار‘ جیسے خالص ادبی رسالوں میں
شائع ہوئی۔
شہاب کے کارناموں میں پاکستان ٹائمز، امروز اور لیل و نہار جیسے ترقی پسند اخبارات کا سرکاری تحویل میں لیے جانا اور سنہ1963ءکا جابرانہ پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈینینس بھی شامل ہےں۔ پہلے مارشل لا کو ’انقلاب‘ کی قبا اوڑھانے والوں میں شہاب شامل تھے۔حفیظ جالندھری نے قصیدہ لکھا تھا کہ ’جب کہیں انقلاب ہوتا ہے، قدرت اللہ شہاب ہوتا ہے۔‘ شہاب صاحب نے ساری عمر سرکار کی نوکری میں
گزاری اور آخری عمر میں صوفی ہو گئے۔ ان کی اس شہرت میں بہت نمایاں کردار ممتاز مفتی ،اشفاق احمد، بانو قدسیہ اور احمد بشیر کا ہے۔ مفتی صاحب نے ایک ضخیم کتاب ’الکھ نگری‘ شہاب نامہ کے آخری دو ابواب کو بنیاد بنا کر لکھی۔ بانو قدسیہ اور اشفاق احمد نے بھی سلسلہ شہابیہ کی مجاوری کی۔ اجمل کمال نے سنہ 1990ءمیں الکھ نگری پر اپنے تبصرے ’ دنیا داری کی مابعد الطبیعات‘ ،میں لکھا:
” دیباچے میں انکشاف کیا گیا کہ ممتاز مفتی نے اپنی زندگی کے پہلے نصف میں عورت کو دریافت کیا جبکہ دوسرے نصف میں ان کی دریافت قدرت اللہ شہاب کی ذات تھی۔ عام لوگوں کے ذہن میں شہاب کا تصور ایک کہنہ مشق بیوروکریٹ کا ہے جس نے چاپلوسی کے فن لطیف میں اپنی مہارت کی ابتدا ئی منزلیں غلام محمد اور اسکندر مرزا کے شفیق سائے میں طے کیں، اس سے پیشتر کہ انہیں جنرل (بعد میں فیلڈ مارشل) کی سرکاری کٹلری میں ایک اعلیٰ مقام حاصل ہو سکے۔
پبلک شہاب کو پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے زیر اہتمام شائع ہونے والے اخبارات پر سرکاری قبضے اور پاکستان کی ادبی تاریخ کے عجوبے یعنی رائٹرز گلڈ کے قیام جیسی نادر تراکیب کے اصل خالق کے طور پر جانتی ہے۔ مفتی کا بہرحال کہنا ہے کہ پبلک کو کچھ پتہ نہےں۔ الکھ نگری کے مطالعے سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ شہاب دراصل ان معدودے چند رازوں میں سے ایک تھے جو کائنات میں روز اول سے آج تک وجود میں آئے ہیں ۔ شہاب نے جو کام کئے ، یا جن کاموں کی انجام دہی میں کلیدی کردار ادا کیا، احمق پبلک اپنی ناقص عقل کے ساتھ ان کی گرد کو بھی نہےں پہنچ سکتی۔ مثال کے طور پر پڑھنے والا سانس روک کر پڑھتا ہے کہ ہمارے پاک وطن کے دار لحکومت کو اسلام آباد منتقل کرنا شہاب کا کارنامہ تھا۔ یہ فیصلہ بھی شہاب نے تن تنہا کیا تھا کہ اس ملک کو اسلامی جمہوریہ کہا جائے اور اس سلسلے مےں فیلڈ مارشل کی خود ساختہ کابینہ کے تمام ارکان کی مخالفت کو پرکاہ سے زیادہ اہمیت نہ دی تھی۔مجھ یا آپ جیسے عام پڑھنے والے کے لئے یہ سب کچھ قبول کرنا شاید دشوار ہو ، جس کی وجہ ظاہر ہے یہ ہے کہ ہمیں اس غیر معمولی کتاب سے نبرد آزما ہونے کی مطلوبہ تیاری میسر نہےں۔ الکھ نگری سے پہلے ہمیں ’شہاب نامہ‘، ممتاز مفتی کی’لبیک‘، اشفاق احمد کی ’ذکر شہاب‘ اور ’سفر در سفر ‘ اور بانو قدسیہ کی ’مرد ابریشم‘ پڑھنی ہو گی۔‘ ‘
naseer ud dinاشفاق احمد ریڈیو پاکستان پر ’تلقین شاہ‘ کے کردار کے باعث مشہور ہوئے اور وقتی فیشن کے مطابق ترقی پسند خیالات رکھتے تھے۔ شہاب کی خدمت کے عوض یورپ میں مدرس بننے کا موقع ملا۔ ضیا کے نام پر ظلمت ابھری تو دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ پی ٹی وی کے لیے لکھے گئے ڈراموں اور اپنے پروگرام ’زاویہ‘ کی بدولت عوامی شعور پر اثر انداز ہوئے۔ پاکستانی نوجوانوں میں خلیل جبران اور پاو لو کوہلو (Paulo Coelho) کے مقبول ہونے سے پہلے ویسی ہی باتیں اشفاق احمد کیا کرتے تھے۔ وفات کے بعد ان کے اقوال زریں فیس بک کے ذریعے نئی نسل کو پدر سری نظام اور مذہب کی بنیاد پر قائم اخلاقیات سکھا تے ہیں۔
اشفاق احمد کی اہلیہ بانو قدسیہ نے گزشتہ دنوں ایک کتاب کی تقریب رونمائی کے دوران فرمایا کہ ”یہ جو بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے، ہمیں اس پر سخت اعتراض ہے۔ ہماری تہذیب اور مٹی کی خوشبو کا مقابلہ وہ لوگ کبھی کر ہی نہیں سکتے۔“ بانو قدسیہ تاریخی طور پر ایک مخصوص نظریہ حکومت کی دلدادہ رہی ہیں۔دور ایوبی کے عروج یعنی سنہ1962ء میں بانو قدسیہ کے زیر ادارت چھپنے والے شمارے’داستان گو‘ کا ایک شمارہ جنرل ایوب اور ہم نواﺅں کی تحاریر سے مزین ہوا۔اداریے میں مدیر صاحبہ نے لکھا: ’اصل جمہوریت ہماری قومی اور معاشرتی زندگی میں ہماری اپنی ہو کر پہلی دفعہ جلوہ افگن ہوئی ہے۔ گو مغرب کو شکایت ہے کہ جمہوری انداز نظام اختیار کرتے ہوئے پاکستان نے ان کے چلن کی پیروی کیوں نہیں کی لیکن آج تک ان کی اور ان کے تمدن کی پیروی کر کے ہم نے جو پھل پایا ہے، وہ کسی کی نظر سے پوشیدہ نہےں۔ ہمیں اور ہمارے ملک کو اسی آئین اور ایسی ہی طرز جمہوریت کی ضرورت تھی۔ اب آرزو یہ ہے کہ ہم سے اس کے ظاہری اور معنوی تقاضوں کی بجا آوری مےں کوئی کوتاہی نہ ہونے پائے اور ملت اسلامیہ کا یہ قافلہ اپنے روشن مستقبل کی طرف سرگرم سفر ہو جائے۔‘
بانو قدسیہ کی مشہور ترین تحریر ان کا ناول ’راجہ گدھ‘ ہے۔ اجمل کمال کے مطابق : ’راجہ گدھ‘ جنرل ضیا کے دور کی منافقانہ اخلاقیات کی تبلیغ کے لئے لکھا گیا اسلامی اصلاحی ناول ہے، لیکن چونکہ موصوفہ کو گمان ہے کہ سائنس بھی ان پر وحی کی طرح اترتی ہے، اس لئے انہوں نے نام نہاد رزق حلال اور جینیاتی تغیر کا نہایت اوریجنل نظریہ ایجاد کیا۔‘ راجہ گدھ میں سماجیات، جینییات، ہومیو پیتھی اور عورت کی نفسیات پر بانو قدسیہ کے نظریات موجود ہیں اور یہ کتاب مولانا طارق جمیل کے بیان میں باآسانی شامل کی جا سکتی ہے۔ ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی کے بعد سلسلہ شہابیہ نے قارئین کو ادب برائے اخلاقی اصلاح سے متعارف کروایا لہٰذا مذکورہ بالا مصنفین تحسین کے مستحق ہیں۔

راجہ اور گدھا” پر بصرے

  • اکتوبر 16, 2015 at 11:52 AM
    Permalink

    شکر کیجئے کہ ڈارون والا نا سہی، لیمارک و اسپنسر والا ہی سہی، جنینیاتی تبدیلی / ارتقا کا نظریہ راجہ گدھ کی راہ سے ادب براے ادب میں راہ پا گیا.

    Reply
  • اکتوبر 16, 2015 at 8:02 PM
    Permalink

    اگر سادگی، سادہ لوحی بلکہ اوور سمپلی کیشن میں کوئی اعلیٰ ڈگری ہوتی ہیں تواس تحریر کے مصنف کو فی الفور دے دی جائے۔ اس سے زیادہ کیا تبصرہ کیا جائے۔ صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ فاضل مدیر کو ایسی تحریریں لگانے سے پہلے ایک ایک نوٹ ضرور لگایا جائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ جو بچکانہ باتیں اس میں کہی گئی ہیں، وہ خود بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔ تاکہ پھر تبصرہ کرنے میں آسانی ہوسکے۔ یہ بھی عرض کرنا چاہتاہوں‌کہ اگر کوئی ہومیو ڈاکٹر ہے تو بریکٹ میں ہومیوڈاکٹر ضرور لکھنا چاہیے۔ ورنہ ایسی تحریروں کے خالق کے ساتھ لفظ ڈاکٹر پڑھ کر یونیورسٹیوں کے حوالے سے ہماری جھنجلاہٹ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
    ہاں اس سخت تبصرے پر معذرت نہ کرنے پر فاضل مدیر سے معذرت۔

    Reply
  • اکتوبر 18, 2015 at 10:43 AM
    Permalink

    you could have wrote far batter than this,,

    Reply
  • مارچ 9, 2016 at 1:48 PM
    Permalink

    Old -policy-to- get -fame-speak-against-famous-people.A-stupid-effort-on-part-of-the-homeo-pathic-Dr.--

    Reply
  • مارچ 9, 2016 at 1:51 PM
    Permalink

    ایسا لگ رھا ھے گدھا راجوں پرتبصرھ کر رھا ھے

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *