شراب پر تنقید کیوں؟

usman Qaziمحترم وقار احمد ملک صاحب نے شراب کے مضر اثرات کا مقدمہ نہایت شرح و بسط کے ساتھ قائم کیا ہے. تمام تر دلائل غالبا "فارماکالوجی" سے لئے گئے ہیں جو مختلف مرکبات کے کسی فرد کے جسم کے مختلف اعضا اور ان کے افعال پر اثرات کا جائزہ لینے کا علم ہے۔ نہایت وقیع اور اہم موضوع چھیڑا گیا ہے اور اس بحث کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے، خصوصا ً میڈیکل اینتھروپالوجی کی روشنی میں، جو الگ الگ سماجی، نسلی، اور اقتصادی (وغیرہ) گروہوں سے متعلق افراد پر ایک ہی مرکب کے متنوع اثرات پر بحث کرتی ہے. مثال کے طور پر، .... ”خواہش بیدار ہو گئی کہ سامنے جو بوڑھا آ رہا ہے اس کو دھکا دے کر بھاگ جاﺅں یا کھمبے پر چڑھ جاﺅں۔ موٹر سائیکل یا گاڑی کو پوری قوت سے بھگانے کی خواہش.... کسی عورت کا پرس چھیننے ‘ یا دوپٹہ لے اڑنے کی خواہش.... بھرے مجمعے میں گالیاں دینے کی خواہش.... یا اپنے ناپسندیدہ لوگوں کو سامنے دیکھ کر [..] گالیا ں دینا.... “ اس قسم کے ناپسندیدہ افعال کیا غیر شرابیوں سے سرزد نہیں ہوتے؟ کیا شراب پی کر ایسی حرکات کا چلن کچھ معاشروں میں دوسروں کی نسبت زیادہ عام ہے، یا ہر جگہ ان کی شرح وقوع ایک سی ہے؟ کیا مشروب میں شامل الکوحل کی مقدار کا ان رویوں کے وقوع پزیر ہونے سے کوئی تعلق ہے؟ کیا انفرادی سطح پر ان نا پسندیدہ مظاہر کا کوئی تعلق متعلقہ سماج میں قانون کی پاسداری سے بھی ہے؟ بر سبیل تذکرہ، بہت کچھ چاے ، کافی، تمباکو، گوشت، خوردنی تیل، سفید شکر، سمندری نمک وغیرہ کے جسم اور اس کے اعضا پر اثرات اور ان کے حسی و سماجی مضمرات کے بارے میں بھی لکھا جا چکا ہے. اور ان میں سے بھی اکثر مضر، یا کم از کم ناپسندیدہ ضرور ہیں. ان کے متعلق بھی چندے بات ہو جائے.۔

شراب پر تنقید کیوں؟” پر بصرے

  • اکتوبر 24, 2015 at 3:59 AM
    Permalink

    اسے کہتے ہیں کٹ حجتی جو وقت ضائع کرنے کی وجہ بنتا ہے۔

    Reply
  • اکتوبر 24, 2015 at 12:34 PM
    Permalink

    وقار اجمد ملک صاب کی خدمت میں صرف اتنا عرض ھے " ارے کم بخت تو نے پی ھی نہیں

    Reply
  • اکتوبر 25, 2015 at 3:01 PM
    Permalink

    محترم میں نے آج تک چائے سے “ مدہوش“ کسی دوست کے ساتھ بیٹھ کر الجھن یا کراہت محسوس نہیں کی اور نہ یہ کہ اس کی کسی حرکت کی وجہ سے اپنی عزت پر انگلی اٹھنے کا خوف محسوس کیا۔ مگر کسی شراب پیتے ہوئے شخص کے ساتھ بیٹھنا تو کیا وہ گھر سے بھی پی کر آیا ہو تو مجھے شدید الجھن محسوس ہوتی ہے۔ بل کہ باقایدہ ڈر لگتا ہے۔ اور کوئی مجھ سے بدتمیزی تو شاید نہیں کر سکا مگر یہ لوگ مجلس میں موجود کسی نہ کسی شخص سے ضرور الجھ پڑتے ہیں۔ اور سر راہ تو اکثر شرابیوں کو غل غپاڑہ کرتے پایا ہے اور وہاں سے جلد گزر جانے میں ہی عافیت محسوس کی ہے۔ جب کہ چینی، نمک، کافی، چائے سے “مدہوش“ آج تک کوئی نہیں دیکھا۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *